A+ R A-
22 جولائی 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

اسمارٹ فونز اب ہم سب کی دسترس میں ہیں۔تصویر بنوانے فوٹو اسٹوڈیو جانے کی روایت دم توڑ رہی ہے کیونکہ ہمارے اسمارٹ فون کا کیمرا اب ہمیں یہ خدمات فراہم کر رہا ہے۔

حالیہ چند برسوں میں اپنی تصویر بنانے کا رواج بہت زور پکڑ چکا ہے ۔دفاتر،تعلیم گاہوں، پارکوں،تفریحی مقامات اور پارٹیوں میں اب  لوگ موبائل فون سے اکثر اپنی تصویریں بناتے نظر آتے ہیں۔اپنی تصویر یا سیلفی لے کر پوسٹ کرنا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مقبول عام تفریح بن چکی ہے ،لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ غیر محسوس طریقے سے نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا باعث بھی بن رہی ہے۔

پوری دنیا بالخصوص امریکا اور یورپ میں ماہرین نفسیات اور کلینیکل سائیکالوجی سے متعلق افراد سیلفی کو اپنی تحقیق کا موضوع بنا رہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ وہ مریض ہیں جنہیں سیلفیوں کے جنون نے ذہنی صحت کی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس پہلو پر بات کرنے سے قبل ذرا سیلفی کے تصور کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں۔

جی ہاں!سیلفی سے مراد کسی بھی شخص کی ایسی تصویر جو وہ خود لیتا ہے۔یہ تصویر عام طور پر اسمارٹ فون یا ویب کیم کے ذریعے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کی غرض سے بنائی جاتی ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری نے لفظ ’’Selfie‘‘ کو 2013ء میں ’’Word of the year‘‘ قرار دیا۔عام خیال یہ ہے کہ سیلفی ابھی آج کل کی بات ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ۔ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پر سولہویں صدی کی دوسری دہائی میں سیلفی کی ابتدائی شکل کا ذکر ملتا ہے۔ذاتی پورٹریٹس کا تصور فوٹو گرافی کے جدید آلات کی ایجاد سے بہت پہلے کا ہے۔

یونیورسٹی آف کولمبو کی اکتوبر 2014ء میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سیلفی کی سب سے پہلی شکل اس پورٹریٹ کو قرار دیا گیا جو1524ء میں ایک اطالوی آرٹسٹ پار مگیانینو (Parmigianino) نے بنائی تھی اور اسے ’’مجوف آئینے میں بنائی گئی ذاتی پورٹریٹ‘‘(Self portrait in Convex Mirror )کا نام دیا تھا۔اور پہلا باقاعدہ فوٹو گراف جسے سیلفی کہا گیا وہ تصویر تھی جو فلاڈلفیا کے شوقیہ فوٹو گرافررابرٹ کارنیلئیس نے 1839ء میں اپنی بنائی تھی۔وہ کیمرے کے عدسوں کا کور اتارنے کے بعد دوڑ کر فریم میں آیا اور اپنی تصویر بنا لی۔اور تصویر کی پشت پر یہ یاد گار الفاظ لکھے ’’The first light Picture ever taken. 1839‘‘۔

پھر 1900  میں ایک تیرہ سالہ روسی لڑکی اناستاسیانکولاوینا نے آئینے کی مدد سے اپنی تصویر خودلے کر اپنے دوست کو بھیجی اور ساتھ لکھا کہ ’’میں نے اپنی یہ تصویر شیشے کی جانب دیکھتے ہوئے بنائی ہے۔یہ بہت مشکل کام تھا کیونکہ میرے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے‘‘۔یہ تو تھیں دُور پیچھے کی باتیں،لیکن ماضی قریب میںسیلفی سال 2002ء میںایک آسٹریلین انٹر نیٹ فورم پر زیر بحث آئی۔سیلفی کے متعلق گفت و شنید میں تیزی سال2005ء کے بعد آئی کیونکہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک ،انسٹا گرام وغیرہ کی مقبولیت کا زمانہ تھا۔اس کے بعد تصویر کشی کا یہ طریقہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہوا۔

سال 2012ء کے اخیر میں ٹائم میگزین نے لفظ سیلفی کو  “top 10 buzz words”میں شمار کیا۔2012ء کے ایک سروے کے مطابق آسٹریلیا کی 18 سے 35سال کی عمر کی دو تہائی خواتین سیلفیاں لیتی ہیں۔ جن کا مقصد  عام طورفیس بک پر پوسٹ کرنا ہوتا ہے۔سام سنگ کی جانب سے ایک مہم کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 18 سے 24 سال کے درمیان عمر کے افرادکی کل تصاویر کا تقریباً تیس فی صد سیلفیز پر مشتمل ہوتا ہے ۔سیلفی کلچر اب زمین تک محدود نہیں رہا۔ جدید دور کاانسان اسے زمین کی حدوں سے نکال کر دور خلاؤں میں بھی لے پہنچا۔ جی ہاں!پہلی خلائی سیلفی ایک خلاء نورد بزّ الڈرین( Buzz Aldrin)نے 1996ء میںجمنی 12مشن (Gemni 12 mission)  کے دوران لی تھی۔

سیلفی اب صرف سیلفی یعنی صرف ایک شخص کی تصویر نہیں رہی بلکہ گروپ سیلفیاں بھی آج کل کی معروف چیز ہیں ۔لوگ مختلف تقاریب،پارٹیوں اور مخصوص دنوں میں اکٹھی سیلفیاں لیتے ہیں۔ اس گروپ سیلفی کو اب ”Usie”بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مشہور شخصیات اداکار،گلوکار،ٹی وی پر تفریحی پروگرام کرنے والے لوگ،کھلاڑی، سیاست دان غرض مذہبی رہنما بھی اب سیلفی کلچر کا حصہ ہیں۔امریکی صدر باراک اوباما دسمبر 2013ء میں نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کے دوران ایک سیلفی ٹیکر کے طور پر رپورٹ کئے گئے۔ان کی لی ہوئی سیلفی اوباما سیلفی کے نام سے مشہور ہوئی اور مختلف حلقوں میں گپ شپ کا موضوع بنی۔اس کے بعد سیلفی کے عنوان سے کچھ میوزک ویڈیوز بھی بنیں۔

جنوری2014ء میں ایک امریکن DJ Due’’دی چین سموکر‘‘ نے میوزک ویڈیو ”Selfie”بنائی۔فروری2014ء میں نینا نسبٹ) (Nina Nesbittنے ایک اور میوزک ویڈیو بنائی ,جو ABCٹیلی وژن نیٹ ورک پر selfieکے نام سے چلی ۔یہ ویڈیوایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت چاہتی ہے۔اس کے علاوہ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں بھی یہ باتیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ وہ بھی سیلفی لینے کا ذوق رکھتے ہیں۔ادھر ہمارے بلاول بھٹو زرداری بھی بارہا جلسوں میں سیلفیاں لیتے پائے گئے۔

اب آتے ہیں سیلفی کلچر کے دوسرے پہلو کی جانب۔ نفسیاتی بیماریوں کے ماہرین نے شواہد کی بنا پر سیلفی کی عادت کے شکار افراد کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سائیکالوجسٹ جل ویبر(Jill Weber) کا کہنا ہے کہ یہاں خطرہ ہے اس بات کا کہ آپ کی خود اعتمادی یا (self esteem)اپنی سیلفی پر ملنے والے تبصروں اور لائیکس کے ساتھ جڑ جائے گی۔اور اس کی بنیاد آپ کی حقیقی شخصیت کی بجائے آپ کا ظاہری سراپا(یعنی آپ کیسا دِکھ رہے ہیں) ہوگا۔ڈاکٹر ویبر کا مزید کہنا ہے کہ ’’میرے تجربے کے مطابق جو لڑکیاں بار بار سیلفیاں پوسٹ کرتی ہیں وہ درحقیقت اپنی زوال پذیر خود اعتمادی کے ساتھ برسر پیکار ہوتی ہیں‘‘۔

امریکن اکیڈمی آف فیشل پلاسٹک اینڈ ری کنسٹرکٹو سرجری کے ایک سروے کے مطابق نوجوانوں میں پلاسٹک سرجری کروانے کی خواہش کے پیچھے سیلفیوں کا بہت کردار ہے۔اس سروے میں ایک آرگنائزیشن کے 2700 افراد کو منتخب کر کے ان کا جائزہ لیا گیا۔جس سے پتہ چلا کہ لوگوں کا سیلفیوں میں پرفیکٹ دکھائی دینے کا جنون سرجری کے کاروبار کو وسعت دے رہا ہے ۔اور یہ بھی ایک حیرت ناک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال لوگوں میں اپنے جسم کی بابت عدم اطمینان کو فروغ دے رہا ہے۔

2011ء میں یونیورسٹی آف ہائفا میں 12 سے 19 سال کی 248لڑکیوں پر ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لڑکیاں زیادہ فیس بک استعمال کرتی ہیں۔وہ بلیمیا(Bulmia) (کھانے پینے میں بے اعتدالی)، ایناریکسیا (Anorexia) (بھوک کی کمی اور عدم اشتہا جو دُبلے پن کا باعث بنتی ہے)اور اپنے بارے میں منفی تأثر( Negative self-image) سمیت مختلف مسائل کا شکار رہتی ہیں۔وہ اپنے آپ کو وزن گھٹانے کی طرف بہت مائل خیال کرتی ہیں۔دوسری بات یہ کہ لوگ سیلفی کلچر کے نتیجے میں اپنی ذات کا اِرد گرد کے افراد اور فیس بک کے دوستوں سے موازنہ کرتے ہیں جو کہ کسی طور صحت مند عادت نہیں ہے۔

2013ء کی ایک تحقیق کے مطابق فیس بک کا مستقل استعمال کرنے والے اور سیلفیاں پوسٹ کرنے کے عادی  افراد سوشل سپورٹ کی کمی کا شکار ہوتے ہیں،وہ اپنے فیس بک دوستوں کے نسبتاً زیادہ قریب ہوتے ہیں۔مطالعے کا کہنا ہے کہ یہ عادت ان کے حقیقی رشتوں اور سماجی تعلقات کوبری طرح متاثر کر سکتی ہے۔سیلفیوں کی ایک اور قسم’’ سیلفی اولمپکس ‘‘یا ’’ٹرِک شُوٹ سیلفی‘‘ ہے ۔یہ غیر معمولی اور پرخطر حالات میں لی جاتی ہے۔2014ء کے شروع میں اس طرح کی سیلفیوں کے رجحان نے ٹویٹر پر زور پکڑا۔

یہ سیلفیاں کم عمروں اور نوجوانوں کوکرتب بازی( stunts)کی طرف راغب کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔وہ ایسی سیلفی جو سب کو حیرت میں ڈال دے،بنانے کے لئے جان لیوا حرکتیں کرنے سے باز نہیں رہتے۔فروری 2014ء میں ہانک کانک میرا تھن کے ذمہ داروں نے دوڑ کے دوران سیلفی لینے پر پابندی لگائی۔اس کا سبب 2013ء میراتھن میں پیش آنے والے وہ حادثات تھے جو لوگوں کو دوڑ کے دوران سیلفیاں بنانے کے باعث پیش آئے۔

ملائشیا میں تھائی فیشل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے سیلفی کلچر کو دماغی صحت کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ڈیپارٹمنٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر پان پیمول ویپلاکورن( Panpimol wipulakorn)کا کہنا ہے کہ سیلفی پر لائیکس تو ملتے ہیں لیکن کوئی شخص کم لائیکس سے خوش ہوجاتا ہے جبکہ بہت سے سیلفیوں کے جنون میں مبتلا لوگ زیادہ لائیکس کے متلاشی بن کر زیادہ پسند کئے جانے (Being liked)کی لت(Addiction ( میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اگر انھیں اپنی مرضی کے مطابق رد عمل نہ ملے تووہ اپنی خو د اعتمادی کی دولت کھو بیٹھتے ہیں اور خود سے خطرناک حد تک غیر مطمئن ہو جاتے ہیں جو کہ درست رجحان نہیں ہے۔کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر انجلی چابریا ( Dr Anjali Chhabria)کے مطابق لوگ سیلفیوں میں خود کو ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ وہ حقیقت میں ہوتے نہیں۔سو یہ درحقیقت ’’غلط تصویر‘‘(False- Image)ہے جو ذہنی بیماری کا شاخسانہ ہے۔

ان سب خدشات کا اظہار سیلفی کی عادت کے شکار افراد کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔سیلفی لینے کا شوق بعض اوقات خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے۔جولائی 2014 ء میں فلپائن میں ایک چودہ سالہ لڑکی اپنے دوست کے ساتھ اسکول کے ایک بلند زینے پر اپنی سیلفی لیتے ہوئے گر پڑی اور جان کی بازی ہار گئی۔اسی طرح اگست 2015 ء میں ایک پندرہ سالہ لڑکے نے خود کو بری طرح زخمی کر لیا جبکہ وہ ایک بندوق اپنی ٹھوڑی سے لگا کر دوسرے ہاتھ سے سیلفی لے رہا تھا۔اسی طرح کا ایک واقعہ نومبر 2014 ء میں ایک پولستاتی عورت کے ساتھ پیش آیا، جو سپین میں چھٹیاں منا رہی تھی۔

اس نے ایک پل پر مشکل سیلفی لینے کی کوشش کی جس نے اس کی جان کا خاتمہ کر دیا۔ایسے بہت سے افراد بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنی دانست میں بہترین سیلفی لینے کی گھنٹوں کوشش کی ۔مگر مطلوبہ معیار کی سیلفی نہ بنا سکنے کی وجہ سے انہوں نے تنگ آ کر خود کشی کی کوشش کی۔اس کی مثال ہمارے سامنے مرر نیوز کی رپورٹ کردہ ایک خبر ہے جس کے مطابق ایک 19سالہ ڈینی بو مین(Danny Bowman ) نامی ایک برطانوی نوجوان ہے جو پندرہ سال کی عمر ہی سے سیلفی ایڈکشن کا شکار تھا۔یہ عادت اس کے اسکول چھوڑنے کا باعث بھی بنی۔

پھر اس نے ایک دن میں دو سو سے زائد مرتبہ اپنی تصاویر بنا ئیں ۔لیکن وہ سیلفی میں نظر آنے والے اپنے سراپے سے مطمئن نہیں تھا۔پھر بالآخراس نے خود کشی کی کوشش کی۔مذکورہ نوجوان کا علاج کرنے والے نفسیاتی معالج ڈاکٹر ڈیوڈ ویل(Dr. David Veale) کا کہنا ہے کہ ’’ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے ۔یہ ذہنی صحت کے لئے اتنا زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کہ انسان کوخودکشی کے اقدام تک لے جاتا ہے۔ڈاکٹر ڈیوڈنے ضرورت سے زیادہ اپنی تصاویر لینے کو ایڈکشن کے بجائے Body Dysmorphic Disorder (BDD) قرار دیا ہے اور بعض ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ سیلفیاں لینے کا رجحان شخصیت میں عدم اعتماد کی علامت ہے۔

ا ب سوال یہ ہے کہ سیلفی کی لت سے چھٹکارہ کیونکر حاصل کیا جا سکتا ہے؟یہاں یہ خیال رہے کہ کبھی کبھارضرورت یا پھر تفریح کے طور پر سیلفی لینے میں کوئی حرج نہیں۔بات خطرے کی حدود میں اس وقت داخل ہوتی ہے جب کوئی شخص سیلفی لینے کو عادت بنا کر اپنا وقت اور ذہنی صحت برباد کرنے لگتا ہے۔سیلفی ایڈکشن کابہترین متبادل دلچسپی کے موضوعات کی کتب کا مطالعہ ہے۔

اس کے علاوہ جسم کو متحرک رکھنے والے کھیل ،دوستوں، رشتہ داروں اور دیگر متعلق افرادسے ملاقات اور گپ شپ میں خود کو مصروف رکھنا بھی سیلفی لینے کی عادت سے بچا سکتا ہے۔یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے آپ کیسا نظر آ رہے ہیں یہ اہم ضرور ہے مگر اس سے بڑھ کر اہم آپ کی اصل شخصیت اور ذاتی مہارتیں ہیں۔اپنے کام کو وقت دیجیے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دیجیے ۔اس طرح آپ اپنی ذات کے حوالے سے کافی حد تک مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں۔

دائیں جانب 1524ء میں پارمگیانینو کا بنایا ہوا پہلا سیلفی پورٹریٹ، درمیان میں 1839ء میں رابرٹ کارنیلئس کا بنایا گیا فوٹو گراف جسے پہلی فوٹو گرافک سیلفی قرا ر دیا گیا جبکہ دوسر ی جانب ’’کوڈیک برونائی باکس کیمرا‘‘ کی مدد سے1900ء میں ایک تیرہ سالہ روسی لڑکی اناستاسیا نکولاوینا کی آئینے کی مدد سے خود بنائی گئی تصویر ہے۔

سیلفی بنانے کی چھڑی

سیلفی سٹک ایک لاٹھی نما مونو پوڈ ہے جو سیلفی بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔اس کے ایک کنارے پر دستہ جبکہ دوسرے کنارے پر کیمرا یا موبائل فون فٹ کرنے کی جگہ ہوتی ہے۔کچھ سیلفی چھڑیاں ریموٹ سے کنٹرول ہوتی ہیں اور کچھ میں بلیو ٹوٹھ کنٹرول سسٹم ہوتا ہے۔ سال 2014ء میں جنو بی کوریا کی حکومت نے ان سیلفی سٹکس کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں پر 70 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹائم میگزین نے سیلفی سٹک کو سال 2014ء کی بہترین ایجادات میں شمار کیا ہے ۔

باڈی ڈائس مارفک ڈِس آرڈر(BDD) کیا ہے؟

ڈائسمارفیا یاڈائسمارفک سینڈروم ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جس میں متاثرہ شخص اپنی ظاہری ہیئت کے بارے میں بہت پریشان رہتا ہے۔یہ سیلفی ایڈکش میں مبتلا ایک برطانوی نوجوان جس نے بالآخر تنگ آ کر اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی،کے حوالے سے ڈاکٹروں نے تشخیص کی تھی ۔انہوں نے سیلفی ایڈکشن کو کنٹرول نہ کرنے کی صورت میں اسے دیگر منشیات اور الکوحل وغیرہ کی طرح خطرناک قرار دیا۔

جن افراد میں اس بیماری کی تشخیص کی گئی ان میں سے اکثر ایک دن میں اوسطاً تین گھنٹے ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے جو وہ خود میں سمجھتے تھے ۔حالانکہ یہ محض ان کا وہم تھا۔حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔یہ بیماری مرداور عورتوں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ایک سے دو فی صد لوگ عموماً اس بیماری کا شکار رہتے ہیں۔اس کے علاج کے لئے کوگنیٹو بی ہیویئر تھراپی(CBT) کو موزوں خیال کیا جاتا ہے۔

 

 

Published in ٹیکنالوجی

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement