A+ R A-
28 مئی 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

ایڈمن

ایڈمن

لاہور: 5 ماہ کی تاخیر کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے بالآخرکھلاڑیوں کے لئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا جس میں کئی کھلاڑیوں کو حیران کن انداز میں نوازا گیا ہے جبکہ کئی کی تنزلی ہوئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ سینٹرل کنٹریکٹ کا اطلاق یکم جنوری 2014 سے ہوگا ، کنٹریکٹ کے تحت کھلاڑیوں کے معاوضے میں ٹیسٹ کے لئے 25 فیصد جبکہ ون ڈے میچز کے لئے 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ 31 کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ کی 4 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اے کیٹیگری میں مصباح الحق، محمد حفیظ، شاہد آفریدی، سعید اجمل اور جنید خان شامل ہیں۔ بی کیٹیگری میں عمر گل، عمر اکمل، احمد شہزاد اور یونس خان کو رکھا گیا ہے۔ سینٹرل کنٹریکٹ کی سی کیٹیگری میں اسد شفیق، اظہرعلی، عدنان اکمل، خرم منظور، ناصر جمشید اور عبدالرحمان شامل ہیں، ڈی کیٹیگری میں صہیب مقصود، سرفرازاحمد، بلاول بھٹی، شرجیل خان، ذوالفقار بابر، فواد عالم، احسان عادل، محمد عرفان، وہاب ریاض، رضا حسن، عمر امین، حارث سہیل، راحت علی، شان مسعود، محمد طلحہ اور انورعلی شامل ہیں، اس کے علاوہ شعیب ملک، کامران اکمل، عمران فرحت، توفیق عمر، اعزاز چیمہ، فیصل اقبال کو ڈراپ کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی کے موجودہ چیرمین نجم سیٹھی نے دعوی کیا تھا کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی اور ان کی فٹنس کو مد نظر رکھتے ہوئے سینٹرل کنٹریکٹ دیا جائے گا تاہم یونس خان کی تنزلی جبکہ عمر امین اور عبدالرحمان کو کنٹریکٹ دیاجانا حیران کن ہے۔

تحریر : کمال عبد الجمیل

سولہ  برس قبل آج ہی کے دن پاکستان اقوام عالم میں ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ یہ مقام چاغی میں ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کے ساتویں اور امت مسلمہ کے پہلے ایٹمی طاقت بننے پر پاکستان کو حاصل ہوا۔ اسوقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جب قوم سے اپنے خطاب میں یہ اعلان کردیا کہ پاکستان کہ یکے بعد دیگرے سات ایٹمی دھماکے کرکے ہندوستان سے حساب چکتا کر لیا ہے تو پاکستان بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔ شکرانے کے نوافل ادا کئے گئے، خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ ہر پاکستانی کے دل میں جوش اور ولولہ مزید تازہ ہوگیا ۔ امت مسلمہ کو بھی اپنے مد مقابل کے سامنے سر فخر کے ساتھ بلند کرنے کا موقع ہاتھ آیا۔
اس تاریخی دن کو " یوم تکبیر " کا نام دیکر ہر سال نہایت عقیدت اور جذبے کے ساتھ منایا جاتاہے۔ 28مئی 1998 ؁ء کوبلوچستان کے ضلعی چاغی کے پہاڑوں میں کئے گئے جوابی ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کے دشمن بھارت کے دانت کھٹے کرنے کے ساتھ ساتھ صیہونی ریاست اسرائیل کو بھی واضح پیغام پہنچایا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تاراج کرنے کے خواب دیکھنے والے دنیاکے نقشے سے مٹ جائینگے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے وہ بڑھتے ہوئے قدم جو پاکستان کی طرف گامزن تھے یکدم بیڑی بند ہوگئے۔ ہندوستان نے مئی 1998 ؁ء کے اوائل میں پوکھران میں ایٹمی دھماکے کرکے دھمال ڈالا تھا اور یکدم انکے لہجے میں ترشی اور جارحیت آگئی ۔ ہندوستانی وزراء پاکستان کو تہس نہس کرنے کے بیانات دینے لگے، ہندوستانی مسلح افواج کی حرکتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر بھی ہندوستانی جارحیت ایکدم تیز تر ہوگئی اور پاکستان کی سالمیت کو شدید خطرات واضح نظر آنے لگے تو مجبوراً پاکستان کو تمام بین الاقوامی دباؤ کو رد کرتے ہوئے اپنے ایٹمی صلاحیتوں کو واضح کرنا پڑا۔ امریکہ کے صدر بل کلنٹن آخر ی لمحے تک وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کی کوششیں کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے پاکستان ایٹمی قوت بن گیا اور نعرہ تکبیر کی صداؤں سے ایسا گونجا کہ ہندوستان کے پر لرزہ طاری ہو گیا۔ اسی وجہ سے اس دن کا نام بھی " یوم تکبیر"رکھا گیا۔ اس دن پر پورے پاکستانی قوم کو فخر ہے۔اس دن ملک بھر میں اس حوالے سے پروگرامات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور مساجد میں پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔
پاکستان نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوششوں کا آغاز 1974 میں بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد کیا اور پھر 28 مئی 1998 میں پاکستان نے بلوچستان میں چاغی کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر کے باقاعدہ طور پر ایک ایٹمی صلاحیت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے پاکستان کو عالمی پابندیوں کو سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود پاکستان دنیا خود کو دنیا بھر میں ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر منوایا۔ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے ایٹمی صلاحیت میں مسلسل ترقی کی جو اس کے دشمنوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی اور پاکستان دشمن قوتیں اب بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سوات کا ایک خاندان مینگورہ سے کالام منتقل ہو رہا تھا کہ ان کا ٹرک پشمال کے قریب بے قابو ہو کر دریائے سوات میں گر گیا جس کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق جب کہ 7 زخمی ہو گئے، مرنے والوں میں 10 بچے، 5خواتین اور ایک مرد شامل ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں کچھ افراد لاپتہ بھی ہوئے ہیں جن کی تلاش کے لئے امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔
امدادی ٹیموں کے اہلکاروں اور مقامی لوگوں نے حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو کالام کے ہسپتال منتقل کیا۔

تحریر: کمال عبد الجمیل

معروف صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا جسمیں وہ زخمی ہو گئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حامد میر پر حملے کے فوراً بعد انکے بھائی عامر میر اور انکے ادارے جیو کی طرف سے ملک کے اہم ترین ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس پر براہ راست الزام لگایا گیا نہ صرف ادارے بلکہ اس اہم قومی ادارے کے سربراہ حاضر سروس تھری سٹار جنرل146146 ظہیرالاسلام 145145کا نام لیا گیا۔ یہ سب کچھ بھونچال سے ہر گز کم نہیں کیونکہ آئی ایس آئی ایک ایسا ادارہ ہے جس سے ہر محب وطن پاکستانی کو نہایت ہی جذباتی لگاؤ اور محبت ہے۔ یہ محبت اور عقیدت اور بھی زیادہ ہوتی ہے جب اس ادارے کے خلاف مختلف عالمی طاقتیں اور ادارے بات کرتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواہشمند عالمی طاقتوں کی اولین خواہش اور کوشش یہی ہے کہ اس ہم قومی ادارے کو بدنام کیا جائے اور عوام کو اس سے متنفر کیا جائے تاہم ایسے حالات میں اس ادارے سے لگاؤ رکھنے والے پاکستانیوں کی بھی کمی نہیں جو ایسے پراپیگنڈوں اور ایسے کوششوں کا مختلف فورم پر جواب دیتے رہتے ہیں۔
حامد میر بھی اس ملک کے شہری ہیں اور ایک اہم نشریاتی ادارے میں کلیدی پوزیشن پر فائز ہیں، انکی اہمیت ، انکی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انکے خلاف بھی مختلف محاذوں پر باتیں ہوتی رہی ہیں، ان پر مختلف الزامات لگتے رہے ہیں۔ آزادی اظہار رائے کو استعمال کرتے ہوئے میر صاحب کے مختلف خیالات اور پروگرامات کو نا پسند بھی کیا جاتا رہا ہے ، مجھے بذات خود میر صاحب کے کئی ایک پروگرامات اور مندرجات سے اختلاف رہا ہے بالخصوص انہوں نے ملالہ یوسفزئی کو جسطرح ہائی لائٹ کرنے کی کوشش کی جو آگے چل کر پاکستان کے لئے کلنک بن گئی۔ کسی زمانے میں اس ناچیز کی بھی میر صاحب کیساتھ کافی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب میر صاحب روزنامہ اوصاف کے ساتھ منسلک تھے اور یہ ناچیز بھی اسلام آباد کے ایک اخبار اور پشاور کے ایک ہفتے روزہ کے لئے رپورٹنگ کرتا تھا۔ ان ملاقاتوں میں ان سے کافی معلومات ملیں، نصیحتیں، راہنمائی اور مشورے بھی ملے۔ غرض انہوں نے کافی تعاون بھی کیا۔ پھر میر صاحب سے رابطے ختم ہو گئے اور کوشش بسیار کے باوجود میر صاحب سے ملنا ممکن نہ ہوا۔ تب جا کے پتہ چلا کہ میر صاحب بھی اس ملک میں 146146 اہم ترین145145 شخصیت بن گئے ہیں۔
مکرر یہ عرض کرتا ہوں کہ حامد میر صاحب بھی اس ملک کے ایسے ہی شہری ہیں جیسے جنرل ظہیرالاسلام صاحب ہیں ۔ہم دونوں کو اس ملک کا اثااتھ ہر لحاظ سے ہمدردی ہے مگر بغیر کسی تردد کے اس امر کا اقرار بھی ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں کہ ملک کے اہم ترین ادارے اور ادارے کے سربراہ کیخلاف براہ راست الزام لگانا مناسب نہیں کیونکہ اسوجہ سے کئی اور مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ جیو نیوز کے انتظامیہ کو نہایت محتاط انداز اپنانا چاہئے تھا اور عدالتی کمیشن کے انکوائری اور اسکے رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے تھا ۔ اس سارے عمل میں ملک بھر کے صحافی ، اخبارات، سول سوسائٹی، سیاستدان یعنی سب انکے ساتھ کھڑے رہتے مگر ملک کے اہم ترین ادارے اور اسکے سربراہ پر ابتدائی الزام تراشی کے بعد مسلسل اس کے تکرار نے صحافتی اداروں اور تنظیمات کو بھی تقسیم کرکے رکھدیا ہے۔ گو کہ حامد میر صاحب پر حملے اور اس کے غیر جانبدارانہ انکوائری کے حوالے سے تمام مکتبہ فکر ایک ہی صفحے پر ہیں مگر آئی ایس آئی اور اسکے سربراہ کو اس میں ملوث کرنے اور کسی انکوائری سے قبل بار بار اس چیز کو ہائی لائٹ کرنے سے ایک نئے مسئلے نے جنم لیا ہے۔
میرے خیال میں اب آئی ایس آئی سمیت دیگر اہم قومی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سارے سازش کو بے نقاب کریں کہ کن لوگوں نے حامد میر پر حملہ کیا اور اسکے پیچھے کیا عوامل تھے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ اس سلسلے میں کسی سے بھی رعایت نہ برتی جائے۔

جمعرات, 22 مئی 2014 07:36

خواتین کا عالمی دن

تحریر: نگہت کمال (دروش)

آج 8مارچ ہے اور آج کا دن دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن مختلف ورکشاپ، آگاہی پروگرامات ، سیمینار وغیرہ منعقد

کرائے جاتے ہیں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، گذشتہ سالوں میں ہونیوالے اہم واقعات کا احاطہ کیا جاتا ہے، خواتین پر ہونے والے مظالم ، خواتین کے مشکلات اور مسائل کو اجاگر کرنے کی باتیں ہوتی ہیں اور شامل ڈھلے سب کچھ ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ بہر حال 8مارچ کو عالمی سطح پر خواتین کے ساتھ منسوب کرکے شائد اقوام عالم نے معاشرے میں خواتین کے کردار اور اہمیت کو تسلیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاید کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ اس سلسلے میں دنیا کے ایک معقول طبقے کو تحفظات بھی ہیں اور شکایات بھی ہیں۔ آج جو لو گ خواتین کے حقوق اور خواتین کے مسائل کے بارے میں گلے پھاڑ پھاڑ کر چیختے ہیں اگر انہی کے معاشرے کی طرف دیکھا جائے تو وہاں خواتین کی جتنی تضحیک ، استحصال اور حقوق کی پامالی ہوتی ہے وہ مہذب معاشرے کے گال پر تھپڑ سے ہر گز کم نہیں۔
خواتین معاشرے کا اہم اور لازمی حصہ ہیں اور انہیں اہمیت آج سے پندرہ سو سال قبل ہادی بر حق حضور سرور کونین ؐ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قانون کے تحت مل چکی ہیں۔ عورت جسے معاشرے میں ہر قسم کے ظلم، زیادتی اور نا انصافی کا شکار بنایا جاتا رہا، صنف نازک جوہر وقت زیر عتاب رہتی رہی۔ اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت اور وقعت نہیں تھی۔ آمد مصطفیؐ اور شریعت محمدی ؐنے خواتین کو اذیت، بے اعتناعی اور بے رحمی کی زندگی سے چھٹکارا دلائی۔ عورت جسے حقیر سمجھی جاتی تھی اور پیدا ہوتے ہی زندہ دفنائی جاتی۔۔۔ اسلام نے اسے ماں کا درجہ دیکر جنت اسکے قدموں تلے رکھدی، بیٹی کا رتبہ دیکر اسے رحمت خداوندی قرار دیا اور بہو کی حیثیت سے قابل احترام اور خاندان کی عظمت قرار دیا۔ انہی تعلیمات کی روشنی میں مسلمان خواتین نے ہر وقت معاشرے کی تعمیر اور اصلاح میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا مثبت اور جاندار کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ مکہ مکرمہ میں ایک جگہ ہے جسے زندہ قبرستان کہا جاتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں پر زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا۔ اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق برابر قرار پائے ہیں۔آج کا مغرب انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کے تحت عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی ؐ کردیا
جب ہمارے نبی پاک ؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین اسلام لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند و بالا ہو گیا کہ عبادات و معاملا ت بلکہ زندگی اور موت کے ہر مرحلے اور ہر موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں۔ مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہو گئے، اسلامی شریعت نے عورتوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کی اور انکے حقوق کی حفاظت کیلئے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں۔ عورتوں کو مالکانہ حقوق حا صل ہو گئے چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں، اپنی تجارتوں، اپنی جائیدادوں کی مالک بنا دی گئیں اور اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اولاد اور شوہر کی میراث کی بھی حقدار قرار دی گئیں۔ غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے بھی زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں آمد اسلام کے بعد مردوں کے دلوں کا سکون اور انکے گھروں کی ملکہ بن گئیں۔ آج خواتین کے حقوق اور ترقی کے نام پر کام کرنے والے ادارے یہ سب بھول کر یا دانستہ طور پر پس پشت ڈال کر اسلام کو خواتین کی پسماندگی کا ذمہ دار قرار دیتے نہیں تھکتے۔ اسلام کے عادلانہ اور با عزت نظام حیات کو دوقیانوسی قرار دینے والے مغرب زدہ افراد یا ادارے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو ایک با عزت مقام دیکر گھروں کی ملکہ بنایا لیکن جدت پسند معاشرہ ترقی کے نام پر عورت کی تذلیل کو آج بھی قبل از اسلام کے اقوام کی طرح جاری رکھنے کے درپے ہے اور عورتوں کو تشہیر کا آلہ اور ذریعہ بنا کر تحقیر کی حدوں کو پار کیا جا رہا ہے۔ یہ عجیب منطق ہے کہ ایک عورت اپنی دل بخوشی پردہ کرے تو اس پر قدغن لگائی جاتی ہے لیکن مخلوط میراتھن ریس، مخلوط رہن سہن کی حوصلہ افزائی کرکے ترقی کا خود ساختہ نام دیا جاتاہے۔ عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنیوالوں کو اس جانب توجہ دینی چاہئیے کہ ایسی خواتین کی نفسیاتی حیثیت کیسے رہتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایسے خواتین نفسیاتی امراض اور مایوسی کا شکار رہتی ہیں۔ عورت کوصرف کمائی کا ذریعہ بنانا یا اسکو موقع فراہم کرنے سے اسے اسکا حق نہیں ملتا بلکہ عورت کا حق اسے اسکے ضمیر اور نفسیات کیمطابق اسکی عزت و توقیر کی فراہمی سے اسکا حق دوبالا ہو تا ہے۔مقصد یہ ہے کہ صرف ایک دن کو عورت کے نام سے منسوب کرکے عورتوں کے حقوق اور ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر عورتوں کو حقیقی معنی میں خوشحال کرنا مقصود ہے تو اسکے لئے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ؐ نے آ ج سے پندرہ سو سال پہلے لائحہ عمل فراہم کی ہے جو کہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری نسل انسانی کیلئے مشعل راہ ہے اسی سے رجوع کرکے معاشرے میں خواتین کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے اور خواتین پر ہونیوالے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔
بڑے بڑے ہوٹلوں میں سیمینار ، ورکشاپ منعقد کرنے سے تھر کے صحرا میں بھوک اور فاقے سے مرنے والی خواتین کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔

پشاور(ویب ڈیسک) سروس ٹریبونل خیبر پختونخوا پشاورنے سول سیکر ٹریٹ کے افسران کو عدالتی فیصلے کے مطابق ترقی نہ دینے اور عدالت احکامات کے باوجود جواب نہ دینے پر سیکر ٹری سٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جب کہ 23جون کو جواب طلب کر لیا سروس ٹریبونل خیبر پختونخوا نے سیکشن آفیسر اعظم خان کی جانب سے دائر اپیل درخواست کی سماعت کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سول سیکر ٹریٹ کے 40افسران کو 22اگست2001کو سیکش آفیسر گریڈ سترہ میں کرنٹ چارج دے کر تعینات کیا گیا اور 2دسمبر 2003کو 45افسران کو ایکٹنگ چارج میں سیکشن آفیسرز تعینات کیا گیا جن کو بعد ازاں 2005,06,08میں باقاعدہ طور ترقی دے کر ریگولر ترقی میں 87افسران ترقی پاگئے لیکن رولز کے مطابق ایکٹنگ چارج کی معیاد 6ماہ ہوتی ہے جب کہ 2001سے افسران کی آسامیاں بھی خالی ہیں اس کے باوجود ان افسران کو کسی قسم کی ترقی نہیں دی گئی اور ان افسران سمیت درخواست گذار کی مسلسل 2001سے ترقی شدید متاثر ہوئی ہے ان کے بعد آنے والے افسران گریڈ 20تک ترقی پاچکے ہیں اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اور ان کو ان کا آئینی حق نہیں دیا جس کے خلاف درخواست گذار نے سروس ٹریبونل میں درخواست دائر کی اور سروس ٹریبونل نے 21فروری2013کو درخواست گذار کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کو احکامات جاری کیے کہ درخواست گذار کو اس وقت سے ترقی دی جائے جس وقت سے یہ آفسران کی آسامیاں خالی تھیں لیکن اس فیصلے پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا سروس ٹریبونل نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے اور بار بار نوٹس کے باوجود جواب جمع نہ کرنے پر سیکر ٹری سٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے ان کی تنخواہ بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جب کہ 23 جون کو جواب طلب کر لیا ۔اس سلسلے میں سول سیکر ٹریٹ افسران نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ سالوں سے ملازمت کرہے ہیں 2001سے آسامیاں موجود ہونے کے باوجود انہیں ترقی نہیں دی گئی جب کہ ان کے بعد آنے والے افسران ترقی پا کر گریڈ 20تک پہنچ چکے ہیں اور وہ ابھی تک صرف گریڈ 18میں کام کرہے ہیں ان کی ترقی کا عمل 2001سے روکا اور بری طرح متاثر ہو ا ہے ۔

نیو یارک(ویب ڈیسک) سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے صارفین کیلئے لوگوں کے پیغامات خاموش کر دینے والا بٹن متعارف کرادیا ہے ،یعنی جن فالورز کے پیغامات میںآپ کو دلچسپی نہ ہو تو اسے اپنی لسٹ سے ہٹانے کی بجائے میوٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔ 
بیاں میں کہا گیا ہے کہ جس صارف کو ااپ میوٹ کریں گے اسے اس بات کا علم نہیں ہو سکے گا اور آپ جب چاہیں اسے پیغامات دوبارہ موصول بھی کر سکتے ہیں۔
یہ نیا فیچر آئندہ چند ہفتوں میں دنیا بھر میں موجود ٹوئٹر صارفین کو دستیاب ہو جائے گا۔

معروف مذہبی اور سماجی کارکن قاری نظام الدین نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ حکومت جنگ گروپ اور جیو نیوز پر فی الفور پابندی لگائے۔ اس میڈیا گروپ نے اب تک اپنے مغربی اور ہندو آقاوٗں کے کہنے پر اسلام ،نظریہ پاکستان اور پاکستان کے دفاعی اداروں کی بیخ کنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ جیو نیوز نے پہلے پاکستانی انٹیلی جنس اور فوج پر شدید قسم کے الزامات لگائے اور پورے عالم میں پاکستانی دفاعی اداروں کو بدنام کیا۔ یہ آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی کہ اپنے ایک پروگرام میں اہلبیت کےشان میں گستاخی کی۔اس طرح مسلمانوں کے جزبات کو شدید دھچکا پہنچادیا۔ اس معاملے پر کوئی مسلمان چپ نہیں رہ سکتا اور حکومت کو آگاہ کیا جاتاہے کہ مذکورہ میڈیا گروپ کو سخت سے سخت سزادیجائے ۔
ساتھ ساتھ مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ مذکورہ میڈیا گروپ کے ٹی وی چینل جیو اور دوسرے تمام فحاشی پھیلانے والے چینلوں کا بائیکاٹ کریں۔یہ شیطانی میڈیا پہلے فحاشی پھیلاتے ہیں اور مسلمانوں کے دین وایمان کو کمزور کرتے ہیں اور پھر شعائر اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اور شان انبیاٗ ، شان صحابہ اور علمائے کرام کی تضحیک پر اتر کر کھلم کھلا کفر اور ارتداد کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں۔

 چترال ( شہریار بیگ نمائنداحتساب) پانی سے بجلی پیداکرنے کا کام اب تک لیا جاتا رہا ہے لیکن سرحد رورل سپورٹ پروگرام (ایس آر ایس پی) نے پانی کو تعلیم کے حصول کا ذریعہ بناکر جدت پیدا کردی ہے جس سے چترال کی دوردراز وادیوں میں قدرت کی اس عظیم تخفے کو رات کی تاریکیوں کو روشنی میں بدلنے کے ساتھ ساتھ ذہنوں کو بھی منور کرنے کا اہتمام کیا جاسکے گا۔ جمعرات کے روز چترال کے وادی بمبوریت کے گاؤں احمد آباد میں ایس آر ایس پی کے چیف ایگزیکٹیو افیسر شہزادہ مسعود الملک نے 30کلوواٹ پیدواری گنجائش کے حامل پن بجلی گھر کی افتتاح اور وادی کے ساروجالیک گاؤں میں پہلے سے قائم بجلی گھر کی توسیع کے موقع پر الگ الگ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے مقامی کمیونٹی کے افراد کے رگوں میں اُس وقت خوشی کی لہریں دوڑا دی جب اس نے اعلان کردیا کہ ان بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے پاؤر اسٹیشن کی مرمت و دیکھ بال سے بچ جانے والی رقم کو تعلیمی وظائف کے لئے استعمال میں لایا جائے گا تاکہ ان وادیوں میں کوئی بھی محض مالی کمزوری کی بنا پر تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔ چیلم جوشٹ کے موقع پر وادی بمبوریت کے کالاش اور مسلم کمیونٹی دونوں کے لئے خوشی کا اضافے کا سبب بننے والے ان تقریبات میں فرانس کے ڈونر ایجنسی اے۔ایف۔ ڈی کے کنٹری ڈائرکٹر ڈینس کیسیٹ بھی موقع پر موجود تھے جو کہ ایم۔این۔ چترال شہزادہ افتخارالدین کی دعوت پر چترال آئے ہیں اور پن بجلی کے حوالے سے اہالیاں چترال کو خوشخبری لائے ہیں کیونکہ گنکورینی سنگور میں واپڈا کے بوسید ہ پن بجلی گھر کو اپ گریڈ کرکے چار میگاواٹ کرنے کے لئے فرانس کی اس ڈونر ایجنسی نے ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے کی خطیر رقم کی امداد کی منظوری دی ہے۔ ان تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ مسعود الملک نے کہا کہ ایس آر ایس پی یوروپین یونین کی مالی معاونت سے پیس (PEACE)پراجیکٹ کے تحت چترال کے چند منتخب یونین کونسلوں میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھانے میں مصروف ہے جن میں چھوٹے پن بجلی گھر وں کی تعمیر سب سے اولین فوقیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اگست تک ضلعے کے تمام چوبیس یونین کونسلوں میں پیس پراجیکٹ کا دائرہ کار بڑہایا جائے گا اور کسی بھی علاقے میں 85فیصد افراد کی کسی ترقیاتی پراجیکٹ پر اتفاق رائے ہونے پر اس منصوبے پر کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے عمل میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں دونوں ایس آر ایس پی کو معاونت فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں قائم مثالی امن کا کریڈٹ یہاں کے پرامن عوام کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پولیس کوجاتا ہے جوکہ اپنی جانوں پر کھیل کر یہاں امن قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین نے مائیکروہائیڈروپاؤر پراجیکٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ چترال کی ترقی میں بجلی کی پیدوار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور یوروپین یونین کا اس سلسلے میں کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے فرانس حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ چترال میں واپڈا کے ہائیڈرو پاور اسٹیشن کو اپ گریڈ کرنے میں ان کی درخواست پر مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے کے لئے ڈونر ایجنسی کے کنٹر ی ڈائرکٹر کو چترال بھیج دیا ہے جس نے بجلی گھر کا معائنہ کرلیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم کی خصوصی احکامات کے تحت ٹیلی نار کے بتیس مقامات پر ٹاؤرز کام شروع کریں گے جس سے مواصلات کے شعبے میں انقلا ب برپا ہوگاجبکہ چترال ریڈیو اسٹیشن میں طاقتور ٹرانسمیٹر کی   تنصیب کے ذریعے اس کی نشریات کو ضلع بھر میں ممکن بنایا جارہا ہے۔ چترال میں نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر انعام ا لحق نے کہا کہ انسانیت کے کام آنا ہی انسانیت کا معراج ہے اور ایس آر ایس پی جیسے ادارے اس مقام پر فائز ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف ترقی کے عمل میں ایس آر ایس پی کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب سے ایس آر ایس پی کے ڈسٹرکٹ پراجیکٹ منیجر طارق احمد نے کہا کہ وادی بمبوریت میں تقریباًایک ہزار گھرانوں کو ایس آر ایس پی کی ان مائیکروہائیڈروپاؤر پراجیکٹوں سے بجلی کی سہولت میسر آئے گی ۔ انہوں نے کہاکہ بہت جلد ہی بمبوریت کے باقی ماندہ گھرانوں میں بھی بجلی پہنچائی جائے گی۔ اس موقع پر ایس آر ایس پی کے ممبر بورڈ احسان اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔ ایس آر ایس پی کے ضلعی سطح کے سینئر افسران صلاح الدین صالح، فخرالدین، انجینئر الطاف حسین شاہ، جاوید احمد، شاہ فیصل،عطاء الرحمن اور دوسرے بھی ان تقاریب میں موجود تھے۔ مقامی کمیونٹی کی طرف سے سابق یونین ناظم عبدالمجید، حاجی رحمت کریم، غلام حضرت انقلابی ایڈوکیٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2014-15کے بجٹ میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے مختلف شعبوں کے ذریعے دی جانے والی زراعانت (سبسڈی) میں 37 ارب روپے کمی کردی ہے۔

 

بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2013-14کے لیے سبسڈی کا ہدف 240ارب 43کروڑ روپے مقرر کیا گیا تاہم عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کے لیے واپڈا، کیپکو اور کے الیکٹرک (سابق کے ای ایس سی) کے ذریعے سبسڈی میں غیرمعمولی اضافے کے سبب 2013-14 میں سبسڈی کی مالیت 323ارب روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے سبسڈی کا ہدف گزشتہ سال کے ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں37 ارب روپے کم کرکے 203 ارب 24کروڑ روپے مقرر کیا ہے جو جی ڈی پی کے 0.7فیصد کے برابر ہے

۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران حکومت بجلی پر 185ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے گی، مالی سال 2013-14کے دوران بجلی پر 309.4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ بجٹ میں220ارب رکھے گئے تھے، آئندہ مالی سال واپڈا اور پیپکو کے ذریعے 156.10ارب روپے اور کے الیکٹرک کے ذریعے 29ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی، سال 2013-14 کے لیے کے الیکٹرک کے ذریعے سبسڈی کا ابتدائی تخمینہ 55ارب روپے لگایا گیا تھا تاہم 64.31ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، اسی طرح واپڈ اور کیپکو کے لیے ابتدائی تخمینہ 165ارب روپے تھا جو سال 2013-14کے دوران بڑھ کر 245.10 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

 

حکومت نے رمضان پیکیج اور سستی چینی کی فراہمی کے لیے سبسڈی کی مالیت 1 ارب روپے کے اضافے سے 7ارب روپے مقرر کی ہے جس میں سے 3 ارب روپے رمضان پیکیج اور 4ارب روپے سستی چینی کی فراہمی کے لیے شوگر ملز کو دی جائیں گے، سال 2013-14کے دوران رمضان پیکیج پر2 ارب روپے اور سستی چینی پر 4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، عوام کو سستی گندم کی فراہمی کیلیے سبسڈی کی مالیت 1ارب روپے کمی سے 8ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔

 

یہ سبسڈی پاسکو کے ذریعے دی جائیگی، مالی سال 2013-14کے لیے سستی گندم کی فراہمی پر سبسڈی کا تخمینہ 9ارب روپے لگایا گیا جو 8ارب روپے تک محدود رہا، آئل ریفائنریز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے عوام کو 2ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی، فاٹا میں سستی گندم کیلیے 29کروڑ 30لاکھ روپے، گلگت بلتستان میں سستی گندم کیلیے 85کروڑ روپے جبکہ گلگت بلتستان میں ہی نمک پر 50 لاکھ روپے کی سبسڈی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement