A+ R A-
23 مارچ 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

بین الاقوامی خبریں

بین الاقوامی خبریں (16)

ابوجا: نائجیریا میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے تازہ حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ اس دوران کئی املاک کو بھی آگ لگادی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ بوکو حرام نے گووزا قصبے کے کئی گاؤں پر حملہ کرکے متعدد گھروں، مساجد اور گرجا گھروں کو جلا دیا جس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے جبکہ جان بچانے کی کوشش کے دوران علاقے سے نکلنے والے متعدد افراد کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا، مقامی افراد کے مطابق شدت پسند تنظیم کے حملے میں تقریباً 500 افراد ہلاک ہوئے تاہم خراب مواصلاتی نظام اور آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں کی حتمی تعداد سے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

واضح رہے کہ بوکو حرام تنظیم کی جانب سے یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی یہ تنظیم نائجیریا کے متعدد قصبوں اور علاقوں میں کئی حملے کرچکی ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ نائیجیرین حکومت ان کے سامنے پوری طرح بے بس نظر آتی ہے۔

برسلز: طاقتور مغربی ممالک کی تنظیم جی سیون نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس یوکرین میں مداخلت سے باز نہ آیا تو اسے مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے جی 8 ممالک کی تنظیم سے بیدخلی کے بعد پہلی مرتبہ بیلجیم کے شہر برسلز میں جی سیون تنظیم کے رہنماؤں نے ملاقات کی، ملاقات میں امریکی صدر بارک اوباما، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے علاوہ دیگر رہنما شریک تھے۔ اس موقع پرمغربی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یوکرین میں روس کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا خاتمہ ہونا چاہیے اگر روسی مداخلت ختم نہ ہوئی تو اس پر مزید سخت پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔

جی سیون ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے موجودہ حالات میں یوکرین کو تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا اور جی سیون ممالک سیاسی اور اقتصادی طور پر یوکرین کے ساتھ کھڑی ہیں جبکہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ  روس پر اضافی پابندیوں پر جلد عملدرآمد شروع کردیا جائے گا۔

دوسری جانب روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو حکومت نو منتخب یوکرینی صدر پوروشینکو کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے، روسی صدر نے  کہا کہ وہ امریکی صدر بارک اوباما کے ساتھ بھی یوکرین کے معاملے پر بات چیت کے لئے تیار ہیں تاہم واشنگٹن کی جانب سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

صفحہ 2 کا 2

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement