A+ R A-
23 مارچ 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف نے جموں و کشمیر کے ضمنی انتخابات میں بھی حصہ لینے کافیصلہ کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری کاکہنا تھا کہ مسلم لیگ ن جموں وکشمیر میں انتخابات کروانے سے گھبراتی ہے ہماری پارٹی جموں وکشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی ۔شیریں مزاری کا سینیٹ انتخابات پر کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات کیلئے تحریک انصاف کے امیدواروں کاانتخاب میرٹ پر ہواہے۔شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو دھرنا فوبیہ ہو گیا ہے اور دھرنے کی وجہ سے ہی پٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں ۔

Published in قومی خبریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف نے جموں و کشمیر کے ضمنی انتخابات میں بھی حصہ لینے کافیصلہ کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری کاکہنا تھا کہ مسلم لیگ ن جموں وکشمیر میں انتخابات کروانے سے گھبراتی ہے ہماری پارٹی جموں وکشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی ۔شیریں مزاری کا سینیٹ انتخابات پر کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات کیلئے تحریک انصاف کے امیدواروں کاانتخاب میرٹ پر ہواہے۔شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو دھرنا فوبیہ ہو گیا ہے اور دھرنے کی وجہ سے ہی پٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں ۔

Published in Slides

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نوا ز شریف نے کہاہے کہ میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان جمہوریت کے راستے سے نہیں ہٹے گا، میڈیا کا کردار درھرنا سیاست میں اتنا قابل تحسین نہیں ،ہم خود جکڑ ے گئے پر میڈیا کی آزادی کو نہیں جکڑا,پاکستان کے کچھ معاملات میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا سکتا۔سی پی این کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اعظم نے کہاکہ میڈیا نے دھرنے کے دوران میرے مستعفی ہونے کی خبریں بھی چلائیں لیکن صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اور سب کچھ برداشت کرتے رہےاور نہ ہی میڈیا کی آزادی پر کوئی آنچ آنے دی۔انہوں نے کہاکہ کچھ ایسے بھی صحافی ا ن کے سامنے بیٹھے ہیں جنہوں نے مشرف کے مارشل لاءکو سپورٹ کیا لیکن کچھ ایسے صحافی بھی ہیں جنہوں نے اس کو سپورٹ نہیں کیاہےاور قانون کے دامن کو تھامے رکھا،اگر میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی ڈیل نہیں ہو گی۔

نواز شریف نے کہاکہ میڈیا خواہ مخواہ کسی کی پگڑی نہ اچھالے بلکہ سچ کا دامن تھامے رکھے اور ظلم کیخلاف آواز بلند کرتا رہے ۔کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جس میں میڈیا اکھٹا ہو جاتاہے لیکن کچھ ایسے بھی معاملات ہوتے ہیں جن میں میڈیا اکھٹا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ نے اس موقع پر دھرنا سیاست نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا جس کے باعث روپے کی قدر میں کمی آئی دوسر ا یہ کہ چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیاہے اور دنیا میں پاکستان کے امیج پر اثر پڑا جو کہ انتہائی قابل افسوس بات ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہاہے ،پاکستان میں سب بڑا آپریشن دہشت گردی کیخلاف چل رہاہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اختلافات بھلا کر اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے لیکن اب میڈیا کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرناہے اور پاکستان کیخلا ف اٹھنے والی ہر آواز کو پسپا کرنا ہے ۔
نواز شریف نے کہاکہ وزارت عظمی کوئی پھولوں کا سیج نہیں ہے اور نہ ہی اس پر بیٹھنا اتنا آسان لیکن قوم کی بہتری کے لیے یہ ذمہ داری قبول کی اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سنگین مسائل کو اسی دور حکومت میں حل کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ایل این جی کے ذریعے 2017میں 3600میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے ملک میں جاری توانائی بحران ختم کرنے میں بہت زیاد مدد ملے گی۔
ان کا کہناتھاکہ اگر وہ کسی کو پسند نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مجھ پر الزام لگانا شروع کردے، میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی مناسب بات ہے اور اس طرح کے الزامات لگانا میڈیا کو زیب نہیں دیتا ۔انہوں نے کہا انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی کسی کی غیبت نہیں کروں گا اور آج تک اپنی بات پر قائم ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کے قصور وار کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو انصاف کے تقاضے پورے کے جائیں گے ۔انہو ں نے کہاکہ پاکستان کے معاملا ت میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ،بعض معاملات میں غیر ملکی ہاتھ ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں ۔

اس موقع پر  سی پی این ای (کونسل آف نیوزپیپرز ایڈیٹرز)کے صدر مجیب الرحمان شامی نے وزیراعظم نوازشریف کا تقریب میں شرکت پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں جب سے وزیراعظم صاحب نے منصب سنبھالہ ہے میڈیاپر کوئی سلب نہیں آئی ،آپ نے میڈیا کی آزادی کے لیے بہت کچھ کیا۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں بار بار آئین کی پامالی کے باعث ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل درپیش ہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف کے دہشت گردی کیخلاف اقدامات قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی کوششوں سے ملکوں میں بہت زیادہ خوشحالی آئی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن گورننس کی شفافیت کے حوالے سے کافی شکایات ملتی نظر آتی ہیں اور وزراءبھی بطور ٹیم کام کرتے نظر نہیں آتے اور حالیہ پٹرول بحران میں یہ باتیں کھل کر سامنے آئیں۔
روز نامہ پاکستان کے ایڈیٹر انچیف اورسی پی این ای کے صدرسینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہاہے کہ آپ کی حکومت نے کراچی میں امن اور کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ انتہائی قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی حکومت سے پہلے 15سالوں میں کسی نے بھی دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ایکشن پلان نہیں بنایا اور یہ اعزاز بھی آپ کو ہی حاصل ہوا۔

Published in قومی خبریں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نوا ز شریف نے کہاہے کہ میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان جمہوریت کے راستے سے نہیں ہٹے گا، میڈیا کا کردار درھرنا سیاست میں اتنا قابل تحسین نہیں ،ہم خود جکڑ ے گئے پر میڈیا کی آزادی کو نہیں جکڑا,پاکستان کے کچھ معاملات میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا سکتا۔سی پی این کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیر اعظم نے کہاکہ میڈیا نے دھرنے کے دوران میرے مستعفی ہونے کی خبریں بھی چلائیں لیکن صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اور سب کچھ برداشت کرتے رہےاور نہ ہی میڈیا کی آزادی پر کوئی آنچ آنے دی۔انہوں نے کہاکہ کچھ ایسے بھی صحافی ا ن کے سامنے بیٹھے ہیں جنہوں نے مشرف کے مارشل لاءکو سپورٹ کیا لیکن کچھ ایسے صحافی بھی ہیں جنہوں نے اس کو سپورٹ نہیں کیاہےاور قانون کے دامن کو تھامے رکھا،اگر میڈیا محاسبہ کرے تو پاکستان میں جمہوریت کبھی بھی ڈیل نہیں ہو گی۔

نواز شریف نے کہاکہ میڈیا خواہ مخواہ کسی کی پگڑی نہ اچھالے بلکہ سچ کا دامن تھامے رکھے اور ظلم کیخلاف آواز بلند کرتا رہے ۔کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جس میں میڈیا اکھٹا ہو جاتاہے لیکن کچھ ایسے بھی معاملات ہوتے ہیں جن میں میڈیا اکھٹا نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ نے اس موقع پر دھرنا سیاست نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا جس کے باعث روپے کی قدر میں کمی آئی دوسر ا یہ کہ چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہو گیاہے اور دنیا میں پاکستان کے امیج پر اثر پڑا جو کہ انتہائی قابل افسوس بات ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزر رہاہے ،پاکستان میں سب بڑا آپریشن دہشت گردی کیخلاف چل رہاہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اختلافات بھلا کر اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے لیکن اب میڈیا کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرناہے اور پاکستان کیخلا ف اٹھنے والی ہر آواز کو پسپا کرنا ہے ۔
نواز شریف نے کہاکہ وزارت عظمی کوئی پھولوں کا سیج نہیں ہے اور نہ ہی اس پر بیٹھنا اتنا آسان لیکن قوم کی بہتری کے لیے یہ ذمہ داری قبول کی اور بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کے سنگین مسائل کو اسی دور حکومت میں حل کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ایل این جی کے ذریعے 2017میں 3600میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی جس سے ملک میں جاری توانائی بحران ختم کرنے میں بہت زیاد مدد ملے گی۔
ان کا کہناتھاکہ اگر وہ کسی کو پسند نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مجھ پر الزام لگانا شروع کردے، میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی مناسب بات ہے اور اس طرح کے الزامات لگانا میڈیا کو زیب نہیں دیتا ۔انہوں نے کہا انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی کسی کی غیبت نہیں کروں گا اور آج تک اپنی بات پر قائم ہوں ۔

ایک سوال کے جواب میں نوازشریف نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کے قصور وار کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو انصاف کے تقاضے پورے کے جائیں گے ۔انہو ں نے کہاکہ پاکستان کے معاملا ت میں غیر ملکی ہاتھ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ،بعض معاملات میں غیر ملکی ہاتھ ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں ۔

اس موقع پر  سی پی این ای (کونسل آف نیوزپیپرز ایڈیٹرز)کے صدر مجیب الرحمان شامی نے وزیراعظم نوازشریف کا تقریب میں شرکت پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں جب سے وزیراعظم صاحب نے منصب سنبھالہ ہے میڈیاپر کوئی سلب نہیں آئی ،آپ نے میڈیا کی آزادی کے لیے بہت کچھ کیا۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں بار بار آئین کی پامالی کے باعث ملک کو دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل درپیش ہیں لیکن وزیراعظم نواز شریف کے دہشت گردی کیخلاف اقدامات قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی کوششوں سے ملکوں میں بہت زیادہ خوشحالی آئی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن گورننس کی شفافیت کے حوالے سے کافی شکایات ملتی نظر آتی ہیں اور وزراءبھی بطور ٹیم کام کرتے نظر نہیں آتے اور حالیہ پٹرول بحران میں یہ باتیں کھل کر سامنے آئیں۔
روز نامہ پاکستان کے ایڈیٹر انچیف اورسی پی این ای کے صدرسینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہاہے کہ آپ کی حکومت نے کراچی میں امن اور کراچی کی روشنیاں بحال کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ انتہائی قابل تحسین ہیں ۔انہوں نے کہاکہ آپ کی حکومت سے پہلے 15سالوں میں کسی نے بھی دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ایکشن پلان نہیں بنایا اور یہ اعزاز بھی آپ کو ہی حاصل ہوا۔

Published in Slides

خرم منصور قاضی

شہد کی مکھیاں اور امراض کی تشخیص ؟ ہے نہ حیرت انگیز بات مگر یہ سچ ہے ۔گزشتہ برس آئنڈہوون میں ’’ڈچ ڈیزائن ویک‘‘ کی تقریب کے دوران پرتگالی ڈیزائنر سوسن سوارز نے ایک آلہ متعارف کروایا جو شہد کی مکھیوں کے ذریعے کینسر اوردیگرامراض کی تشخیص میں مددکرسکتا ہے۔

 

دراصل شہد کی مکھیوں میں سونگھنے کی حس غیرمعمولی حدتک تیز ہوتی ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کو امراض سے متعلق جراثیم کی مخصوص خوشبو پہچاننے کیلئے بھی سدھایا جاسکتا ہے۔

مثلاً جلد ، پھیپھڑوں، لبلبے کا کینسر اور تپ دق وغیرہ۔ یہ آلہ دو خانوں پرمشتمل ہے۔ چھوٹے خانے کو تشخیصی خانہ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں لوگ اپنا سانس سے بھرتے ہیں اورنمی کی صورت میں سانس شیشے کی دیواروں پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ بڑے خانے میں پہلے سے سدھائی ہوئی مکھیاں موجود ہوتی ہیں ۔

جو مخصوص خوشبو کو پہچان کر چھوٹے خانے کی طرف لپکتی ہیں۔ خمدار بیرونی ٹیوب مکھیوںکو اندرونی چیمبر سے پرے رکھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے مکھیوں کو ’’پیولو ریفلیکس‘‘ کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے 10منٹ کے قلیل عرصہ میں سدھایا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں مخصوص خوشبو کو پہچاننے پرمکھیوں کو چینی ملے پانی کا محلول بطورانعام دیا جاتا ہے۔ مکھیوں کیلئے یہ ایک ایسا انعام ہے کہ جس کو وہ اپنی چھ ہفتہ پرمشتمل زندگی میں ہمیشہ یادرکھتی ہیں۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ مکھیاں خاص طورپرانسانی صحت کا راز بتانے والے غدودوں سے خارج ہونے والے کیمیائی مواد اور کئی امراض کی ابتدائی علامات کی درست تشخیص کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ ادویات کی دنیا میں میں شہد کی مکھیوں کو بطوربائیوسنسرز اورسکریننگ ٹیسٹ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

 

انجکشن کو خدا حافظ


یورپ کے متعدد ملکوں میں انجکشنوں کے ذریعے دو اکے استعمال کا رجحان تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین نے منہ کے ذریعے دوا کے استعمال کو زیادہ محفوظ قرار دیا ہے۔

لیبون مانیٹرنگ باڈی کے ایک تازہ سروے کے مطابق انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے کے رجحان میں کمی کی بڑی وجہ سرنجوں کے ذریعے HIV وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات ہیں۔ چنانچہ 2002ء سے لے کرآج تک انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے میں 65 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے اور 10ممالک میں پہلی مرتبہ ڈاکٹروں نے انجکشن نسخوں میں لکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ یورپی یونین کے 12 ممالک میں بذریعہ سرنج انجکشن کا استعمال2.5فیصد کم ہو چکا ہے۔

اب نسخوں میں کیپسول اور گولیاں تجویز کی جانے لگی ہیں۔ سرنجوں کے ذریعے نشے اور دیگر غیر محفوظ ادویات کے استعمال کئے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انجکشنوں کو خیر باد کہنے کی سوچ اور علاج کا متبادل طریقۂ کار اپنا لیا ہے۔

 

بیکٹیریا کے خلاف مدافعت کرنے والے قدرتی اینٹی بائیوٹکس


سر الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928ء میں سب سے پہلے اینٹی بیکٹریل طاقت کو دریافت کیا، جو اس وقت ایک کامیاب فطری علاج تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ متعدد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ریسرچ سے اینٹی بائیوٹک دریافت کئے گئے لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی نئی تحقیق نے بیکٹریا سے لڑنے والے 6 طرح کے قدرتی اینٹی بائیوٹکس کا انکشاف کیا ہے ۔

جن کو اگر روز مرہ خوراک میں شامل کیا جائے توامراض کے خلاف یہ ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتے ہیں ۔ ویسے ان کا حصول روزمرہ کھانے پینے کی اشیاء سے پہلے ممکن ہو رہا ہے۔

 

لہسن


دنیا بھر میں کئی ہزارقبل سے آج تک لہسن کو مختلف امراض کے علاج و معالجہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جدید تحقیق اس امر کی تصدیق کر رہی ہے کہ لہسن میں ایسے اینٹی بائیوٹک قدرتی طور پر شامل ہیں جو نہ صرف دشمن بیکٹیریا کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

گل پنج بزاری (امریکی جڑی بوٹی)


صدیوں سے استعمال ہونے والی یہ جڑی بوٹی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے بلکہ متعدد بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔

عام طور پر اس جڑی بوٹی کا استعمال زخموں کے بھرنے، ٹوٹی ہڈی جوڑنے، خون سے زہر چوسنے سمیت مختلف بیکٹیریا کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے۔ یہ جڑی بوٹی نزلہ اور زکام کی صورت میں بھی نہایت مفید سمجھی جاتی ہے۔

ادرک
قدرتی اینٹی بائیوٹک سے بھرپور ادرک کا استعمال تاریخی طور پر سانس لینے کے عمل میں انفیکشن کے دوران کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ منہ کی مختلف بیماریوں کے لئے بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ مثلاً منہ سے آنے والی ناگوار بدبو دور کرنے کیلئے یہ بہت مفید ہے۔

شہد
دنیا بھر میں اینٹی بیکٹریل علاج کے لئے شہد کا استعمال اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب مارکیٹ میں مصنوعی اینٹی بائیوٹک دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

شہد کے اندر موجود اینٹی بائیوٹک معدے کے السراور جگر سمیت متعدد بیماریوں کے لئے مفید اور اکثیر ہے۔

لیموں
آج تک متعدد تحقیقات لیموں میں اینٹی بائیوٹک کی موجودگی کو ثابت کر چکی ہیں۔

برٹش جرنل آف فارماکالوجی کے مطابق لیموں کا استعمال متعدد بیماریوں کو پیدائش سے قبل ہی مار دیتا ہے۔ لیموں ایک ایسا قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے جو علاج کے دوران اندرونی و بیرونی دونوں سطحوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محمر غذاء
آج کل ڈاکٹروں کی ایک کثیر تعداد ایسی خوراک کے زیادہ استعمال پر زور دے رہی ہے، جو دوست بیکٹیریا میں اضافہ کا سبب بنے اور اس کے لئے محمر سبزیاں اور مشروبات کا استعمال نہایت مفید ہے۔

آم کیوں کھائے جائیں
گرمیاں آ چکی ہیں اور بازار میں آم بھی دستیاب ہیں۔ پھلوں کے بادشاہ آم کے بارے میں نئی تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں پانچ ایسی وجوہات بتائی گئی ہیں کہ ہم آم کیوں کھائیں؟۔
(1) آم مختلف قسم کے اینزائم پر مشتمل ہوتا ہے۔

جو پروٹین کی زیادتی کے عمل کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اسی وجہ سے لوگ عام طور پر کھانے کے بعد آم کھاتے ہیں۔ مختلف وٹامنز، منرلز اور ریشوں سے بھرپور یہ پھل نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے۔

(2) آم میں موجود خاص غذائی جُز (گلاسیمک انڈکس) کھانا کھانے سے فوری بڑھنے والی شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے۔
(3) آم میں میں پایا جانے والا وٹامن سی اور سفیدہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
(4)آم کے اندر موجود وٹامن اے آنکھوں کے لئے نہایت مفید ہے۔ اس پھل کے استعمال سے انسان ’’رات کا اندھا پن‘‘ جیسی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
(5) آم میں قدرتی طور پر شامل وٹامن ای نظامِ تولید کی پختگی اور تحریک کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور یہ مرد و خواتین دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔

 

بصارت اور کینسر کی دوا


حالیہ تحقیق کے مطابق مختلف قسم کے سرطان سے محفوظ رکھنے والی دوا سے ضعیف العمر افراد کی بصارت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

مثلاً اولسٹن سے عمر رسیدگی کے باعث ہونے والے آنکھوں کے مہلک امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ البتہ اس دوا کو تاحال آنکھوں کے امراض کے علاج کے لئے باقاعدہ لائسنس جاری نہیں کیا گیا تاہم بعض ڈاکٹر ان افراد کو یہ دوا تجویز کرنے لگے ہیں جن کی بینائی رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی دواء سے آنکھوں کے امراض سے تحفظ پایا جانا ممکن ہے۔ اس تحقیق میں لندن کے مور فلیڈآئی ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے برطانیہ کے تین مزید آئی سنٹرز کے ماہرین کی معاونت میں طبی مطالعہ کیا جس میں انہوں نے 131 ایسے مریضوں کو زیر تحقیق رکھا جن کی عمریں 80 سال سے زائد تھیں ۔ جن افراد کو اولسٹن کے انجکشن لگائے گئے تھے ان کی بصارت معمولی سی زائل ہوئی جبکہ بہت سے افراد کی بینائی تیز ہو گئی اور آئی ٹیسٹ کے دوران انہوں نے لفظوں کے چارٹ کو بالکل صحیح طریقے سے شناخت کیا۔

 

زیادہ دیر بیٹھناسگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کرسکتا ہے


پٹسبرگ میں کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنے کی عادت انسانی صحت پر سگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ عمومی طور پر مختلف دفاتر میں ایک ملازم 5گھنٹے اور 40 منٹ سیٹ پر ضرور بیٹھ کر کام کرتا ہے۔

یہ تحقیق ایک امریکی ڈاکٹر مائیکل جینسن اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق لوگوں کو چہل قدمی کی زیادہ ضرورت ہے۔

ڈاکٹر جینسن کا کہنا ہے کہ ایک یا آدھے گھنٹے کے لئے جم جا کر ورزش کرنے سے زیادہ دیر تک بیٹھنے کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ ورزش آپ کو زیادہ دیر تک بیٹھنے سے پیدا ہونے والے موٹاپے کے مضر اثرات سے نہیں بچا سکتی۔

محقق کے مطابق زیادہ دیر کر بیٹھنے سے دل کی بیماری اور شوگر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے بتاتے ہوئے ڈاکٹر جینسن اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کام کے دوران چہل قدمی یا کھڑے ہو کر کام کرنے سے ہم زیادہ بیٹھنے کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ بریسٹ کینسر کے 49 ہزار اور بڑی آنت کے کینسر کے 43 ہزار کیسز کی وجہ زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنا ہے۔

Published in بلاگ

رانا محمد ذیشان

 

ہائے بجلی سستی ہوگئی۔ وہ بھی پورے 1روپے 48 پیسے سستی ۔

 

یہ خبر سن کر مجھے افسوس ہوا کہ حکمراں بھی کیسے کیسے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ۔کبھی بجلی سستی تو کبھی پٹرول مہنگا۔ میرے خیال میں بجلی تو کبھی وقت پر آتی ہی نہیں ہے اس لئے عوام کو بجلی مہنگی یا سستی ہونے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا ہوگا۔

 

یہ خبریں صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہی تو ہیں۔ بجلی ہو یا نہ ہو غریب عوام روز اول سے بل بھرتے چلے آرہے ہیں اور یقینی طور پر آئندہ بھی ایسے کرتے رہیں گے۔ ہر نئی آنے والی حکومت وعدہ کرتی ہے کہ بجلی کی قیمت بڑھا کر غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اور پھر چند روز بعد بجلی مہنگی ہونے کی خوشخبری سنا دیتی ہے۔ بچارے صارفین کے پاس سوائے اتنی مہنگی بجلی استعمال کرنے کے کوئی چارا بھی تو نہیں بچا۔ احتجاج کا لفظ تو بھول ہی جایئے ہم اور آپ آئے روز اخبارات میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجوں کی خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں لیکن کیا حکومت یا ایوانوں میں بیٹھے لوگوں پر کبھی اس احتجاج کا ثر ہوا ہے؟ نہیں۔

 

ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جو ملک توانائی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور  لوگ 10 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں وہاں واپڈا اہلکاروں کی پوری فوج کو کس خوشی میں بھاری بھرکم تنخواؤں کے علاوہ مفت بجلی کے یونٹ فراہم کئے جارہے ہیں؟ ۔ یہ لوگ خود تو مفت بجلی کے مزے اڑاتے ہیں لیکن ان کے بل کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے آج تک اس بات کا حساب کتاب تک نہیں رکھا کہ پورے پاکستان میں واپڈا اہلکار کتنی بڑی تعداد میں یونٹ استعمال کرتے ہیں اور ان کا بل کس کھاتے میں جاتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے یہ فری یونٹ کا سلسلہ بند کردیا جائے توسب سے پہلے تو بچارے غریب عوام پر بلوں کا بوچھ کچھ کم ہوجائے گا، توانائی بحران کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، سب سے اہم بات تو یہ کہ واپڈ اہلکاروں کے بل ادا کرنے سے واپڈا کی اپنی آمدن میں اضافہ ہوگا اور وہ خود بھی کنجوسی سے بجلی استعمال کریں گے۔

 

صرف اربوں روپے کے انرجی سیور اور سولر لیمپ عوام میں تقسیم کرنے سے ملک کے اندھیرے ختم نہیں ہوسکتے۔ حکو مت اگر واقعی ملک کی ترقی اور قوم کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ماتحت محکموں کو نوازنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ میں جانتا ہوں صرف واپڈا اہلکاروں کو بل ادا کرنے کے احکامات جاری کرنے سے کچھ حاصل نہیں گا ۔ لیکن قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔

 

 

نوٹ: چارسده . نٹ اور اسکی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق هونا ضروری نهیں
اگر آپ بهی همارے بلاگ سیکشن میں لکهنا چارهتے هیں، تو قلم اٹهائے اور ۵۰۰ سے ۸۰۰ الفاظ پر مشتمل مضمون لکهکر اپنی مکمل تعارف، تازه تصویر، ای میل ایڈریس ، فون نمبر کیساته اس ای میل پر روانه کردیں

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. ..

Published in بلاگ

اسلام آباد: خیبر پختونخوا اور فاٹا میں پولیو وائرس سے متاثرہ مزید 4 کیسز سامنے آگئے ہیں جس کے بعد رواں برس اب تک پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔

 

ایکسپریس نیوز کے مطابق بنوں کے علاقے ماما خیل کی ساڑھے 3 سالہ مدیحہ اور مٹھا خیل کی ڈیڑھ سالہ حلیمہ جبکہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ کے علاقے مچاس کی 2 سالہ لائبہ اور 2 سالہ الیسا میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، حالیہ کیسز سامنے آنے کے بعد رواں برس ملک بھر میں اس مہلک بیماری کے باعث زندگی بھر کے لئے معذور بچوں کی تعداد 78 ہوگئی ہے۔

 

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان میں پولیو کے کیسز میں اضافے اور دیگر ملکوں میں اس مرض کے اضافے کی وجہ سے پاکستانیوں پرانسداد پولیو ویکسی نیشن سرٹیفیکیٹ کے بغیر بیرون ملک سفر پر پابندی عائد ہے۔

Published in قومی خبریں

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال2014-15 کے بجٹ میں سبزی، دال، زندہ جانور، سی این جی بس، ایل پی جی بس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت200سے زائد اشیا کی درآمد پر ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی ہے۔

 

 

اس ضمن میں پاکستان کسٹمز ٹیرف میں ترامیم کردی گئی ہیں جس سے قدرتی گیس، سبزیوں اور پٹرولیم مصنوعات سمیت 200 سے زائد اشیا مہنگی ہوجائیں گی۔

 

ایک سینئر افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ جن 200سے زائد اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ان میں گائے، بھینس، بکرے، بھیڑیں، دنبے اور دیگر زندہ جانور، بغیر ہڈی کا گوشت، بکرے کا گوشت، کھمبیاں، مچھلی کے انڈے، تازہ اور فرٹیلائزر پر مشتمل کیمیکلز، پوٹاشیم سلفیٹ، یوریا، پرنٹنگ گم، پگمنٹ تھکنر، ووڈ فلور،جیوٹ ویسٹ، اسٹین لیس اسٹیل، ٹینڈ آئرن اور اسٹیل اسکریپ، لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، نوٹ بکس، ملٹی میڈیا کٹس، مائیکرو کمپیوٹر، پرسنل کمپیوٹر، کی بورڈز، ماؤس اور دیگر پوائنٹنگ ڈیوائسز، اسکینرز، فلاپی ڈسک ڈرائیوز، ہارڈ ڈسک ڈرائیوز، ٹیپ ڈرائیوز، سی ڈی روم ڈرائیو، ڈیجیٹل وڈیو ڈسک ڈرائیو، ریمووایبل اینڈ ایکسچینج ایبل ڈسک ڈرائیوز، کنٹرول یونٹ، کمپیوٹر کیسنگز، موڈیم، انرجی سیونگ لیمپ، انرجی سیونگ ٹیوب، سی این جی بسوں اور ایل پی جی بسوں، ڈریگرز اور نیٹ ورکنگ ایکوپمنٹ سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔

 

بجٹ میں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کے بجائے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری اور بلوچستان میں ٹیلی کمیونیکشن سروسز پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح ساڑھے19 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 18فیصد کرنے کی تجویزدی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئندہ مالی سال 2014-15 کے وفاقی بجٹ میں او جی ڈی سی ایل کو پاور جنریشن کمپنیوں کوگیس کی فروخت پر300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس عائد کرنے کی تجویز دیدی ہے۔

Published in بزنس

بیجنگ: چین نے شمال مشرقی صوبے سنکیانگ میں ہونے والے فسادات میں ملوث ہونے پر 81 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت سمیت مخلتف سزائیں سزا دی ہیں۔

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق  عدالتوں نے شمالی مغربی صوبے سنکیانگ میں ہونے والے فسادات میں ملوث ہونے پر 81 افراد کو دہشت گردی کے الزام میں سزائیں سنا دی ہیں، ان میں سے 9 افراد کو سزائے موت بھی سنائی گئی ہے۔ ان افراد پر قتل اور جلاؤ گھیراؤ سمیت 23 مقدمات دائر تھے۔

واضح رہے کہ چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں گزشتہ برس ہونے والے فسادات میں درجنوں افراد ہلاک جب کہ املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔

ابوجا: نائجیریا میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے تازہ حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ اس دوران کئی املاک کو بھی آگ لگادی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامی رکن پارلیمنٹ نے بتایا کہ بوکو حرام نے گووزا قصبے کے کئی گاؤں پر حملہ کرکے متعدد گھروں، مساجد اور گرجا گھروں کو جلا دیا جس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے جبکہ جان بچانے کی کوشش کے دوران علاقے سے نکلنے والے متعدد افراد کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا، مقامی افراد کے مطابق شدت پسند تنظیم کے حملے میں تقریباً 500 افراد ہلاک ہوئے تاہم خراب مواصلاتی نظام اور آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں کی حتمی تعداد سے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

واضح رہے کہ بوکو حرام تنظیم کی جانب سے یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی یہ تنظیم نائجیریا کے متعدد قصبوں اور علاقوں میں کئی حملے کرچکی ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ نائیجیرین حکومت ان کے سامنے پوری طرح بے بس نظر آتی ہے۔

صفحہ 1 کا 2

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement