A+ R A-
30 اپریل 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

ہفتہ, 07 جون 2014 19:07

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ دریافت Featured

Written by 
Rate this item
(0 votes)

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جہلم کے قریب پاکستان کی تاریخ کاسب سے بڑاتیل کا ذخیرہ دریافت ہوا ہے جس سے روزانہ ساڑھے پانچ ہزار بیرل تیل کی پیداوار کاامکان ہے ۔

 

میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارتِ پٹرولیم کے ساتھ غوری جوائنٹ وینچر پر کام کرنیوالی کمپنی مری پٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایم پی سی ایل) نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ گاﺅں دھیمک میں غوری ایکس ون کے تیل کے کنویں سے پٹرول کا ایک اہم ذخیرہ دریافت ہواہے جس سے علاقے میں ہائیڈروکاربن کے ذخائر کی تلاش کے لیے راستہ کھل گیا ہے اورغوری X-1 نامی کنویں کے حوالے سے لگائے گئے پیداواری تخمینے کے مطابق یہاں سے 5,500 بیرل تیل روزآنہ حاصل ہوسکے گااور توقع کی جارہی ہے کہ یہ ملک بھر میں تیل کی پیدوار کا سب سے بڑا کنواں ثابت ہوگا جس سے رواں ماہ کے آخر تک پیداوار بھی شروع ہوجائے گی ۔

 

کمپنی کاکہناہے کہ 3800 میٹر گہرے غوری کنویں سے ہمیں ایک تاریخی کامیابی حاصل ہوئی، یہ پوٹھوہارکے سطح مرتفع کے خطے میں ہائیڈروکاربن کے ذخیرے کی پہلی دریافت ہے۔غوری X-1 کے کنویں سے حاصل ہونے والے تیل کی اے پی آئی گریویٹی 22ڈگری ،1100 پی ایس آئی اور کنویں کا گیج یا چوک سائز 32/64 ہےجبکہ وادی سون سکیسر میں اس کے بہاو¿ کی شرح پانچ ہزار پانچ سو بیرل روزانہ ہے۔واضح رہے کہ 22 ڈگری کی اے پی آئی گریویٹی کا خام تیل ایک بھاری خام تیل مانا جاتا ہے۔مذکورہ کمپنی دھیمک آئل فیلڈ سے جی ٹی روڈ پر سوہاوہ کے قریب ایک فلنگ پوائنٹ تک چودہ کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائے گی تاکہ وہاں سے ٹینکرز کے ذریعے اٹک ریفائنری کو تیل کی ترسیل کی جاسکے۔

Read 965 times
Login to post comments

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement