A+ R A-
28 مئی 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

ایڈمن

ایڈمن

بنوں (نیوز ڈیسک) آپریشن ضرب عضب کو شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے ،اس آپریشن سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ اس آپریشن کا سب سے زیادہ نقصان اسے ہوا ہے اور اس کی چوتھی شادی تاخیر کا شکار ہو گئی ہے اور اب اس کے لئے اسے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ شمالی وزیرستان کے گاﺅں ساوا سے نقل مکانی کرنے والے شخص گلزار خان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی وجہ سے وہ چوتھی شادی سے محروم ہوگیا ہے۔ 54 سالہ گلزار خان جس کے پہلے ہی 35 بچے اور 100 سے زائد پوتے، پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں کا کہنا ہے کہ اس نے دن رات محنت کرکے چوتھی شادی کے لئے رقم بچائی تھی لیکن جب آرمی آپریشن کا آغازہوا تو مجبوراً اپنے اہل خانہ کے ساتھ نقل مکانی کرنا پڑی اور اس دوران بچائی گئی رقم خرچ ہوگئی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی تینوں بیویوں نے چوتھی شادی کی اجازت دے دی ہے۔ گلزار خان کی پہلی شادی 17 سال کی عمر میں 14 سالہ کزن کے ساتھ ہوئی۔ صرف آٹھ سال بعد اس نے دوسری شادی کی۔ اس نے تیسری شادی اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ کی کیونکہ وہ شادی کے صرف ایک ہفتے بعد بیوہ ہوگئی تھی۔ گلزار خان نے تقریباً 16 سال دبئی میں ٹیکسی بھی چلائی اور خوب مال بنایا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے گناہ کی زندگی سے نفرت ہے لہٰذا وہ شادی کرکے اپنی جائز خواہشات پوری کرتا ہے۔

ماسکو (نیوز ڈیسک) کیا یہ خلائی مخلوق کا کام ہے، زمین کے اندر کوئی بہت بڑا دھماکہ ہوا ہے یا پھر آسمان سے کوئی شہاب ثاقب گر اہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو زمین کے انتہائی شمال میں واقع بے آب و گیاہ برف کے صحرا سائبیریا میں سینکڑوں فٹ قطر کا سوراخ نمودار ہونے پر پوچھے جارہے ہیں۔ دنیا بھر کے سائنسدان حیران ہیں کہ آخر زمین میں اتنا بڑا سوراخ کیسے ہوگیا، اس کی گہرائی کتنی ہے اور آخر اس کے اندر کیا ہے؟ فضا سے لی گئی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ سائبیریا کے علاقے یمال میں تقریباً 262 فٹ قطر کا خوفناک چوڑائی اور گہرائی والا سوراخ ہوچکا ہے۔ سائبیریا کا علاقہ روس کے شمال میں واقع ہے اور اس علاقے کے انتہائی شمال میں یمال کا علاقہ واقع ہے جو دنیا کی دور افتادہ ترین جگہ سمجھی جاتی ہے اور اسی لئے اسے ”دنیا کا آخری کونہ“ کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ قدرتی گیس کی پیداوار کیلئے بہت مشہور ہے اور یہاں روسی پائپ لائنوں کے علاوہ زندگی کے کوئی آثار نہیں نہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زمین کے نیچے گیسوں کے جمع ہوجانے کے بعد دھماکہ ہوا ہے تو بعض کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں درجہ حرارت بڑھنے سے یہ سوراخ ہوگیا ہے، ابھی تک کوئی بھی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی ہے اور سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو تحقیقات کیلئے علاقے کی طرف روانہ کردیا گیا ہے۔

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11فروری 2015ء ) تاجروں کی تنظیم تاجر اتحادنے بجلی کے ناروا لوڈ شیڈنگ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب بے جا جرمانوں کے خلا ف سے فاروق اعظم چوک میں روزانہ کی بنیاد پر صبح نو بجے سے شام چار بجے تک غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ۔حتجاجی کیمپ میں کثیر تعداد می دوکاندارواور سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔اس موقع پر تاجر اتحادکے صدر صلاح الدین شاکر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آئے روز دکانداروں پر بھاری بھرکم جرمانے عائد کی جاتے ہیں جس سے بازار کے دکاندار عاجز آگئے ہیں اوران بے جا جرمانوں سے نہ صر ف دکانداروں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں بلکہ دکانداروں کے گھر وں میں فاقوں کی نوبت بھی پہنچ چکی ہے ۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے شہری علاقوں میں پندرہ پندرہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جس سے بھی روز گار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ دکانداروں کے مالکان کی جانب سے بھی آئے روز تنگ کیا جاتا ہے جس کے خلا ف تاجر اتحاد نے غیر معینہ مد ت کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا ہے ۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بے جا جر مانوں کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا اور محکمہ واپڈ اکی جانب سے شہری علاقوں میں لو د شیڈنگ کا دورانیہ کم نہیں کیا جاتا اس وقت تک دکانداروں کی جانب سے بھوک ہرتالی کیمپ قائم رہے گا۔

پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اپنی مرحوم لیڈر کی محبت میں مجبور ہوکر وہ کام بھی کر ڈالا جو 1400 سال کی اسلامی تاریخ میں آج تک نہ ہوا۔ جی ہاں، ان جیالوں نے اپنی محبوب رہنما کا ایک مجسمہ کراچی کے علاقے بے نظیر پارک (کلفٹن پارک) میں لگادیا ہے۔ یہ مجسمہ بے نظیر کی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر لگایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی نے مجسمہ بنانے والے کاریگر مبارک مہدی کو ایک لاکھ روپے کا انعام بھی دے دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی سیاستدان کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔
یہ مجسمہ نصب ہونے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اسلامی تاریخ میں کتنے عظیم رہنما اور حکمران گزرے ہیں ،مشرق سے مغرب تک ان رہنماﺅں کی دھوم رہی لیکن کسی کا مجسمہ نہ بنا۔ سوچتے ہوئے میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں گیا، اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی فلاح کا ایک عظیم الشان سسٹم شروع ہوچکا ہے ۔ان کے بعد دیگر جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ اجمعین کا دور آتا ہے لیکن کہیں بھی مجسمہ سازی موجود نہ ہے۔ مسلمان جزیرہ نما ہسپانیہ میںداخل ہوچکے ہیں۔ مقامی آبادی کی فلاح جاری ہے لیکن یہاں بھی کسی مسلمان حکمران کا مجسمہ دیکھنے کو نہیں مل رہا۔مسلم سپین جو یورپ کے لئے ایک مثالی علاقہ بن چکا ہے، تعلیم اور سائنسی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، دنیا میں کہیں بھی کوئی کتاب لکھی جا رہی ہے وہ سپین کی لائبیریوں میں منگوا کر رکھی جا رہی ہے۔مسلمانوں نے تمام غیر مسلموں کو برابری کے حقوق دیئے ہوئے ہیں،آج بھی سپین جائیں تو آپ کو مسلم حکمرانوں کے نشانات محلات اور مساجد کی صورتوں میں ملیں گے لیکن کہیں بھی آپ کو کسی بھی حکمران کا بت نہیں ملے گا۔
 دوسری جانب بغداد میں عباسی حکمران کام کررہے ہیں سائنسی تحقیقات جاری ہیں لیکن کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آرہا کہ اس کے چاہنے والے اس کا بت بنائیں۔
شام میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف تمام یورپ اکٹھا ہو چکا ہے اور پے در پے حملے کر رہا ہے لیکن آخر کار سلطان کو تمام یورپ کے خلاف فتح نصیب ہوئی ہے اور یروشلم میں مسلمانوں کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے لیکن پھر بھی کہیں آپ کو سلطان صلاح الدین ایوبی کا بت نظر نہیں آرہا۔
اب قسطنطنیہ (استنبول)چلتے ہیں جہاں مسلمانوں نے کامیاب حملہ کرتے ہوئے سلطان محمد فاتح کی قیادت میں قسطنطنیہ فتح کرلیا ہے۔ یہ وہی لشکر ہے جس کے جنتی ہونے کی بشارت نبی کریمﷺ نے دی ہے۔ سلطان محمد فاتح نے فتح کے بعد مسجد کی تعمیر شروع کروادی ہے۔ ان کے بعد ان کی نسل میں سلیمان خلیفہ بنا۔ یہ وہی عثمانی حکمران ہے جسے مغربی تاریخ دان سلیمان عالیشان کے نام سے جانتے ہیں لیکن آج تک پورے ترکی میں آپ کو کہیں بھی کسی بھی خلیفہ کا بت لگا ہوا نہیں ملے گا۔
اب برصغیر کی طرف آتے ہیں جہاں دہلی میں مسلمانوں نے حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ مختلف مسلم خاندان سے ہوتا ہوا تاج دہلی اب سلطنت مغلیہ کے پاس ہے۔ جلال الدین محمد اکبر ہندوﺅں کے ساتھ بہت قریبی تعلق رکھتا ہے۔ ہندو اس کی پوجا خدا کی طرح کررہے ہیں لیکن یہ کیا، اکبر یا اس کے حامیوں نے کسی بھی طرح کے بت نہ بنائے ہیں۔
 غرض کہ اسلامی تاریخ میں کہیں بھی آپ کو حکمرانوں کے مجسمہ (بت) نہیں ملیں گے اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ابتدا ہی سے بت بنانے اور انہیں پوجنے سے روک دیا گیا تھا۔ گو کہ جدید دور میں عراق میں سابق صدر صدام کے قد آور مجسمے لگائے گئے لیکن ان کا انجام بھی آپ کے سامنے ہے۔
ماضی میں مسلمانوں نے تمام علوم پر خصوصی توجہ دی، آرٹ اور کلچر کو فروغ دیا لیکن کبھی بھی زندہ یا مرحوم حکمران کا بت بنانے کا سوچا بھی نہیں۔ وہ پاکستان جس کی بنیادقائداعظم محمد علی جناح نے رکھی لیکن ان کے بت یا مجسمے آپ کو کہیں نہ ملیں گے لیکن آج ایک دم ایسا کیا ہو گیا کہ اب پاکستان میں سیاستدانوں کے مجسمے لگنا شروع ہوگئے ہیں۔

جدہ (نیوز ڈیسک) سعودی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن کے رشتے دار جو کہ اس وقت سعودیہ کے دورے پر ہیں اگر چاہیں تو اپنے وزٹ ویزا میں توسیع کرا کر پورا سال سعودی عرب میں قیام کر سکتے ہیں۔

 

یہ حکم نامہ ملک میں مقیم غیر ملکیوں کی جانب سے درخواستیں موصول ہونے کے بعد سعودی وزیر داخلہ محمد بن نائف نے چاند رات کے موقع پر جاری کیا۔ اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ 28 جون کے بعد ویزوں کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس نے واضح کیا کہ جن غیر ملکیوں کے ویزے ختم ہونے والے ہیں، ان کیلئے لازم ہے کہ وہ توسیع کی درخواست پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرائیں۔ ایسا نہ کرنا ویزا قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

یروشیلم (مانیٹرنگ ڈیسک) کمپیوٹر ہیکرز کے ایک گروہ شامی الیکٹرانک فوج نے اسرائیلی ڈیفنس فورس کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ ہیک کرکے اسرائیل میں جوہری تابکاری کے اخراج کا پیغام شائع کر دیا۔ تاہم اسرائیلی حکام نے جلد ہی اس ٹویٹ (پیغام) کو ختم کر کے قوم سے معافی مانگتے ہوئے بتایا کہ ان کا اکاﺅنٹ ہیک کر لیا گیا تھا۔

شامی الیکٹرانک فوج نے ٹوئٹر اکاﺅنٹ ہیک کرکے وہاں اسرائیلی ڈیفنس فورس کے ترجمان کی طرف سے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ ”فلسطین زندہ باد“۔ ان دو پیغامات کو چند منٹوں میں ختم تو کر دیا گیا لیکن اتنے قلیل وقت میں بھی سینکڑوں لوگ اسے پڑھ چکے تھے۔ اس ضمن میں اسرائیلی ڈیفنس فورس کے ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ سائبر کرائم سمیت ہم ہر سطح پر دہشتگردوں کا مقابلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ 3 اسرائیلی اور بعدازاں ایک فلسطینی نوجوان کی ہلاکت کے بعد غزہ پٹی پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تناﺅمیں آج کل پھر کافی شدت آ چکی ہے، جس کے باعث دونوں اطراف سے حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ضلع چارسده کی بلند پایه اور پشتو زبان کی قومی شاعر عنایت الله گران صاحب بقضائے الهی وفات پاگئے. چارسده ڈاٹ نٹ کی ٹیم ان کے غم میں برابر کی شریک هے. اور الله تعالی سے دعاگو هے که مرحوم کو جنت الفردوس میں مقام نصیب کرے. آمین.

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)خود کش حملہ آور سعودی عرب بھی پہنچ گئے ہیں تاہم دونوں حملہ آور اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے جنوبی شہر شرورہ میں سیکیورٹی فورسز نے خود کش حملہ آور کو گھیرے میں لے لیا اور کئی گھنٹوں کے مقابلے کے بعد دونوں حملہ آوروں نے ایک سرکاری عمارت کے باہر اپنے آپ کو اُڑالیا۔

 

سعودی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز القاعدہ کے چھے ارکان نے سعودی باڈر سیکیورٹی فورس پر حملہ کیا جس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے فورسز نے تین دہشت گرد ہلاک کردیئے اور ایک کو گرفتارکرلیا جبکہ فوج کا ڈیوٹی پر موجود انچارج اپنے دو ساتھیوں سمیت جھڑپ میں ماراگیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کا تعلق القاعدہ سے ہے تاہم باقاعدہ اعلان ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد کیاجائے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق گرفتار ملزم کا نام وزارت داخلہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ دو حملہ آور شرورہ کی سمت فرار ہو گئے جنہوں نے بعد میں ایک سرکاری عمارت میں پناہ لے لی، سیکیورٹی حکام نے عمارت کا محاصرہ کر لیا، جہاں ہفتے کی صبح دونوں نے خود کو دھماکہ کر کے ہلاک کر لیا۔

بغداد: دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے جنگوؤں کی جانب سے عراق کے شمالی شہر تکریت سے اغوا کی گئی 46 بھارتی نرسوں کو رہا کردیا گیا۔

 

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق عراق اور شام میں اسلامی ریاست کے قیام کے لئے حکومت کے خلاف برسر پیکار دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے تکریت سے اغوا کی گئی بھارت سے تعلق رکھنے والی 46 نرسوں کو بھارتی حکام کے حوالے کردیا جس کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے تمام نرسوں کو عربیل کے ہوائی اڈے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق داعش جنگوؤں سے رہائی پانے والی نرسیں کل ریاست کیرالہ کے شہر کوچی پہنچیں گی۔

واضح رہے کہ بھارتی نرسیں سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں ایک اسپتال میں کام کررہی تھیں، اس شہر پر بھی گذشتہ ماہ دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا، مغوی نرسوں کا تعلق بھارتی ریاست کیرالہ سے ہے اور انہیں داعش جنگجوؤں کی جانب سے جمعرات کواغواگیا گیاتھا۔

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement