A+ R A-
19 نومبر 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

آذربائیجان مغربی ایشیا اور مغربی یورپ کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے جو اپنی شان دار ثقافت اور پرشکوہ تاریخ کے لیے جانا جاتا ہے۔

 

 

خوب صورت اور تاریخی تفریحی مقامات کی وجہ سے یہ ملک سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ اس کے آتش فشاں پہاڑ دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ان ہی میں سے ایک Yanar Dag ہے جس کا مقامی زبان میں مطلب ہے ’’ جلتی چٹانیں ‘‘۔ انھیں ’جلتی چٹانیں‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ حقیقتاً اس پہاڑی کے اطراف ہمہ وقت آگ بھڑکتی رہتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ آگ کب سے لگی ہوئی ہے، اور بہ ظاہر اس کے بجھ جانے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔

 

Yanar Dag دراصل 116 میٹر اونچی پہاڑی ہے جو Absheron Peninsul کے شمال مشرق میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس پہاڑی کے نیچے قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے۔ ذخیرے میں سے گیس پہاڑی رخنوں سے شعلوں کی صورت میں باہر نکلتی رہتی ہے۔ شعلے دس میٹر تک بلند ہوتے ہیں۔ پہاڑی کے اطراف کی فضا گیس کی بُوکی وجہ سے بوجھل محسوس ہوتی ہے۔

 

دل چسپ بات یہ ہے کہ پہاڑی میں سے پھوٹنے والے چشموں کے پانی میں بھی دیاسلائی دکھانے پر آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ چشموں کے پانی میں سلفر کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے۔ اطراف کے دیہات میں بسنے والے اس پانی سے خوف زدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ پانی طبی خصوصیات سے مالامال ہے۔ چناں چہ وہ گھنٹوں چشموں کے کنارے پر بیٹھے اپنے پاؤں پانی میں ڈبوئے رکھتے ہیں۔ پہاڑی سے 200 میٹر کی دوری پر ایک ’ نیم خوابیدہ ‘ آتش فشاں موجود ہے جس کے دہانے میں سے مٹی اور سلفر کے پانی کا آمیزہ خارج ہوتا ہے۔ مقامی لوگ اس لاوے کو بھی مختلف امراض کے لیے شافی سمجھتے ہیں

 

Yanar Dag سے پھوٹتی آگ کے حوالے سے مقامی سطح پرمختلف داستانیں پائی جاتی ہیں۔ ایک داستان کے مطابق ایک چرواہے نے جلتی ہوئی سگریٹ یہاں پھینک دی تھی جس کے نتیجے میں پہاڑی کے اطراف آگ بھڑک اٹھی جو اب تک روشن ہے۔

چوں کہ یہ آگ سال بھر روشن رہتی ہے اس لیے زرتشت مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اسے مقدس سمجھنا شروع کردیا ہے۔ مقامی آتش پرستوں کے علاوہ بھارت اور ایران سے بھی لوگ اس ’ مقدس ‘ مقام کی زیارت کے لیے آنے لگے ہیں۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بیمار یہاں آکر شفایاب ہوجاتے ہیں جب کہ شرابی اور منشیات کے عادی افراد کے لیے اس مقام کی سیر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آذر بائیجان کی سرزمین میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ مذکورہ پہاڑی بھی ایک ایسا ہی مقام ہے جہاں زیر زمین گیس کا وسیع ذخیرہ ہے، اور یہ ذخیرہ ہی ’ جلتی پہاڑی ‘ کا راز ہے۔

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement