A+ R A-
23 ستمبر 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نوا ز شریف نے کہاہے کہ میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان جمہوریت کے راستے سے نہیں ہٹے گا، میڈیا کا کردار درھرنا سیاست میں اتنا قابل تحسین نہیں ،ہم خود جکڑ ے گئے پر میڈیا کی آزادی کو نہیں جکڑا,پاکستان کے کچھ معاملات میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا سکتا۔سی پی این کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اعظم نے کہاکہ میڈیا نے دھرنے کے دوران میرے مستعفی ہونے کی خبریں بھی چلائیں لیکن صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اور سب کچھ برداشت کرتے رہےاور نہ ہی میڈیا کی آزادی پر کوئی آنچ آنے دی۔انہوں نے کہاکہ کچھ ایسے بھی صحافی ا ن کے سامنے بیٹھے ہیں جنہوں نے مشرف کے مارشل لاءکو سپورٹ کیا لیکن کچھ ایسے صحافی بھی ہیں جنہوں نے اس کو سپورٹ نہیں کیاہےاور قانون کے دامن کو تھامے رکھا،اگر میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی ڈیل نہیں ہو گی۔

نواز شریف نے کہاکہ میڈیا خواہ مخواہ کسی کی پگڑی نہ اچھالے بلکہ سچ کا دامن تھامے رکھے اور ظلم کیخلاف آواز بلند کرتا رہے ۔کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جس میں میڈیا اکھٹا ہو جاتاہے لیکن کچھ ایسے بھی معاملات ہوتے ہیں جن میں میڈیا اکھٹا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ نے اس موقع پر دھرنا سیاست نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا جس کے باعث روپے کی قدر میں کمی آئی دوسر ا یہ کہ چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیاہے اور دنیا میں پاکستان کے امیج پر اثر پڑا جو کہ انتہائی قابل افسوس بات ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہاہے ،پاکستان میں سب بڑا آپریشن دہشت گردی کیخلاف چل رہاہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اختلافات بھلا کر اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے لیکن اب میڈیا کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرناہے اور پاکستان کیخلا ف اٹھنے والی ہر آواز کو پسپا کرنا ہے ۔
نواز شریف نے کہاکہ وزارت عظمی کوئی پھولوں کا سیج نہیں ہے اور نہ ہی اس پر بیٹھنا اتنا آسان لیکن قوم کی بہتری کے لیے یہ ذمہ داری قبول کی اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سنگین مسائل کو اسی دور حکومت میں حل کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ایل این جی کے ذریعے 2017میں 3600میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے ملک میں جاری توانائی بحران ختم کرنے میں بہت زیاد مدد ملے گی۔
ان کا کہناتھاکہ اگر وہ کسی کو پسند نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مجھ پر الزام لگانا شروع کردے، میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی مناسب بات ہے اور اس طرح کے الزامات لگانا میڈیا کو زیب نہیں دیتا ۔انہوں نے کہا انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی کسی کی غیبت نہیں کروں گا اور آج تک اپنی بات پر قائم ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کے قصور وار کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو انصاف کے تقاضے پورے کے جائیں گے ۔انہو ں نے کہاکہ پاکستان کے معاملا ت میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ،بعض معاملات میں غیر ملکی ہاتھ ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں ۔

اس موقع پر  سی پی این ای (کونسل آف نیوزپیپرز ایڈیٹرز)کے صدر مجیب الرحمان شامی نے وزیراعظم نوازشریف کا تقریب میں شرکت پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں جب سے وزیراعظم صاحب نے منصب سنبھالہ ہے میڈیاپر کوئی سلب نہیں آئی ،آپ نے میڈیا کی آزادی کے لیے بہت کچھ کیا۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں بار بار آئین کی پامالی کے باعث ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل درپیش ہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف کے دہشت گردی کیخلاف اقدامات قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی کوششوں سے ملکوں میں بہت زیادہ خوشحالی آئی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن گورننس کی شفافیت کے حوالے سے کافی شکایات ملتی نظر آتی ہیں اور وزراءبھی بطور ٹیم کام کرتے نظر نہیں آتے اور حالیہ پٹرول بحران میں یہ باتیں کھل کر سامنے آئیں۔
روز نامہ پاکستان کے ایڈیٹر انچیف اورسی پی این ای کے صدرسینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہاہے کہ آپ کی حکومت نے کراچی میں امن اور کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ انتہائی قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی حکومت سے پہلے 15سالوں میں کسی نے بھی دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ایکشن پلان نہیں بنایا اور یہ اعزاز بھی آپ کو ہی حاصل ہوا۔

Published in قومی خبریں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نوا ز شریف نے کہاہے کہ میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان جمہوریت کے راستے سے نہیں ہٹے گا، میڈیا کا کردار درھرنا سیاست میں اتنا قابل تحسین نہیں ،ہم خود جکڑ ے گئے پر میڈیا کی آزادی کو نہیں جکڑا,پاکستان کے کچھ معاملات میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا سکتا۔سی پی این کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اعظم نے کہاکہ میڈیا نے دھرنے کے دوران میرے مستعفی ہونے کی خبریں بھی چلائیں لیکن صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اور سب کچھ برداشت کرتے رہےاور نہ ہی میڈیا کی آزادی پر کوئی آنچ آنے دی۔انہوں نے کہاکہ کچھ ایسے بھی صحافی ا ن کے سامنے بیٹھے ہیں جنہوں نے مشرف کے مارشل لاءکو سپورٹ کیا لیکن کچھ ایسے صحافی بھی ہیں جنہوں نے اس کو سپورٹ نہیں کیاہےاور قانون کے دامن کو تھامے رکھا،اگر میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی ڈیل نہیں ہو گی۔

نواز شریف نے کہاکہ میڈیا خواہ مخواہ کسی کی پگڑی نہ اچھالے بلکہ سچ کا دامن تھامے رکھے اور ظلم کیخلاف آواز بلند کرتا رہے ۔کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جس میں میڈیا اکھٹا ہو جاتاہے لیکن کچھ ایسے بھی معاملات ہوتے ہیں جن میں میڈیا اکھٹا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ نے اس موقع پر دھرنا سیاست نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا جس کے باعث روپے کی قدر میں کمی آئی دوسر ا یہ کہ چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیاہے اور دنیا میں پاکستان کے امیج پر اثر پڑا جو کہ انتہائی قابل افسوس بات ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہاہے ،پاکستان میں سب بڑا آپریشن دہشت گردی کیخلاف چل رہاہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اختلافات بھلا کر اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے لیکن اب میڈیا کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرناہے اور پاکستان کیخلا ف اٹھنے والی ہر آواز کو پسپا کرنا ہے ۔
نواز شریف نے کہاکہ وزارت عظمی کوئی پھولوں کا سیج نہیں ہے اور نہ ہی اس پر بیٹھنا اتنا آسان لیکن قوم کی بہتری کے لیے یہ ذمہ داری قبول کی اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سنگین مسائل کو اسی دور حکومت میں حل کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ایل این جی کے ذریعے 2017میں 3600میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے ملک میں جاری توانائی بحران ختم کرنے میں بہت زیاد مدد ملے گی۔
ان کا کہناتھاکہ اگر وہ کسی کو پسند نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مجھ پر الزام لگانا شروع کردے، میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی مناسب بات ہے اور اس طرح کے الزامات لگانا میڈیا کو زیب نہیں دیتا ۔انہوں نے کہا انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی کسی کی غیبت نہیں کروں گا اور آج تک اپنی بات پر قائم ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کے قصور وار کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو انصاف کے تقاضے پورے کے جائیں گے ۔انہو ں نے کہاکہ پاکستان کے معاملا ت میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ،بعض معاملات میں غیر ملکی ہاتھ ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں ۔

اس موقع پر  سی پی این ای (کونسل آف نیوزپیپرز ایڈیٹرز)کے صدر مجیب الرحمان شامی نے وزیراعظم نوازشریف کا تقریب میں شرکت پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں جب سے وزیراعظم صاحب نے منصب سنبھالہ ہے میڈیاپر کوئی سلب نہیں آئی ،آپ نے میڈیا کی آزادی کے لیے بہت کچھ کیا۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں بار بار آئین کی پامالی کے باعث ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل درپیش ہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف کے دہشت گردی کیخلاف اقدامات قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی کوششوں سے ملکوں میں بہت زیادہ خوشحالی آئی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن گورننس کی شفافیت کے حوالے سے کافی شکایات ملتی نظر آتی ہیں اور وزراءبھی بطور ٹیم کام کرتے نظر نہیں آتے اور حالیہ پٹرول بحران میں یہ باتیں کھل کر سامنے آئیں۔
روز نامہ پاکستان کے ایڈیٹر انچیف اورسی پی این ای کے صدرسینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہاہے کہ آپ کی حکومت نے کراچی میں امن اور کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ انتہائی قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی حکومت سے پہلے 15سالوں میں کسی نے بھی دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ایکشن پلان نہیں بنایا اور یہ اعزاز بھی آپ کو ہی حاصل ہوا۔

Published in Slides

بنوں (نیوز ڈیسک) آپریشن ضرب عضب کو شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ ہونے کو ہے ،اس آپریشن سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں لیکن ایک شخص ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ اس آپریشن کا سب سے زیادہ نقصان اسے ہوا ہے اور اس کی چوتھی شادی تاخیر کا شکار ہو گئی ہے اور اب اس کے لئے اسے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ شمالی وزیرستان کے گاﺅں ساوا سے نقل مکانی کرنے والے شخص گلزار خان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی وجہ سے وہ چوتھی شادی سے محروم ہوگیا ہے۔ 54 سالہ گلزار خان جس کے پہلے ہی 35 بچے اور 100 سے زائد پوتے، پوتیاں اور نواسے نواسیاں ہیں کا کہنا ہے کہ اس نے دن رات محنت کرکے چوتھی شادی کے لئے رقم بچائی تھی لیکن جب آرمی آپریشن کا آغازہوا تو مجبوراً اپنے اہل خانہ کے ساتھ نقل مکانی کرنا پڑی اور اس دوران بچائی گئی رقم خرچ ہوگئی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی تینوں بیویوں نے چوتھی شادی کی اجازت دے دی ہے۔ گلزار خان کی پہلی شادی 17 سال کی عمر میں 14 سالہ کزن کے ساتھ ہوئی۔ صرف آٹھ سال بعد اس نے دوسری شادی کی۔ اس نے تیسری شادی اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ کی کیونکہ وہ شادی کے صرف ایک ہفتے بعد بیوہ ہوگئی تھی۔ گلزار خان نے تقریباً 16 سال دبئی میں ٹیکسی بھی چلائی اور خوب مال بنایا۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے گناہ کی زندگی سے نفرت ہے لہٰذا وہ شادی کرکے اپنی جائز خواہشات پوری کرتا ہے۔

Published in قومی خبریں

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement