A+ R A-
30 مارچ 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

اہور(سعید چودھری )ماضی کے دو ادوار میں رجوعہ ضلع چنیوٹ میں قیمتی معدنیات نکالنے کے ٹھیکہ میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی منظوری کے لئے انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سمری وزیراعلی ٰ ہاﺅس بھجوا دی۔باوثوق ذرائع کے مطابق سمری میں کہا گیا ہے کہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مذکورہ ٹھیکہ کی کرپشن کے معاملہ پر کارروائی کی مجاز ہے ۔تفصیلات کے مطابق 2007میں اس وقت کی پنجاب حکومت نے ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی ایک کمپنی کے ساتھ رجوعہ ضلع چنیوٹ میں اربوں روپے مالیت کی معدنیات نکالنے کے لئے باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے اور بعدازاں 2008کی نگران حکومت کے دور میں اس کمپنی کے ساتھ ٹھیکہ کی منظوری دی گئی ۔جس کے تحت ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نے یہ معدنیات نکالنی تھیں اور اسے صاف کرنے کے لئے مل بھی لگانا تھی جس کی تکمیل پر معدنیات کے اس ذخیرے کے 75فیصد حصص ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو منتقل ہوجاتے اور پنجاب معدنیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے حصے میں 25فیصد حصص اور رائلٹی کے حقوق آتے ۔ذرائع کے مطابق یہ ٹھیکہ بغیر کسی اشتہار کے انتہائی جلد بازی میں دیا گیا ،اس حوالے سے متعلقہ افراد پر اربوں روپے کی خوربرد کی کوشش کا الزام ہے ۔2010میں وزیر اعلی ٰ شہباز شریف کی حکومت نے یہ ٹھیکہ منسوخ کردیا جسے مذکورہ کمپنی کے مالک ارشد وحید نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ۔ہائی کورٹ نہ صرف ٹھیکہ کی منسوخی کو جائز قرار دیا بلکہ اس ڈیل میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ نیب کو بھی ریفر کردیا ۔سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم نیب نے یہ قرار دے کر معاملہ داخل دفتر کردیا کہ "کرپشن "کے اس کیس میں رقم کی ریکوری کا معاملہ نہیں ہے اس لئے نیب کو کارروائی کا اختیار نہیں ۔بعدازاں یہ معاملہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے سپردکردیا گیا ،جس نے انکوائری مکمل کرکے اندراج مقدمہ کی منظوری کے لئے سمری وزیر اعلیٰ ہاﺅس بھجوا دی ہے ۔ذرائع کے مطابق 2007-2008ءکی حکومتوں کے مرکزی عہدیداروں کے علاوہ اس وقت کے سیکرٹری معدنیات اور وزیر معدنیات کو بھی مذکورہ غیر قانونی ٹھیکے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔یادرہے کہ اس وقت کے وزیر معدنیات اب پاکستان تحریک انصاف کے میانوالی سے ممبر پنجاب اسمبلی ہیں ۔

Published in بزنس

اہور(سعید چودھری )ماضی کے دو ادوار میں رجوعہ ضلع چنیوٹ میں قیمتی معدنیات نکالنے کے ٹھیکہ میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی منظوری کے لئے انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سمری وزیراعلی ٰ ہاﺅس بھجوا دی۔باوثوق ذرائع کے مطابق سمری میں کہا گیا ہے کہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مذکورہ ٹھیکہ کی کرپشن کے معاملہ پر کارروائی کی مجاز ہے ۔تفصیلات کے مطابق 2007میں اس وقت کی پنجاب حکومت نے ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی ایک کمپنی کے ساتھ رجوعہ ضلع چنیوٹ میں اربوں روپے مالیت کی معدنیات نکالنے کے لئے باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے اور بعدازاں 2008کی نگران حکومت کے دور میں اس کمپنی کے ساتھ ٹھیکہ کی منظوری دی گئی ۔جس کے تحت ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نے یہ معدنیات نکالنی تھیں اور اسے صاف کرنے کے لئے مل بھی لگانا تھی جس کی تکمیل پر معدنیات کے اس ذخیرے کے 75فیصد حصص ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو منتقل ہوجاتے اور پنجاب معدنیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے حصے میں 25فیصد حصص اور رائلٹی کے حقوق آتے ۔ذرائع کے مطابق یہ ٹھیکہ بغیر کسی اشتہار کے انتہائی جلد بازی میں دیا گیا ،اس حوالے سے متعلقہ افراد پر اربوں روپے کی خوربرد کی کوشش کا الزام ہے ۔2010میں وزیر اعلی ٰ شہباز شریف کی حکومت نے یہ ٹھیکہ منسوخ کردیا جسے مذکورہ کمپنی کے مالک ارشد وحید نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ۔ہائی کورٹ نہ صرف ٹھیکہ کی منسوخی کو جائز قرار دیا بلکہ اس ڈیل میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ نیب کو بھی ریفر کردیا ۔سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم نیب نے یہ قرار دے کر معاملہ داخل دفتر کردیا کہ "کرپشن "کے اس کیس میں رقم کی ریکوری کا معاملہ نہیں ہے اس لئے نیب کو کارروائی کا اختیار نہیں ۔بعدازاں یہ معاملہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے سپردکردیا گیا ،جس نے انکوائری مکمل کرکے اندراج مقدمہ کی منظوری کے لئے سمری وزیر اعلیٰ ہاﺅس بھجوا دی ہے ۔ذرائع کے مطابق 2007-2008ءکی حکومتوں کے مرکزی عہدیداروں کے علاوہ اس وقت کے سیکرٹری معدنیات اور وزیر معدنیات کو بھی مذکورہ غیر قانونی ٹھیکے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔یادرہے کہ اس وقت کے وزیر معدنیات اب پاکستان تحریک انصاف کے میانوالی سے ممبر پنجاب اسمبلی ہیں ۔

Published in Slides

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement