A+ R A-
23 ستمبر 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

ایڈمن

ایڈمن

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جہلم کے قریب پاکستان کی تاریخ کاسب سے بڑاتیل کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس سے روزانہ ساڑھے پانچ ہزار بیرل تیل کی پیداوار کاامکان ہے ۔

 

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارتِ پٹرولیم کے ساتھ غوری جوائنٹ وینچر پر کام کرنیوالی کمپنی مری پٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ گاﺅں دھیمک میں غوری ایکس ون کے تیل کے کنویں سے پٹرول کا ایک اہم ذخیرہ دریافت ہواہے جس سے علاقے میں ہائیڈروکاربن کے ذخائر کی تلاش کے لیے راستہ کھل گیا ہے اورغوری X-1 نامی کنویں کے حوالے سے لگائے گئے پیداواری تخمینے کے مطابق یہاں سے 5,500 بیرل تیل روزآنہ حاصل ہوسکے گااور توقع کی جارہی ہے کہ یہ ملک بھر میں تیل کی پیدوار کا سب سے بڑا کنواں ثابت ہوگا جس سے رواں ماہ کے آخر تک پیداوار بھی شروع ہوجائے گی ۔

 

کمپنی کاکہناہے کہ 3800 میٹر گہرے غوری کنویں سے ہمیں ایک تاریخی کامیابی حاصل ہوئی، یہ پوٹھوہارکے سطح مرتفع کے خطے میں ہائیڈروکاربن کے ذخیرے کی پہلی دریافت ہے۔غوری X-1 کے کنویں سے حاصل ہونے والے تیل کی اے پی آئی گریویٹی 22ڈگری ،1100 پی ایس آئی اور کنویں کا گیج یا چوک سائز 32/64 ہےجبکہ وادی سون سکیسر میں اس کے بہاو¿ کی شرح پانچ ہزار پانچ سو بیرل روزانہ ہے۔واضح رہے کہ 22 ڈگری کی اے پی آئی گریویٹی کا خام تیل ایک بھاری خام تیل مانا جاتا ہے۔مذکورہ کمپنی دھیمک آئل فیلڈ سے جی ٹی روڈ پر سوہاوہ کے قریب ایک فلنگ پوائنٹ تک چودہ کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائے گی تاکہ وہاں سے ٹینکرز کے ذریعے اٹک ریفائنری کو تیل کی ترسیل کی جاسکے۔

میرانشاہ ،پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) باجوڑ میں دھماکے میں دو سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے جبکہ وزیرستان میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام بنادیاگیا،

 

اُدھر خیبرایجنسی سے ایک افغان نژاد برطانوی شہری کو حراست میں لے لیاگیاہے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق باجوڑ کے علاقے نواگئی میں دواہلکار پیدل جارہے تھے جنہیں سڑک کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایاگیا۔ دھماکے کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر شہید اوردوسرازخمی ہوگیا،زخمی اور شہید کے جسد خاکی کو مقامی ہسپتال منتقل کردیاگیاجبکہ فورسزکی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ۔

 

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق باڑہ کمرنگ اور پاک افغان سرحد کے قریب بارودی سرنگیں نصب تھیں ، دونوںاہلکار شہید ہوگئے ہیں ۔اُدھر شمالی وزیرستان میں غلام خان روڈ پر دہشتگردی کامنصوبہ ناکام بناتے ہوئے سڑک کنارے نصب بارودی مواد ناکارہ بنادیاگیا۔ دوسری طرف خیبرایجنسی کی تحصیل جمرود سے افغان نژاد برطانوی شہری کو حراست میں لے لیاگیا۔ ذرائع کے مطابق تختہ بیگ چیک پوسٹ پر گرفتار ہونیوالے شخص کے پاس سفری دستاویزات موجود نہیں اوراُسے مزید تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

خرم منصور قاضی

شہد کی مکھیاں اور امراض کی تشخیص ؟ ہے نہ حیرت انگیز بات مگر یہ سچ ہے ۔گزشتہ برس آئنڈہوون میں ’’ڈچ ڈیزائن ویک‘‘ کی تقریب کے دوران پرتگالی ڈیزائنر سوسن سوارز نے ایک آلہ متعارف کروایا جو شہد کی مکھیوں کے ذریعے کینسر اوردیگرامراض کی تشخیص میں مددکرسکتا ہے۔

 

دراصل شہد کی مکھیوں میں سونگھنے کی حس غیرمعمولی حدتک تیز ہوتی ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کو امراض سے متعلق جراثیم کی مخصوص خوشبو پہچاننے کیلئے بھی سدھایا جاسکتا ہے۔

مثلاً جلد ، پھیپھڑوں، لبلبے کا کینسر اور تپ دق وغیرہ۔ یہ آلہ دو خانوں پرمشتمل ہے۔ چھوٹے خانے کو تشخیصی خانہ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں لوگ اپنا سانس سے بھرتے ہیں اورنمی کی صورت میں سانس شیشے کی دیواروں پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ بڑے خانے میں پہلے سے سدھائی ہوئی مکھیاں موجود ہوتی ہیں ۔

جو مخصوص خوشبو کو پہچان کر چھوٹے خانے کی طرف لپکتی ہیں۔ خمدار بیرونی ٹیوب مکھیوںکو اندرونی چیمبر سے پرے رکھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے مکھیوں کو ’’پیولو ریفلیکس‘‘ کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے 10منٹ کے قلیل عرصہ میں سدھایا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں مخصوص خوشبو کو پہچاننے پرمکھیوں کو چینی ملے پانی کا محلول بطورانعام دیا جاتا ہے۔ مکھیوں کیلئے یہ ایک ایسا انعام ہے کہ جس کو وہ اپنی چھ ہفتہ پرمشتمل زندگی میں ہمیشہ یادرکھتی ہیں۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ مکھیاں خاص طورپرانسانی صحت کا راز بتانے والے غدودوں سے خارج ہونے والے کیمیائی مواد اور کئی امراض کی ابتدائی علامات کی درست تشخیص کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ ادویات کی دنیا میں میں شہد کی مکھیوں کو بطوربائیوسنسرز اورسکریننگ ٹیسٹ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

 

انجکشن کو خدا حافظ


یورپ کے متعدد ملکوں میں انجکشنوں کے ذریعے دو اکے استعمال کا رجحان تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین نے منہ کے ذریعے دوا کے استعمال کو زیادہ محفوظ قرار دیا ہے۔

لیبون مانیٹرنگ باڈی کے ایک تازہ سروے کے مطابق انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے کے رجحان میں کمی کی بڑی وجہ سرنجوں کے ذریعے HIV وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات ہیں۔ چنانچہ 2002ء سے لے کرآج تک انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے میں 65 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے اور 10ممالک میں پہلی مرتبہ ڈاکٹروں نے انجکشن نسخوں میں لکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ یورپی یونین کے 12 ممالک میں بذریعہ سرنج انجکشن کا استعمال2.5فیصد کم ہو چکا ہے۔

اب نسخوں میں کیپسول اور گولیاں تجویز کی جانے لگی ہیں۔ سرنجوں کے ذریعے نشے اور دیگر غیر محفوظ ادویات کے استعمال کئے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انجکشنوں کو خیر باد کہنے کی سوچ اور علاج کا متبادل طریقۂ کار اپنا لیا ہے۔

 

بیکٹیریا کے خلاف مدافعت کرنے والے قدرتی اینٹی بائیوٹکس


سر الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928ء میں سب سے پہلے اینٹی بیکٹریل طاقت کو دریافت کیا، جو اس وقت ایک کامیاب فطری علاج تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ متعدد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ریسرچ سے اینٹی بائیوٹک دریافت کئے گئے لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی نئی تحقیق نے بیکٹریا سے لڑنے والے 6 طرح کے قدرتی اینٹی بائیوٹکس کا انکشاف کیا ہے ۔

جن کو اگر روز مرہ خوراک میں شامل کیا جائے توامراض کے خلاف یہ ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتے ہیں ۔ ویسے ان کا حصول روزمرہ کھانے پینے کی اشیاء سے پہلے ممکن ہو رہا ہے۔

 

لہسن


دنیا بھر میں کئی ہزارقبل سے آج تک لہسن کو مختلف امراض کے علاج و معالجہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جدید تحقیق اس امر کی تصدیق کر رہی ہے کہ لہسن میں ایسے اینٹی بائیوٹک قدرتی طور پر شامل ہیں جو نہ صرف دشمن بیکٹیریا کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

گل پنج بزاری (امریکی جڑی بوٹی)


صدیوں سے استعمال ہونے والی یہ جڑی بوٹی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے بلکہ متعدد بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔

عام طور پر اس جڑی بوٹی کا استعمال زخموں کے بھرنے، ٹوٹی ہڈی جوڑنے، خون سے زہر چوسنے سمیت مختلف بیکٹیریا کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے۔ یہ جڑی بوٹی نزلہ اور زکام کی صورت میں بھی نہایت مفید سمجھی جاتی ہے۔

ادرک
قدرتی اینٹی بائیوٹک سے بھرپور ادرک کا استعمال تاریخی طور پر سانس لینے کے عمل میں انفیکشن کے دوران کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ منہ کی مختلف بیماریوں کے لئے بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ مثلاً منہ سے آنے والی ناگوار بدبو دور کرنے کیلئے یہ بہت مفید ہے۔

شہد
دنیا بھر میں اینٹی بیکٹریل علاج کے لئے شہد کا استعمال اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب مارکیٹ میں مصنوعی اینٹی بائیوٹک دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

شہد کے اندر موجود اینٹی بائیوٹک معدے کے السراور جگر سمیت متعدد بیماریوں کے لئے مفید اور اکثیر ہے۔

لیموں
آج تک متعدد تحقیقات لیموں میں اینٹی بائیوٹک کی موجودگی کو ثابت کر چکی ہیں۔

برٹش جرنل آف فارماکالوجی کے مطابق لیموں کا استعمال متعدد بیماریوں کو پیدائش سے قبل ہی مار دیتا ہے۔ لیموں ایک ایسا قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے جو علاج کے دوران اندرونی و بیرونی دونوں سطحوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محمر غذاء
آج کل ڈاکٹروں کی ایک کثیر تعداد ایسی خوراک کے زیادہ استعمال پر زور دے رہی ہے، جو دوست بیکٹیریا میں اضافہ کا سبب بنے اور اس کے لئے محمر سبزیاں اور مشروبات کا استعمال نہایت مفید ہے۔

آم کیوں کھائے جائیں
گرمیاں آ چکی ہیں اور بازار میں آم بھی دستیاب ہیں۔ پھلوں کے بادشاہ آم کے بارے میں نئی تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں پانچ ایسی وجوہات بتائی گئی ہیں کہ ہم آم کیوں کھائیں؟۔
(1) آم مختلف قسم کے اینزائم پر مشتمل ہوتا ہے۔

جو پروٹین کی زیادتی کے عمل کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اسی وجہ سے لوگ عام طور پر کھانے کے بعد آم کھاتے ہیں۔ مختلف وٹامنز، منرلز اور ریشوں سے بھرپور یہ پھل نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے۔

(2) آم میں موجود خاص غذائی جُز (گلاسیمک انڈکس) کھانا کھانے سے فوری بڑھنے والی شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے۔
(3) آم میں میں پایا جانے والا وٹامن سی اور سفیدہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
(4)آم کے اندر موجود وٹامن اے آنکھوں کے لئے نہایت مفید ہے۔ اس پھل کے استعمال سے انسان ’’رات کا اندھا پن‘‘ جیسی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
(5) آم میں قدرتی طور پر شامل وٹامن ای نظامِ تولید کی پختگی اور تحریک کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور یہ مرد و خواتین دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔

 

بصارت اور کینسر کی دوا


حالیہ تحقیق کے مطابق مختلف قسم کے سرطان سے محفوظ رکھنے والی دوا سے ضعیف العمر افراد کی بصارت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

مثلاً اولسٹن سے عمر رسیدگی کے باعث ہونے والے آنکھوں کے مہلک امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ البتہ اس دوا کو تاحال آنکھوں کے امراض کے علاج کے لئے باقاعدہ لائسنس جاری نہیں کیا گیا تاہم بعض ڈاکٹر ان افراد کو یہ دوا تجویز کرنے لگے ہیں جن کی بینائی رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی دواء سے آنکھوں کے امراض سے تحفظ پایا جانا ممکن ہے۔ اس تحقیق میں لندن کے مور فلیڈآئی ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے برطانیہ کے تین مزید آئی سنٹرز کے ماہرین کی معاونت میں طبی مطالعہ کیا جس میں انہوں نے 131 ایسے مریضوں کو زیر تحقیق رکھا جن کی عمریں 80 سال سے زائد تھیں ۔ جن افراد کو اولسٹن کے انجکشن لگائے گئے تھے ان کی بصارت معمولی سی زائل ہوئی جبکہ بہت سے افراد کی بینائی تیز ہو گئی اور آئی ٹیسٹ کے دوران انہوں نے لفظوں کے چارٹ کو بالکل صحیح طریقے سے شناخت کیا۔

 

زیادہ دیر بیٹھناسگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کرسکتا ہے


پٹسبرگ میں کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنے کی عادت انسانی صحت پر سگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ عمومی طور پر مختلف دفاتر میں ایک ملازم 5گھنٹے اور 40 منٹ سیٹ پر ضرور بیٹھ کر کام کرتا ہے۔

یہ تحقیق ایک امریکی ڈاکٹر مائیکل جینسن اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق لوگوں کو چہل قدمی کی زیادہ ضرورت ہے۔

ڈاکٹر جینسن کا کہنا ہے کہ ایک یا آدھے گھنٹے کے لئے جم جا کر ورزش کرنے سے زیادہ دیر تک بیٹھنے کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ ورزش آپ کو زیادہ دیر تک بیٹھنے سے پیدا ہونے والے موٹاپے کے مضر اثرات سے نہیں بچا سکتی۔

محقق کے مطابق زیادہ دیر کر بیٹھنے سے دل کی بیماری اور شوگر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے بتاتے ہوئے ڈاکٹر جینسن اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کام کے دوران چہل قدمی یا کھڑے ہو کر کام کرنے سے ہم زیادہ بیٹھنے کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ بریسٹ کینسر کے 49 ہزار اور بڑی آنت کے کینسر کے 43 ہزار کیسز کی وجہ زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنا ہے۔

ہفتہ, 07 جون 2014 10:24

چھ بیٹیاں

 رانا محمد ذیشان

 

ہارون کے گھر بیٹیوں کی قطار تھی۔ ہرمرتبہاسکوامیدہوتیکہابتوبیٹاپیداہوگامگرہربارایک نئی بیٹی اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکےہاںیکےبعددیگرےچھبیٹیاںہوگئیں۔

 

ایک بار پھر ہارون کی بیوی کے ہاں ولادت متوقع تھی۔ وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر لڑکی پیدا نہ ہو جائے۔ اسی شش و پنج میں  شیطان نے اس کو بہکا دیا۔ ہارون نے ارداہ کرلیا کہ اب بھی اگر لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔ بھلا اس میں ہارون کی بیوی کا کیا قصور یہ تو قدرت کا نظام ہے اور اس کے فیصلے بھی قدرت کے ہی ہاتھ میں ہیں۔

 

رات کو جب ہارون سویا تو اس نے عجیب وغریب خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ قیامت برپا ہو چکی ہے اور اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جن کے سبب اس پر جہنم واجب ہوچکی ہے۔ لہٰذا فرشتوں نے اس کو پکڑا اور جہنم کی طرف لےگئے فرشتے جیسے ہی جہنم کے پہلے دروازے پر پہنچے تو دیکھا کہ اس کی پہلی بیٹی دروازے  پر کھڑی تھی جس نے اسے جہنم میں جانے سے روک دیا۔ فرشتے اسے لے کر دوسرے دروازے کی طرف چلے گئے وہاں اس کی دوسری بیٹی کھڑی تھی جو اس کے لئے آڑ بن گئی۔ اب وہ تیسرے دروازے پر اسے لے گئے وہاں تیسری لڑکی کھڑی تھی جو رکاو ٹ بن گئی۔ اس طرح فرشتے جس دروازے پر اس کو لے کر جاتے وہاں اس کی ایک بیٹی کھڑی ہوتی جو اس کا دفاع کرتی اور جہنم میں جانے سے روک دیتی۔ غرض یہ کہ فرشتے اسے جہنم کے چھ دروازوں پر لے کر گئے مگر ہر دروازے پر اس کی کوئی نہ کوئی بیٹی رکاوٹ بنتی چلی گئی۔

 

اب صرف ساتواں دروازہ باقی تھا فرشتے ہارون کو لے کر اس دروازے کی طرف چل دیئے۔ ہارون پر گھبراہٹ طاری ہوگئی اس نے سوچا کہ اس دروازے پر میرے لئے رکاوٹ کون بنے گا، میری تو صرف 6 بیٹیاں ہیں۔ جوں جوں ساتھواں دروازہ قریب آتا جارہا تھا ہارون کی حالت غیر  ہوتی جارہی تھی۔ اچانک ہی اسے احساس ہوا کہ اس کی اپنی بیوی کو ساتویں بیٹی کی پیدائش پر طلاق کی جو دھمکی دی وہ غلط ہے کاش شیطان اسے نہ بہکاتا اور وہ اپنی بیوی سے ایسی کوئی بات نہ کرتا۔ اسی  پریشانی اور خوف ودہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی اور اس نے رب العزت کے حضور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور فورا اپنی غلطی کی معافی مانگی اور سچے دل سے ایک بار پھر بیٹی پیدا ہونے کی دعا کی۔

 

اے کاش! ہارون کی طرح تمام مسلمان یہ سمجھ لیتے کہ بیٹیاں بھی اللہ کی رحمت ہے اور اس کی پرورش پر اللہ تعالی کی جانب سے  جتنے انعامات کا وعدہ ہے اگر اسے معلوم ہو جائے تو دنیا کی تمام مشقتوں اور تمام عیبوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انسان ہمیشہ بیٹی کی پیدائش کی دعائیں مانگیں۔

 

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مر وی ہے سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:۔

”جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا وہ دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کیساتھ احسان اورہمدردی کرے توان کی بدولت وہ جنت میں داخل ہوگا” (ترمذی)

 

ذرا غور کریں

 

!

بیٹی کی تربیت پر کس قدر اچھے انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ بیٹی بیٹے سے زیادہ فرمانبردار ہوتی ہے اور والدین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرتی ہے۔ تو پھر اس نعمت عظمیٰ سے کیونکر کترانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 

ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

“جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹے یا دو بہنیں ہوں اور وہ انکے ساتھ حسن سلوک کرےاور ان کے حقوق کی ادائیگی میں اللہ سےڈرتا رہےتواس کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیںگے” (ترمذی)

ایک دفعہ ایک سائل نے سوال کیا اے پیغمبر! اگر کسی کی دو بیٹیاں ہوں تب بھی یہی فضیلت ہے؟

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  ہاں دو کا بھی یہی حکم ہے پھر کسی نے سوال کیا اگر ایک بیٹی ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ایک کی بھی اسی طرح پرورش کرے گا اس کیلئے بھی جنت ہے۔

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی بیٹیوں سے غایت درجہ محبت والفت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر پر جاتے یا آتے سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما  سے مروی ہے کہ

 

 

“جس شخص کے کندھوں پر لڑکی کی پرورش کی ذمہ داری ڈال دی گئ تو وہ اس کو صبر وتحمل سے سرانجام دے۔ یہ لڑکی اس کے لئے عذاب جہنم سے آڑ بن جائے گی” (ترمذی

 

ہمیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے بیٹی کوہمیشہ اللہ تعالی کی رحمت سمجھنا چاہئے۔ اور شیطان کے بہکاوے میں آئے بغیر ان کے ساتھ محبت اور شفقت کے ساتھ پیش آنا چاہئے تاکہ قیامت کے دن خدا کے سامنے شرمندگی سے بچ سکیں اور دنیا میں بھی لوگوں کے لائے ایک نئی مثال قائم کرسکیں۔

واشنگٹن: امریکا کے خفیہ انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے نے عوامی رابطے کے لئے سوشل میڈیا کی مقبول عام ویب سائیٹس فیس بک اور ٹوئٹر کا بھی باقاعدہ استعمال شروع کردیا ہے۔

 

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے سماجی رابطے کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر اور فیس بک میں اپنا اکاؤنٹ کھولا ہے، دونوں ویب سائیٹس کے صارفین CIA@ پر رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی ان دونوں ویب سائیٹس کے ذریعے سی آئی اے عوام سے براہِ راست رابطے میں آئے گی اور یہاں سی آئی اے کے مشن، تصاویر، تاریخ اور دیگر معاملات پر خبریں فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ان میں روزگار اور مختلف شعبوں میں کی جانے والی تعیناتیاں بھی پوسٹ کی جائیں گی۔

 

ٹوئٹر پر سی آئی اے کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دن کے اندر اس کے فالوورز کی تعداد 3 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئی ہے دوسری جانب بڑی تعداد میں ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس پر شک و شبے کا بھی اظہار کیا جارہا ہے۔

 

واضح رہے کہ سی آئی اے پہلے ہی وڈیو شئیرنگ ویب سائیتس ’فِلکر‘ اور’یوٹیوب‘ پر موجود ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کا اگل قدم ’یواسٹریم‘ کے ذریعے ’لائیواسٹریمنگ‘ کی جانب بڑھنا ہوگا۔

اسلام آباد: خیبر پختونخوا اور فاٹا میں پولیو وائرس سے متاثرہ مزید 4 کیسز سامنے آگئے ہیں جس کے بعد رواں برس اب تک پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق بنوں کے علاقے ماما خیل کی ساڑھے 3 سالہ مدیحہ اور مٹھا خیل کی ڈیڑھ سالہ حلیمہ جبکہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ کے علاقے مچاس کی 2 سالہ لائبہ اور 2 سالہ الیسا میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد رواں برس ملک بھر میں اس مہلک بیماری کے باعث زندگی بھر کے لئے معذور بچوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔

 

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان میں پولیو کے کیسز میں اضافے اور دیگر ملکوں میں اس مرض کے اضافے کی وجہ سے پاکستانیوں پرانسداد پولیو ویکسی نیشن سرٹیفیکیٹ کے بغیر بیرون ملک سفر پر پابندی عائد ہے۔

مانسہرہ: اسکردوجاتے ہوئے مسافر بس گاندھیاں موڑ کے قریب گہری کھائی میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 5 افرادجاں بحق جب کہ 24 زخمی ہوگئے۔

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق راولپنڈی سے اسکردو جاتے ہوئے مسافربس مانسہرہ کے قریب پہنچی تو گاندھیاں موڑ کاٹتے ہوئے گہری کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق جب کہ 24 زخمی ہو گئے، جاں بحق ہونے والوں میں پاک فوج کا ایک حوالدار بھی شامل ہے۔

 

مقامی افراد اور امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ 8 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اسلام آباد: پیمرا نے قومی سلامتی کے اہم اداروں کے خلاف خبریں نشر کرنے پر جیو کا لائسنس 15 روز کے لئے معطل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔

 

 

گزشتہ روز تعینات ہونے والے قائم مقام چیرمین پیمرا پرویز راٹھور نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد ایک اجلاس کی سربراہی کی جس میں اب تک پیمرا میں زیر التوا معاملات اور مختلف کیسز کا جائزہ لیا گیا تاہم اجلاس میں پرائیویٹ ممبران شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس کے بعد قائم مقام چیرمین نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ وزارت دفاع کی شکایت پر پیمرا نے جیو نیوز کو لائسنس کی 15 روز کے لئے معطلی ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک جیو کی جانب سے جرمانہ ادا نہیں کیا جاتا اس وقت تک جیو کا لائسنس معطل رہے گا اور اگر جیو دوبارہ اس قسم کی غلطی کا مرتکب پایا گیا تو ان کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے گا۔

 

دوسری جانب پرائیویٹ ممبر اسرارعباسی کا کہنا ہے کہ یہ پیمرا کا نہیں بلکہ سرکاری ارکان کا فیصلہ ہے، فیصلے کے پیچھے سیاست کی جا رہی ہے، پیمرا کے اراکین جیو کے لائسنس کی معطلی کے حوالے سے پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا قوانین میں کسی قائم مقام چیئرمین کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اور اگر کسی کو راتوں رات قائم مقام چیرمین بنا دیا جاتا ہے تو اسے اجلاس بلانے کا کوئی اختیار نہیں ہے، ہم نے 17 جون کو اجلاس  طلب کر رکھا ہے اسی میں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

 

واضح رہے کہ جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر پر 19 اپریل کو کراچی میں ایئرپورٹ کے قریب فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تاہم اس کے بعد جیو نیوز نے اس کا الزام نہ صرف آئی ایس آئی پر لگایا بلکہ اس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو بھی قصوروار ٹھہرا کر پورا دن اس اہم قومی ادارے اور اس کے سربراہ کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا رہا اور حامد میر کی جانب سے ایف آئی آر درج کرانے سے قبل جیو نے اپنے ہی اسکرین پر ایف آئی آر در ج کرکے اپنے نیوز سینٹر کو تفتیشی سینٹر بنادیا اور اس کے نیوز اینکرز نے گویا چیف جسٹس بن کر آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کو مجرم قرار دے دیا۔

 

دوسری جانب جیو نیوز کی طرف سے پاکستانی فوج اور ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی پر بلا سوچے سمجھے الزام تراشی سے گویا بھارتی میڈیا کی دلی مراد بر آئی اور اس نے چیخ چیخ کر زخمی صحافی سے اظہار یکجہتی سے زیادہ آئی ایس آئی کو ملوث کرنے کے پہلو کو نمایاں کیا۔ بھارتی چینلوں میں نام نہاد بریکنگ نیوز کا مرکزی نکتہ ہی پاکستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو بدنام کرنا تھا اور یہ سلسلہ پرنٹ میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں بھی نظر آیا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے بھارتی میڈیا ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھا تاکہ وہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کو بدنام کرسکے،بھارتی میڈیاکے بعد  پاکستان دشمن بھارتی سیاستدان بھی جیو کی حمایت میں سامنے آگئے۔

لاہور: پاکستانی اداکار وگلوکار علی ظفر کی جو ان دنوں بھارت میں یش راج فلمز کے بینر کی فلم ’’ کل دل ‘‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں، انھوں نے اس فلم کا ٹائیٹل سانگ 600 برتھ ڈے کیکس کے ساتھ عکسبند کروایا ہے۔

 

 

برتھ ڈے کے بولوں پر مبنی اس گانے میں علی ظفر کے ساتھ فلم کی مرکزی کاسٹ میں شامل پری نیتی چوپڑا اور رنویر سنگھ شامل ہیں۔ اس گانے میں سالگرہ کے حوالے سے ہر خاص وعام نے ہاتھ میں ایک اصلی کیک پکڑا ہوا ہے۔ اس فلم میں اپنے دور کے رومانٹک اور ڈانسنگ ہیرو گوندا نیگیٹو رول کر رہے ہیں جس کے میوزک ڈائریکٹر شنکر احسان لوئے اور ڈائریکٹر شاد علی ہیں جو اس سے قبل ’’ساتھیا‘‘ اور ’’بنٹی اور ببلی‘‘ جیسی کامیاب فلمیں بنا چکے ہیں۔

 

علی ظفر کی یہ فلم سال رواں میں 14نومبر کو ریلیز ہوگی۔ علی ظفر کی سال رواں میں ریلیز ہونے والی فلم ’’ٹوٹل سیاپا‘‘ باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ یاد رہے کہ یش راج فلمز کے ساتھ علی ظفر کی یہ دوسری فلم ہے اس سے قبل وہ عمران خان ، کترینہ کیف کے ساتھ ’’میرے برادر کی دلہن‘‘ میں کام کرچکے ہیں ۔

فیصل آباد: ایکسپریس فیصل آباد کی 12 سالہ تقریبات کے حوالے سے ہونے والے تصویری مقابلوں کے لیے ’’ایکسپریس ماڈل آف فیصل آباد‘‘ کی سلیکشن کے لیے 12 گرلز اور 23 بوائزنے فائنل مقابلوں کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔

 

 

کوالیفائی کرنے والوں میں امبر سہوترا، شازیہ امین ، لہانیم پاشا، مریم ملک ، نیلم اعجاز، صباء ارشد،نیلوپری، سویرا،شمع بھٹی، سلمٰی شازیہ ، زینت النساء، عمران عارف ، عبدالرحمٰن ، رحمٰن سعید، عابداسلام ، عدیل اسلام ، احمد حارث، احسن گجر، علی بن یامین، علی سام ، علی حسن ، علی حمزہ ، امجدریاض ، انیس رضا ہاشمی، عرفان علوی، اورنگزیب ، اسلم ملک ، ارسلان خلیل، انیس رضا، عون اعظم، اعظم لودھی، اورنگزیب زیبی، بلال ڈوگر اور چوہدری یعقوب شامل ہیں۔

 

ایکسپریس کی جانب سے ہونے والے ماڈلنگ مقابلے کو سراہتے ہوئے فیصل آباد کے ماڈلز نے کہا ہے کہ ’’ایکسپریس ‘‘ نے نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کرکے شاندار قدم اٹھایا ہے۔ فیصل آباد شہر جہاں کے ٹیلنٹ کی بہت کم حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور انھیں نظرانداز کیا جاتا ہے لیکن ایکسپریس کے مقابلوں سے ان میں نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوا ہے ۔ روزنامہ ’’ایکسپریس ‘‘ کے زیر اہتمام فائنل مقابلہ فیصل آباد آرٹس کونسل میں منعقد ہوگا۔ ایکسپریس ماڈل آف فیصل آباد ، ایکسپریس بے بی آف فیصل آباد اور دیگر مقابلوں میں حصہ لینے والوں کو انعامات اور تحائف دیے جائیں گے۔

 

واضح رہے کہ ایکسپریس کے مختلف مقابلوں کے لیے فیصل آباد اور دیگر شہروں سے ہزاروں انٹریز موصول ہوئی ہیں۔ دیگر شہروں سے کوالیفائی کرنے والوں کے لیے فائنل مقابلے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہونگے۔مزیدرہنمائی کے لیے ایکسپریس پروموشن سیل سے فون نمبر 0302-8634757 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement