A+ R A-
20 اکتوبر 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

Slides

Slides (12)

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارلحکومت میں قلعہ گجرسنگھ پولیس لائنز  اور سکول کے قریب ہوٹل کے باہر دھماکے سے 8افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ پولیس لائنز کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔پولیس نے شبہ ظاہر کیاکہ یہ خود کش حملہ ہوسکتاہے ، دہشتگرد نے پولیس لائنز کے اندر داخلے میں ناکامی پر خود کو باہر پارکنگ میں ہی اُڑالیا ، مبینہ حملہ آور ریلوے سٹیشن کی طرف سے آیا اور ہوٹل کے باہر خود کو اُڑا لیا تاہم حتمی طورپر نوعیت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔دوسری طرف سی سی پی او لاہور کاکہناتھاکہ یہ نصب شدہ بم کا دھماکہ تھا۔


 عینی شاہدین کے مطابق ایک گاڑی میں بارودی مواد نصب کیاگیاتھا جس کے دھماکے کے بعد دھویں کے کالے بادل اُٹھتے کھائی دیئے جبکہ چارلاشیں ایک ہی گاڑی سے نکالی گئیں۔بتایاگیاہے کہ دھماکے کے فوری بعد پولیس لائنز کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں جبکہ کم ازکم چارگاڑیوں میں آگ لگ گئی،دیگر کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، موٹرسائیکلوں کو بھی نقصان پہنچاجبکہ شہیدوزخمی ہونیوالوں میں کوئی پولیس اہلکار شامل نہیں ۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق ایک شخص گاڑی سے اُترااوراُس کے ساتھ ہی دھماکہ ہوگیا جس کے بعد دھماکے کے علاقے میں پولیس نے شامیانے لگادیئے اور میڈیا کا داخلہ بھی بند کردیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے دھماکے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے جبکہ پولیس لائنز کے اندر سے بھی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں ۔
 دھماکے کے بعد ایمبولینسیں اور پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی اور سیکیورٹی فورسز نے آمدورفت کے لیے سڑکیں بند کرکے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔دھماکے کے بعد لاہوربھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ۔

میو ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اُنہوں نے ریڈ الرٹ جاری کرکے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

دھماکے کے اطلاع ملتے ہی قریبی سکول میں زیرتعلیم بچوں کے ورثاء کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئیں ، خواتین روتی چلاتی موقع پر پہنچیں لیکن  سکول کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں ۔

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11فروری 2015ء ) تاجروں کی تنظیم تاجر اتحادنے بجلی کے ناروا لوڈ شیڈنگ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب بے جا جرمانوں کے خلا ف سے فاروق اعظم چوک میں روزانہ کی بنیاد پر صبح نو بجے سے شام چار بجے تک غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ۔حتجاجی کیمپ میں کثیر تعداد می دوکاندارواور سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔اس موقع پر تاجر اتحادکے صدر صلاح الدین شاکر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آئے روز دکانداروں پر بھاری بھرکم جرمانے عائد کی جاتے ہیں جس سے بازار کے دکاندار عاجز آگئے ہیں اوران بے جا جرمانوں سے نہ صر ف دکانداروں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں بلکہ دکانداروں کے گھر وں میں فاقوں کی نوبت بھی پہنچ چکی ہے ۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے شہری علاقوں میں پندرہ پندرہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جس سے بھی روز گار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ دکانداروں کے مالکان کی جانب سے بھی آئے روز تنگ کیا جاتا ہے جس کے خلا ف تاجر اتحاد نے غیر معینہ مد ت کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا ہے ۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بے جا جر مانوں کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا اور محکمہ واپڈ اکی جانب سے شہری علاقوں میں لو د شیڈنگ کا دورانیہ کم نہیں کیا جاتا اس وقت تک دکانداروں کی جانب سے بھوک ہرتالی کیمپ قائم رہے گا۔

میکسیکو: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکا میں 3 مسلمان طلبا کے قتل پر امریکی صدر براک اوباما کی  جانب سے خاموشی اختیارکرنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس حوالے سے اپنا موقف واضح کریں۔

 

میکسیکو میں موجود ترک صدر  نےایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں 3 مسلمان قتل کردیئے گئے لیکن اس کے باوجود امریکی صدر،وزیر خارجہ جان کیری اور نائب صدر جوبائیڈن کی جانب سے کوئ

ی بیان تک سامنے نہیں آیا، سیاست دان اپنے ملک میں ہونے والے واقعات کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس لئے انہیں اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا سلامتی کونسل کے 5 مستقل ممبران سے کہیں زیادہ بڑی ہے اگر اس قسم کے واقعات پر خاموش رہا گیا تو دنیا امریکا کی حمایت میں بھی آواز بلند نہیں کرے گی۔

 

واضح رہے کہ 2 روز قبل 23 سالہ ضیا برکت کو ان کی اہلیہ 21 سالہ یسر محمد اوران کی بہن 19 سالہ رزان محمد کے ہمراہ چیپل ہل میں واقع ان کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیاگیا تھا جبکہ مقتولین کے والد کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ میری 2 بیٹیوں اور داماد کو مذہب سے نفرت کی وجہ سے قتل کیا گیا جبکہ امریکی میڈیا نے شہریوں پر بار بار اسلامی دہشت گردی کے لفظ کی یلغار کرکے انہیں مسلمانوں سے خوفزدہ کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شدت پسند عیسائی ہمیں نشانہ بنارہے ہی

اسلام آباد: پمز اسپتال میں نامعلوم شخص کی فائرنگ سے ماہر امراض قلب شدید زخمی ہوگئے۔

 

پمز اسپتال میں تعینات ماہر امراض قلب ڈاکٹر شاہد نواز مریضوں کے معائنے کے بعد عمارت سے باہر ہی نکلے تھے کہ ایک شخص ان پر فائرنگ کرکے فرار ہوگیا۔ ڈاکٹر شاہد نواز کو فوری طور پر سرجیکل وارڈ کے شعبہ انتہائی نگہداشت میں منتقل کرکے علاج شروع کردیا گیا۔ ترجمان پمز اسپتال کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہد نواز کو سینے اور سر کے بائیں جانب گولیاں لگی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے تاہم ان کی زندگی بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

واقعے کے بعد رینجرز نے اسپتال کے تمام دروازے بند کرکے سیکیورٹی کو سخت کردیا ہے جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرلیے ہیں

اسلام آباد: دنیا بھر میں جہاں کرکٹ ورلڈکپ کی دھوم ہے وہیں پاکستان اور بھارت کے انتہائی اہم مقابلے کو لے کر پاکستانی سیاستدان بھی کچھ جذباتی نظر آتے ہیں اسی لیے حکومت نے پاک بھارت میچ کے دوران ملک بھر میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن پانی بجلی کے وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ اگر قومی ٹیم فائنل تک پہنچی تو پورے ماہ لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔

 

ایکسپریس نیوز کےمطابق ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ پر جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بیشتر ارکان پارلیمنٹ نے روایتی حریف کے سامنے قومی ٹیم کو فیورٹ قرار دیا اور اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مقابلے میں ہماری ٹیم فیورٹ ہے اور اس بار بھارت سے جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے جب کہ پیپلزپارٹی کے رہنما ایازسومرو نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاک سرزمین کے کھلاڑی جیت کر آئیں۔

وزیر مملکت پانی وبجلی عابد شیر علی نے کہا کہ اس وقت ٹیم اسپرٹ بہت بہتر ہے، قومی ٹیم اس بار نہ صرف بھارت سے جیتے گی بلکہ 1992 کی طرح فاتح بننے کی تاریخ بھی دہرائے گی جبکہ وزیر مملکت نے قوم کو خوشخبری بھی سنائی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی ٹیم جیتتی رہی اور فائنل تک پہنچی تو پورے ماہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔

یڈیلیڈ: دنیا بھر کی نظریں پاکستان اور بھارت کے درمیان آسٹریلیا کے میدان ایڈیلیڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے گروپ میچ پرلگی ہوئی ہیں اور دونوں ٹیمیں اس کی بھر پور تیاری کر رہی ہیں جب کہ میچ کے دوران سورج بھی اپنے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر رہے گا۔

 

روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ کے لیے قومی ٹیم کے پاس 15 کھلاڑی دستیاب ہیں جن میں سے اس انتہائی اہم میچ کے لیے جن کھلاڑیوں کو مصباح الیوان کا حصہ بننے کے لیے منتخب کیا جاسکتا ہے ان میں احمد شہزاد، احسان عادل، حارث سہیل، محمد عرفان، ناصر جمشید، راحت علی، سرفراز احمد، شاہد آفریدی، صہیب مقصود، سہیل خان، عمر اکمل، وہاب ریاض، یاسر شاہ اور یونس خان شامل ہیں۔

دوسری جانب بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی کے پاس جو کھلاڑی دستیاب ہیں ان ہی میں سے اعصاب شکن مقابلے کے لیے مہروں کو چنا جائے گا جن میں ایشون، اسٹیورٹ بینی، شیکر دھون، راویندرا جڈیجا، ویرات کوہلی، بھونیشور کمار، اکشر پٹیل، آجنکیا راہنے، سریش رائنا، امبتی ریادو، مہت شرما، روہت شرما، محمد سمیع اور امیش یادیو شامل ہیں۔

پاک بھارت میچ میں فیلڈ امپائرنگ کے فرائض انگلینڈ کے رچرڈ کیٹل بوروف اور آیان گاولڈ انجام دیں گے، ٹی وی امپائر آسٹریلیا کے اسٹیو ڈیوس ہوں گے جب کہ میچ ریفری کی ذمہ دار رانجن مادو گالے نبھائیں گے۔

ماحول کو گرما دینے والے اس میچ کے روز ایڈیلیڈ کا موسم بھی کچھ گرم رہے گا جہاں آسٹریلوی محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا کوئی امکان نہیں اور درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا جس کے باعث گرمی بھی اپنے عروج پر ہوگی۔

 

اہور(سعید چودھری )ماضی کے دو ادوار میں رجوعہ ضلع چنیوٹ میں قیمتی معدنیات نکالنے کے ٹھیکہ میں اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ کے اندراج کی منظوری کے لئے انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سمری وزیراعلی ٰ ہاﺅس بھجوا دی۔باوثوق ذرائع کے مطابق سمری میں کہا گیا ہے کہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ مذکورہ ٹھیکہ کی کرپشن کے معاملہ پر کارروائی کی مجاز ہے ۔تفصیلات کے مطابق 2007میں اس وقت کی پنجاب حکومت نے ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ نامی ایک کمپنی کے ساتھ رجوعہ ضلع چنیوٹ میں اربوں روپے مالیت کی معدنیات نکالنے کے لئے باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے اور بعدازاں 2008کی نگران حکومت کے دور میں اس کمپنی کے ساتھ ٹھیکہ کی منظوری دی گئی ۔جس کے تحت ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی نے یہ معدنیات نکالنی تھیں اور اسے صاف کرنے کے لئے مل بھی لگانا تھی جس کی تکمیل پر معدنیات کے اس ذخیرے کے 75فیصد حصص ارتھ ریسورسز پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو منتقل ہوجاتے اور پنجاب معدنیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے حصے میں 25فیصد حصص اور رائلٹی کے حقوق آتے ۔ذرائع کے مطابق یہ ٹھیکہ بغیر کسی اشتہار کے انتہائی جلد بازی میں دیا گیا ،اس حوالے سے متعلقہ افراد پر اربوں روپے کی خوربرد کی کوشش کا الزام ہے ۔2010میں وزیر اعلی ٰ شہباز شریف کی حکومت نے یہ ٹھیکہ منسوخ کردیا جسے مذکورہ کمپنی کے مالک ارشد وحید نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ۔ہائی کورٹ نہ صرف ٹھیکہ کی منسوخی کو جائز قرار دیا بلکہ اس ڈیل میں ملوث افرادکے خلاف کارروائی کے لئے معاملہ نیب کو بھی ریفر کردیا ۔سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تاہم نیب نے یہ قرار دے کر معاملہ داخل دفتر کردیا کہ "کرپشن "کے اس کیس میں رقم کی ریکوری کا معاملہ نہیں ہے اس لئے نیب کو کارروائی کا اختیار نہیں ۔بعدازاں یہ معاملہ انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے سپردکردیا گیا ،جس نے انکوائری مکمل کرکے اندراج مقدمہ کی منظوری کے لئے سمری وزیر اعلیٰ ہاﺅس بھجوا دی ہے ۔ذرائع کے مطابق 2007-2008ءکی حکومتوں کے مرکزی عہدیداروں کے علاوہ اس وقت کے سیکرٹری معدنیات اور وزیر معدنیات کو بھی مذکورہ غیر قانونی ٹھیکے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔یادرہے کہ اس وقت کے وزیر معدنیات اب پاکستان تحریک انصاف کے میانوالی سے ممبر پنجاب اسمبلی ہیں ۔

خیبر ایجنسی( مانیٹرنگ ڈیسک ) سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران امامیہ مسجد پر خود کش حملہ کرنے والے مبینہ دہشت گرد گرفتار کر لیے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز امام بارگاہ امامیہ مسجد میں خود کش حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔خیبر ایجنسی میں سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران 6 دہشت گرد گرفتار کیے ہیں جن میں سے 2 دہشت گردوں پر امامیہ مسجد پر خود کش حملہ کرنے والوں کے سہولت کار تھے جبکہ ایک دہشت گرد پر مالی معاونت کا الزام بھی ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پرویز مشرف اہلیت کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پر ویز مشرف کو اسمبلی رکنیت سے نا اہل قرار دےدیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پرویز مشرف اہلیت کیس کی سماعت جسٹس مقبول باقر کی سرباراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس نے اپنے تفصیلی فیصلے میں پرویز مشرف نے اسمبلی رکنیت کیلئے نا اہل قرار دے دیا ہے۔جسٹس مقبول باقر کاکہنا تھا کہ پرویز مشرف با کردار نہیں ہیں اور آئین کے آرٹیکل 62,63 پر پورا نہیں اترتے اس لیے انہیں اسمبلی رکنیت کیلئے اہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اہور (ویبڈ یسک) ویلنٹائن ڈے سے ایک روز قبل شہر میں گلاب کا ایک پھول 10 تا 20 روپے کے بجائے 50 تا 100 اور کچھ مقامات پر 200 روپے میں بھی فروخت ہوتا رہا، دوسری جانب 200روپے والا بکے 500 روپے میں اور 500 روپے والا بکے 800 روپے میں فروخت کیا جاتا رہا۔ جیولری بھی مہنگی ہوگئی، 500 روپے والی رنگ 1000 روپے میں اور 1000 روپے والی رنگ 1500 روپے میں فروخت کی جاتی رہی۔ لاہور کی تمام بڑی چھوٹی مارکیٹیں گزشتہ روز گاہکوں اور سٹالز سے سج گئیں۔ گلاب کے پھول، جیولری اور گفٹ شاپ کی دکانوں پر لڑکے اور لڑکیوں کی کثیر تعداد خصوصاً بچیاں اپنے پیاروں کے لئے گفٹ خریدنے میں مصروف نظر آئیں۔

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement