A+ R A-
17 اکتوبر 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

ماسکو (نیوز ڈیسک) کیا یہ خلائی مخلوق کا کام ہے، زمین کے اندر کوئی بہت بڑا دھماکہ ہوا ہے یا پھر آسمان سے کوئی شہاب ثاقب گر اہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو زمین کے انتہائی شمال میں واقع بے آب و گیاہ برف کے صحرا سائبیریا میں سینکڑوں فٹ قطر کا سوراخ نمودار ہونے پر پوچھے جارہے ہیں۔ دنیا بھر کے سائنسدان حیران ہیں کہ آخر زمین میں اتنا بڑا سوراخ کیسے ہوگیا، اس کی گہرائی کتنی ہے اور آخر اس کے اندر کیا ہے؟ فضا سے لی گئی تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ سائبیریا کے علاقے یمال میں تقریباً 262 فٹ قطر کا خوفناک چوڑائی اور گہرائی والا سوراخ ہوچکا ہے۔ سائبیریا کا علاقہ روس کے شمال میں واقع ہے اور اس علاقے کے انتہائی شمال میں یمال کا علاقہ واقع ہے جو دنیا کی دور افتادہ ترین جگہ سمجھی جاتی ہے اور اسی لئے اسے ”دنیا کا آخری کونہ“ کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ قدرتی گیس کی پیداوار کیلئے بہت مشہور ہے اور یہاں روسی پائپ لائنوں کے علاوہ زندگی کے کوئی آثار نہیں نہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زمین کے نیچے گیسوں کے جمع ہوجانے کے بعد دھماکہ ہوا ہے تو بعض کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں درجہ حرارت بڑھنے سے یہ سوراخ ہوگیا ہے، ابھی تک کوئی بھی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی ہے اور سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو تحقیقات کیلئے علاقے کی طرف روانہ کردیا گیا ہے۔

بغداد: دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے جنگوؤں کی جانب سے عراق کے شمالی شہر تکریت سے اغوا کی گئی 46 بھارتی نرسوں کو رہا کردیا گیا۔

 

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق عراق اور شام میں اسلامی ریاست کے قیام کے لئے حکومت کے خلاف برسر پیکار دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نے تکریت سے اغوا کی گئی بھارت سے تعلق رکھنے والی 46 نرسوں کو بھارتی حکام کے حوالے کردیا جس کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے تمام نرسوں کو عربیل کے ہوائی اڈے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق داعش جنگوؤں سے رہائی پانے والی نرسیں کل ریاست کیرالہ کے شہر کوچی پہنچیں گی۔

واضح رہے کہ بھارتی نرسیں سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں ایک اسپتال میں کام کررہی تھیں، اس شہر پر بھی گذشتہ ماہ دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے قبضہ کرلیا تھا، مغوی نرسوں کا تعلق بھارتی ریاست کیرالہ سے ہے اور انہیں داعش جنگجوؤں کی جانب سے جمعرات کواغواگیا گیاتھا۔

دمشق: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث تقریبا 66 لاکھ بچوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔

 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے یونیسیف کے ترجمان سائمن انگرام کا کہنا ہے کہ امداد کے منتظر شامی بچوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ تعداد تین گُنا تک پہنچ چکی ہے، جون 2013 میں یہ تعداد 20 لاکھ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو امدادی کاموں کے لیے رواں برس تک درکار 770 ملین امریکی ڈالرز میں سے اب تک محض 37 رقم ہی ملی ہے، اگر مزید امدادی رقم نہ مل سکی تو امدادی کام روکنے پر مجبور ہوں گے جس سے بچوں کے لیے صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔

 

واضح رہے کہ مارچ 2011 سے شام میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد لوگ ہلاک جب کہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتہ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب صرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہا ہے کہ صرف شام میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک کی ضرورت ہے جس میں سے تقریبا 50 لاکھ بچے شامل ہیں جب کہ بڑی تعداد میں دوسرے ممالک میں پناہ لئے مہاجرین کو بھی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

واشنگٹن: امریکا نے مغوی فوجی کی رہائی کے بدلے چھوڑے گئے 5 افغان طالبان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہا کئے گئے طالبان قیدی دہشت گرد نہیں بلکہ جنگی قیدی تھے

۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاوس کے ترجمان جے کارنے نے کہا کہ افغانستان میں طالبان اس جنگ کا ایک جنگی فریق ہے جس میں امریکا گزشتہ 10 برس سے شامل ہے۔ جے کارنے کا کہنا تھا کہ امریکا نے قطر کی حکومت کے ذریعے مذاکرات کو کامیاب بناتے ہوئے گوانتاناموبے میں قید 5 طالبان قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنایا اور اِسی فیصلے کے نتیجے میں امریکی فوجی کو بحفاظت آزاد کروایا۔

دوسری جانب  امریکی صدر بارک اوبامہ نے بھی اپنے اِس اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کبھی بھی اپنے فوجیوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ انہیں امریکی فوجی کی رہائی کا موقع ملا جس کا انہوں نے فائدہ اٹھایا۔

واضح رہے کہ امریکی فوجی کی آزادی کے بدلے 5 طالبان قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کی وجہ سے اوباما حکومت پر مسلسل تنقید ہورہی ہے۔ ریپبلیکن پارٹی مطالبہ کررہی ہے کہ اِس فیصلے کے خلاف امریکی صدر بارک اوبامہ سے جواب طلبی ہونی چاہیے کیونکہ اُنہوں نے کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر یہ فیصلہ کیا ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہے جبکہ افغانستان نے بھی اِس فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔

پونے: مودی حکومت آتے ہی جہاں انتہا پسند ہندو  بھارت میں سینہ چوڑا کرکے چل رہے ہیں وہیں اپنی مسلمانوں سے ازلی دشمنی میں بھی اتنے آگے چلے گئے ہیں کہ مسلمان آئی ٹی پروفیشنل کو  صرف ایک تصویر کا بہانہ بنا کر مار مار کر شہید کردیا۔

رپورٹ کے مطابق ریاست مہاراشٹرا کے شہر ہدپسار کی بنکار کالونی کے 28 سالہ رہائشی شیخ محسن صادق نے ہندوؤں کے دیوتا ’’شیوا جی‘‘ اور ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے آنجہانی سربراہ بال ٹھاکرے کی تصاویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ڈالی جس پر احتجاج شروع ہوگیا اور انتہا پسند تنظیم ہندو راشٹرا سینا کے  کارندوں نے موقع پاکر شیخ محسن پر حملہ کرکے لاٹھیوں کے وار سے شدید زخمی کردیا، شیخ محسن کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شیخ محسن پر حملہ کرنے والے تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے تحقیقات جاری ہے

بیجنگ: چین نے شمال مشرقی صوبے سنکیانگ میں ہونے والے فسادات میں ملوث ہونے پر 81 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت سمیت مخلتف سزائیں سزا دی ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق  عدالتوں نے شمالی مغربی صوبے سنکیانگ میں ہونے والے فسادات میں ملوث ہونے پر 81 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزائیں سنا دی ہیں، ان میں سے 9 افراد کو سزائے موت بھی سنائی گئی ہے۔ ان افراد پر قتل اور جلاؤ گھیراؤ سمیت 23 مقدمات دائر تھے۔

واضح رہے کہ چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں گزشتہ برس ہونے والے فسادات میں درجنوں افراد ہلاک جب کہ املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

ابوجا: نائجیریا میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے تازہ حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ اس دوران کئی املاک کو بھی آگ لگادی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ بوکو حرام نے گووزا قصبے کے کئی گاؤں پر حملہ کرکے متعدد گھروں، مساجد اور گرجا گھروں کو جلا دیا جس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے جبکہ جان بچانے کی کوشش کے دوران علاقے سے نکلنے والے متعدد افراد کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا، مقامی افراد کے مطابق شدت پسند تنظیم کے حملے میں تقریباً 500 افراد ہلاک ہوئے تاہم خراب مواصلاتی نظام اور آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں کی حتمی تعداد سے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

واضح رہے کہ بوکو حرام تنظیم کی جانب سے یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی یہ تنظیم نائجیریا کے متعدد قصبوں اور علاقوں میں کئی حملے کرچکی ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ نائیجیرین حکومت ان کے سامنے پوری طرح بے بس نظر آتی ہے۔

برسلز: طاقتور مغربی ممالک کی تنظیم جی سیون نے دھمکی دی ہے کہ اگر روس یوکرین میں مداخلت سے باز نہ آیا تو اسے مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے جی 8 ممالک کی تنظیم سے بیدخلی کے بعد پہلی مرتبہ بیلجیم کے شہر برسلز میں جی سیون تنظیم کے رہنماؤں نے ملاقات کی، ملاقات میں امریکی صدر بارک اوباما، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے علاوہ دیگر رہنما شریک تھے۔ اس موقع پرمغربی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یوکرین میں روس کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور ان کا خاتمہ ہونا چاہیے اگر روسی مداخلت ختم نہ ہوئی تو اس پر مزید سخت پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔

جی سیون ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے موجودہ حالات میں یوکرین کو تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا اور جی سیون ممالک سیاسی اور اقتصادی طور پر یوکرین کے ساتھ کھڑی ہیں جبکہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ  روس پر اضافی پابندیوں پر جلد عملدرآمد شروع کردیا جائے گا۔

دوسری جانب روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے فرانسیسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو حکومت نو منتخب یوکرینی صدر پوروشینکو کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے، روسی صدر نے  کہا کہ وہ امریکی صدر بارک اوباما کے ساتھ بھی یوکرین کے معاملے پر بات چیت کے لئے تیار ہیں تاہم واشنگٹن کی جانب سے یوکرین میں فوجی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement