A+ R A-
28 مارچ 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

ہفتہ, 14 فروری 2015 19:37

نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا

نفرت، تعصب اور جہالت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا. یہ اُن روئیوں کا نام ہے جو جہاں بھی پائے جائیں ان کی کوکھ سے سڑانڈ اور تعفن ہی پیدا ہوتا ہے اور انسانی معاشرے اس کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ تینوں عناصر انسانی سوچ، عقل اور فکر کو سلب کرکے انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا دیتے ہیں۔

 

تھوڑا سا غور کریں تو آپ کو دنیا بھر میں جرائم کی شرح میں اضافے اور قتل و غارت کے پیچھے انہی عوامل کا ہاتھ نظر آئے گا۔ جس طرح گھروں کا کچرا پھینکنے کے لئے ہم کچرا گھر بناتے ہیں اسی طرح کیا ہم کوئی ایسا کچرا گھر نہیں بناسکتے جہاں ہم اپنی نفرتیں، عداوتیں، تعصب اور جہالت کو پھینک سکیں۔ کیا ہم ایسے کچرا گھر نہیں بناسکتے جہاں ہم اپنے ذہنوں میں بھری غلاضتں، نفرتیں، تعصب پھنیک کر معاشرے میں باہمی محبت، ایثار، برداشت، تحمل اور بھائی چارے کو فروغ دے کر انسانوں کے رہنے کے قابل بنا سکیں۔

گذشتہ روز امریکہ جیسے ’’مہذب‘‘ ملک جہاں انسانی آزادی، حقوق، سوچ اور احترامِ آدمیت جیسے اصولوں کی پاسداری نظرآتی ہے۔ وہیں کی ایک ریاست شمالی کیرولینا کے علاقے چیپل ہل میں نفرت اور تعصب سے بھرے ذہن کے حامل ایک شخص کریگ اسٹیون نے تین انسانوں (دو خواتین اور ایک مرد) کو قتل کردیا جو مذہباً مسلمان تھے۔ قتل کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی لیکن حالات و واقعات اور دستیاب شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اس قتل کے پیچھے نفرت کا جذبہ حاوی تھا ۔ ابھی تک اِس حادثے کا معمہ تو حل نہیں ہوسکا مگر قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کریگ اسٹیون کو عدالت میں پیش کیا گیا جس نے عدالت کے سامنے صحت جرم سے انکار کردیا، جبکہ گرفتار ملزم کی اہلیہ نے کریگ سے طلاق لینے کا اعلان کردیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایسے ذہنی مریض کے ساتھ  نہیں رہ سکتی جو انسانیت کا قاتل ہو۔

دوسری جانب مقتول خواتین کے والد محمد ابوصالحہ نے اسے نفرت پر مبنی قتل کی واردات قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق محمد ابو صلحہ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی بیٹیوں اور داماد کو مذہب سے نفرت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے امریکی شہریوں پر بار بار اسلامی دہشت گردی کے لفظ کی یلغار کرکے انہیں ہم سے خوفزدہ کردیا ہے، وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب تینوں طلبہ کی یاد میں امریکی ریاست کیرولینا میں یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ اکٹھے ہوئے اور مقتولین کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے شمعیں روشن کیں جبکہ ان تینوں نوجوان مسلمانوں کے قتل کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ان تینوں کی یاد میں فیس بْک پر ’ہمارے تین فاتح‘ کے نام سے ایک صفحہ بنا دیا گیا ہے۔ اس صفحے پر پوسٹ کی گئی ایک تحریرمیں لکھا ہے؛

 

’’مہربانی فرما کر ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ ان تینوں خوبصورت روحوں کو اپنے نیک جذبات اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ان کا عقیدہ ان کے لیے بہت کچھ تھا‘‘

 

ساتھ ہی ٹویٹر پر ’مسلم لائیوزمیٹر‘ کے نام سے ہیش ٹیگ بنایا گیا ہے۔

 

کسی بھی معاشرے کا حسن توازن دیکھنا ہو تو وہاں کے نظامِ انصاف و قا نون کو دیکھنا چاہیے۔ تین مسلمان طلباء کے قتل کے بعد اس قاتل کو کسی نے ہیرو نہیں بنایا اور نہ ہی قانون نے امریکی ہونے کے ناطے اس کے ساتھ کوئی رعایت کی۔ اُس کی بیوی نے بھی اسے انسانیت کا مجرم قرار دیتے ہوئے اس سے علیحدگی کا اظہار کردیا جبکہ عدالت اسے اُس کے جرم کے مطابق قرار واقعی سزا دے گی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نہ ہی اسے مذہبی رنگ دے کرسڑکیں بلاک کی گئیں اور نہ قاتل کی حمایت میں جلوس نکالے گئے بلکہ پورا امریکی معاشرہ اس کے اس مکروہ فعل پر اس سے نفرت کا اظہار کرتا نظرآرہا ہے۔

Published in بلاگ

پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اپنی مرحوم لیڈر کی محبت میں مجبور ہوکر وہ کام بھی کر ڈالا جو 1400 سال کی اسلامی تاریخ میں آج تک نہ ہوا۔ جی ہاں، ان جیالوں نے اپنی محبوب رہنما کا ایک مجسمہ کراچی کے علاقے بے نظیر پارک (کلفٹن پارک) میں لگادیا ہے۔ یہ مجسمہ بے نظیر کی 61 ویں سالگرہ کے موقع پر لگایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی نے مجسمہ بنانے والے کاریگر مبارک مہدی کو ایک لاکھ روپے کا انعام بھی دے دیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی سیاستدان کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔
یہ مجسمہ نصب ہونے کے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ اسلامی تاریخ میں کتنے عظیم رہنما اور حکمران گزرے ہیں ،مشرق سے مغرب تک ان رہنماﺅں کی دھوم رہی لیکن کسی کا مجسمہ نہ بنا۔ سوچتے ہوئے میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں گیا، اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی فلاح کا ایک عظیم الشان سسٹم شروع ہوچکا ہے ۔ان کے بعد دیگر جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ اجمعین کا دور آتا ہے لیکن کہیں بھی مجسمہ سازی موجود نہ ہے۔ مسلمان جزیرہ نما ہسپانیہ میںداخل ہوچکے ہیں۔ مقامی آبادی کی فلاح جاری ہے لیکن یہاں بھی کسی مسلمان حکمران کا مجسمہ دیکھنے کو نہیں مل رہا۔مسلم سپین جو یورپ کے لئے ایک مثالی علاقہ بن چکا ہے، تعلیم اور سائنسی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، دنیا میں کہیں بھی کوئی کتاب لکھی جا رہی ہے وہ سپین کی لائبیریوں میں منگوا کر رکھی جا رہی ہے۔مسلمانوں نے تمام غیر مسلموں کو برابری کے حقوق دیئے ہوئے ہیں،آج بھی سپین جائیں تو آپ کو مسلم حکمرانوں کے نشانات محلات اور مساجد کی صورتوں میں ملیں گے لیکن کہیں بھی آپ کو کسی بھی حکمران کا بت نہیں ملے گا۔
 دوسری جانب بغداد میں عباسی حکمران کام کررہے ہیں سائنسی تحقیقات جاری ہیں لیکن کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آرہا کہ اس کے چاہنے والے اس کا بت بنائیں۔
شام میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے خلاف تمام یورپ اکٹھا ہو چکا ہے اور پے در پے حملے کر رہا ہے لیکن آخر کار سلطان کو تمام یورپ کے خلاف فتح نصیب ہوئی ہے اور یروشلم میں مسلمانوں کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے لیکن پھر بھی کہیں آپ کو سلطان صلاح الدین ایوبی کا بت نظر نہیں آرہا۔
اب قسطنطنیہ (استنبول)چلتے ہیں جہاں مسلمانوں نے کامیاب حملہ کرتے ہوئے سلطان محمد فاتح کی قیادت میں قسطنطنیہ فتح کرلیا ہے۔ یہ وہی لشکر ہے جس کے جنتی ہونے کی بشارت نبی کریمﷺ نے دی ہے۔ سلطان محمد فاتح نے فتح کے بعد مسجد کی تعمیر شروع کروادی ہے۔ ان کے بعد ان کی نسل میں سلیمان خلیفہ بنا۔ یہ وہی عثمانی حکمران ہے جسے مغربی تاریخ دان سلیمان عالیشان کے نام سے جانتے ہیں لیکن آج تک پورے ترکی میں آپ کو کہیں بھی کسی بھی خلیفہ کا بت لگا ہوا نہیں ملے گا۔
اب برصغیر کی طرف آتے ہیں جہاں دہلی میں مسلمانوں نے حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے۔ مختلف مسلم خاندان سے ہوتا ہوا تاج دہلی اب سلطنت مغلیہ کے پاس ہے۔ جلال الدین محمد اکبر ہندوﺅں کے ساتھ بہت قریبی تعلق رکھتا ہے۔ ہندو اس کی پوجا خدا کی طرح کررہے ہیں لیکن یہ کیا، اکبر یا اس کے حامیوں نے کسی بھی طرح کے بت نہ بنائے ہیں۔
 غرض کہ اسلامی تاریخ میں کہیں بھی آپ کو حکمرانوں کے مجسمہ (بت) نہیں ملیں گے اس کی واضح وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ابتدا ہی سے بت بنانے اور انہیں پوجنے سے روک دیا گیا تھا۔ گو کہ جدید دور میں عراق میں سابق صدر صدام کے قد آور مجسمے لگائے گئے لیکن ان کا انجام بھی آپ کے سامنے ہے۔
ماضی میں مسلمانوں نے تمام علوم پر خصوصی توجہ دی، آرٹ اور کلچر کو فروغ دیا لیکن کبھی بھی زندہ یا مرحوم حکمران کا بت بنانے کا سوچا بھی نہیں۔ وہ پاکستان جس کی بنیادقائداعظم محمد علی جناح نے رکھی لیکن ان کے بت یا مجسمے آپ کو کہیں نہ ملیں گے لیکن آج ایک دم ایسا کیا ہو گیا کہ اب پاکستان میں سیاستدانوں کے مجسمے لگنا شروع ہوگئے ہیں۔

Published in بلاگ

خرم منصور قاضی

شہد کی مکھیاں اور امراض کی تشخیص ؟ ہے نہ حیرت انگیز بات مگر یہ سچ ہے ۔گزشتہ برس آئنڈہوون میں ’’ڈچ ڈیزائن ویک‘‘ کی تقریب کے دوران پرتگالی ڈیزائنر سوسن سوارز نے ایک آلہ متعارف کروایا جو شہد کی مکھیوں کے ذریعے کینسر اوردیگرامراض کی تشخیص میں مددکرسکتا ہے۔

 

دراصل شہد کی مکھیوں میں سونگھنے کی حس غیرمعمولی حدتک تیز ہوتی ہے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کو امراض سے متعلق جراثیم کی مخصوص خوشبو پہچاننے کیلئے بھی سدھایا جاسکتا ہے۔

مثلاً جلد ، پھیپھڑوں، لبلبے کا کینسر اور تپ دق وغیرہ۔ یہ آلہ دو خانوں پرمشتمل ہے۔ چھوٹے خانے کو تشخیصی خانہ بھی کہا جاسکتا ہے جس میں لوگ اپنا سانس سے بھرتے ہیں اورنمی کی صورت میں سانس شیشے کی دیواروں پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ بڑے خانے میں پہلے سے سدھائی ہوئی مکھیاں موجود ہوتی ہیں ۔

جو مخصوص خوشبو کو پہچان کر چھوٹے خانے کی طرف لپکتی ہیں۔ خمدار بیرونی ٹیوب مکھیوںکو اندرونی چیمبر سے پرے رکھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے مکھیوں کو ’’پیولو ریفلیکس‘‘ کا طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے 10منٹ کے قلیل عرصہ میں سدھایا جاسکتا ہے۔ اس طریقے میں مخصوص خوشبو کو پہچاننے پرمکھیوں کو چینی ملے پانی کا محلول بطورانعام دیا جاتا ہے۔ مکھیوں کیلئے یہ ایک ایسا انعام ہے کہ جس کو وہ اپنی چھ ہفتہ پرمشتمل زندگی میں ہمیشہ یادرکھتی ہیں۔

سائنسدانوں کو یقین ہے کہ مکھیاں خاص طورپرانسانی صحت کا راز بتانے والے غدودوں سے خارج ہونے والے کیمیائی مواد اور کئی امراض کی ابتدائی علامات کی درست تشخیص کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ ادویات کی دنیا میں میں شہد کی مکھیوں کو بطوربائیوسنسرز اورسکریننگ ٹیسٹ کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

 

انجکشن کو خدا حافظ


یورپ کے متعدد ملکوں میں انجکشنوں کے ذریعے دو اکے استعمال کا رجحان تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین نے منہ کے ذریعے دوا کے استعمال کو زیادہ محفوظ قرار دیا ہے۔

لیبون مانیٹرنگ باڈی کے ایک تازہ سروے کے مطابق انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے کے رجحان میں کمی کی بڑی وجہ سرنجوں کے ذریعے HIV وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات ہیں۔ چنانچہ 2002ء سے لے کرآج تک انجکشنوں کے ذریعے دوا لینے میں 65 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے اور 10ممالک میں پہلی مرتبہ ڈاکٹروں نے انجکشن نسخوں میں لکھنا چھوڑ دیئے ہیں۔ یورپی یونین کے 12 ممالک میں بذریعہ سرنج انجکشن کا استعمال2.5فیصد کم ہو چکا ہے۔

اب نسخوں میں کیپسول اور گولیاں تجویز کی جانے لگی ہیں۔ سرنجوں کے ذریعے نشے اور دیگر غیر محفوظ ادویات کے استعمال کئے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انجکشنوں کو خیر باد کہنے کی سوچ اور علاج کا متبادل طریقۂ کار اپنا لیا ہے۔

 

بیکٹیریا کے خلاف مدافعت کرنے والے قدرتی اینٹی بائیوٹکس


سر الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928ء میں سب سے پہلے اینٹی بیکٹریل طاقت کو دریافت کیا، جو اس وقت ایک کامیاب فطری علاج تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ متعدد فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی ریسرچ سے اینٹی بائیوٹک دریافت کئے گئے لیکن حال ہی میں سامنے آنے والی نئی تحقیق نے بیکٹریا سے لڑنے والے 6 طرح کے قدرتی اینٹی بائیوٹکس کا انکشاف کیا ہے ۔

جن کو اگر روز مرہ خوراک میں شامل کیا جائے توامراض کے خلاف یہ ایک قدرتی ڈھال ثابت ہوتے ہیں ۔ ویسے ان کا حصول روزمرہ کھانے پینے کی اشیاء سے پہلے ممکن ہو رہا ہے۔

 

لہسن


دنیا بھر میں کئی ہزارقبل سے آج تک لہسن کو مختلف امراض کے علاج و معالجہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جدید تحقیق اس امر کی تصدیق کر رہی ہے کہ لہسن میں ایسے اینٹی بائیوٹک قدرتی طور پر شامل ہیں جو نہ صرف دشمن بیکٹیریا کا خاتمہ کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔

گل پنج بزاری (امریکی جڑی بوٹی)


صدیوں سے استعمال ہونے والی یہ جڑی بوٹی مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے بلکہ متعدد بیماریوں سے لڑنے کی طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔

عام طور پر اس جڑی بوٹی کا استعمال زخموں کے بھرنے، ٹوٹی ہڈی جوڑنے، خون سے زہر چوسنے سمیت مختلف بیکٹیریا کے خاتمے کیلئے ہوتا ہے۔ یہ جڑی بوٹی نزلہ اور زکام کی صورت میں بھی نہایت مفید سمجھی جاتی ہے۔

ادرک
قدرتی اینٹی بائیوٹک سے بھرپور ادرک کا استعمال تاریخی طور پر سانس لینے کے عمل میں انفیکشن کے دوران کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ منہ کی مختلف بیماریوں کے لئے بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ مثلاً منہ سے آنے والی ناگوار بدبو دور کرنے کیلئے یہ بہت مفید ہے۔

شہد
دنیا بھر میں اینٹی بیکٹریل علاج کے لئے شہد کا استعمال اس وقت سے کیا جا رہا ہے جب مارکیٹ میں مصنوعی اینٹی بائیوٹک دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

شہد کے اندر موجود اینٹی بائیوٹک معدے کے السراور جگر سمیت متعدد بیماریوں کے لئے مفید اور اکثیر ہے۔

لیموں
آج تک متعدد تحقیقات لیموں میں اینٹی بائیوٹک کی موجودگی کو ثابت کر چکی ہیں۔

برٹش جرنل آف فارماکالوجی کے مطابق لیموں کا استعمال متعدد بیماریوں کو پیدائش سے قبل ہی مار دیتا ہے۔ لیموں ایک ایسا قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے جو علاج کے دوران اندرونی و بیرونی دونوں سطحوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محمر غذاء
آج کل ڈاکٹروں کی ایک کثیر تعداد ایسی خوراک کے زیادہ استعمال پر زور دے رہی ہے، جو دوست بیکٹیریا میں اضافہ کا سبب بنے اور اس کے لئے محمر سبزیاں اور مشروبات کا استعمال نہایت مفید ہے۔

آم کیوں کھائے جائیں
گرمیاں آ چکی ہیں اور بازار میں آم بھی دستیاب ہیں۔ پھلوں کے بادشاہ آم کے بارے میں نئی تحقیق سامنے آئی ہے، جس میں پانچ ایسی وجوہات بتائی گئی ہیں کہ ہم آم کیوں کھائیں؟۔
(1) آم مختلف قسم کے اینزائم پر مشتمل ہوتا ہے۔

جو پروٹین کی زیادتی کے عمل کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اسی وجہ سے لوگ عام طور پر کھانے کے بعد آم کھاتے ہیں۔ مختلف وٹامنز، منرلز اور ریشوں سے بھرپور یہ پھل نظام انہضام کو بہتر بناتا ہے۔

(2) آم میں موجود خاص غذائی جُز (گلاسیمک انڈکس) کھانا کھانے سے فوری بڑھنے والی شوگر کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے۔
(3) آم میں میں پایا جانے والا وٹامن سی اور سفیدہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
(4)آم کے اندر موجود وٹامن اے آنکھوں کے لئے نہایت مفید ہے۔ اس پھل کے استعمال سے انسان ’’رات کا اندھا پن‘‘ جیسی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
(5) آم میں قدرتی طور پر شامل وٹامن ای نظامِ تولید کی پختگی اور تحریک کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور یہ مرد و خواتین دونوں کے لئے یکساں مفید ہے۔

 

بصارت اور کینسر کی دوا


حالیہ تحقیق کے مطابق مختلف قسم کے سرطان سے محفوظ رکھنے والی دوا سے ضعیف العمر افراد کی بصارت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

مثلاً اولسٹن سے عمر رسیدگی کے باعث ہونے والے آنکھوں کے مہلک امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ البتہ اس دوا کو تاحال آنکھوں کے امراض کے علاج کے لئے باقاعدہ لائسنس جاری نہیں کیا گیا تاہم بعض ڈاکٹر ان افراد کو یہ دوا تجویز کرنے لگے ہیں جن کی بینائی رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی دواء سے آنکھوں کے امراض سے تحفظ پایا جانا ممکن ہے۔ اس تحقیق میں لندن کے مور فلیڈآئی ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے برطانیہ کے تین مزید آئی سنٹرز کے ماہرین کی معاونت میں طبی مطالعہ کیا جس میں انہوں نے 131 ایسے مریضوں کو زیر تحقیق رکھا جن کی عمریں 80 سال سے زائد تھیں ۔ جن افراد کو اولسٹن کے انجکشن لگائے گئے تھے ان کی بصارت معمولی سی زائل ہوئی جبکہ بہت سے افراد کی بینائی تیز ہو گئی اور آئی ٹیسٹ کے دوران انہوں نے لفظوں کے چارٹ کو بالکل صحیح طریقے سے شناخت کیا۔

 

زیادہ دیر بیٹھناسگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کرسکتا ہے


پٹسبرگ میں کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنے کی عادت انسانی صحت پر سگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ عمومی طور پر مختلف دفاتر میں ایک ملازم 5گھنٹے اور 40 منٹ سیٹ پر ضرور بیٹھ کر کام کرتا ہے۔

یہ تحقیق ایک امریکی ڈاکٹر مائیکل جینسن اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق لوگوں کو چہل قدمی کی زیادہ ضرورت ہے۔

ڈاکٹر جینسن کا کہنا ہے کہ ایک یا آدھے گھنٹے کے لئے جم جا کر ورزش کرنے سے زیادہ دیر تک بیٹھنے کے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ ورزش آپ کو زیادہ دیر تک بیٹھنے سے پیدا ہونے والے موٹاپے کے مضر اثرات سے نہیں بچا سکتی۔

محقق کے مطابق زیادہ دیر کر بیٹھنے سے دل کی بیماری اور شوگر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے بتاتے ہوئے ڈاکٹر جینسن اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کام کے دوران چہل قدمی یا کھڑے ہو کر کام کرنے سے ہم زیادہ بیٹھنے کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ بریسٹ کینسر کے 49 ہزار اور بڑی آنت کے کینسر کے 43 ہزار کیسز کی وجہ زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنا ہے۔

Published in بلاگ

رانا محمد ذیشان

 

ہائے بجلی سستی ہوگئی۔ وہ بھی پورے 1روپے 48 پیسے سستی ۔

 

یہ خبر سن کر مجھے افسوس ہوا کہ حکمراں بھی کیسے کیسے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ۔کبھی بجلی سستی تو کبھی پٹرول مہنگا۔ میرے خیال میں بجلی تو کبھی وقت پر آتی ہی نہیں ہے اس لئے عوام کو بجلی مہنگی یا سستی ہونے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا ہوگا۔

 

یہ خبریں صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہی تو ہیں۔ بجلی ہو یا نہ ہو غریب عوام روز اول سے بل بھرتے چلے آرہے ہیں اور یقینی طور پر آئندہ بھی ایسے کرتے رہیں گے۔ ہر نئی آنے والی حکومت وعدہ کرتی ہے کہ بجلی کی قیمت بڑھا کر غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اور پھر چند روز بعد بجلی مہنگی ہونے کی خوشخبری سنا دیتی ہے۔ بچارے صارفین کے پاس سوائے اتنی مہنگی بجلی استعمال کرنے کے کوئی چارا بھی تو نہیں بچا۔ احتجاج کا لفظ تو بھول ہی جایئے ہم اور آپ آئے روز اخبارات میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجوں کی خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں لیکن کیا حکومت یا ایوانوں میں بیٹھے لوگوں پر کبھی اس احتجاج کا ثر ہوا ہے؟ نہیں۔

 

ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جو ملک توانائی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور  لوگ 10 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں وہاں واپڈا اہلکاروں کی پوری فوج کو کس خوشی میں بھاری بھرکم تنخواؤں کے علاوہ مفت بجلی کے یونٹ فراہم کئے جارہے ہیں؟ ۔ یہ لوگ خود تو مفت بجلی کے مزے اڑاتے ہیں لیکن ان کے بل کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے آج تک اس بات کا حساب کتاب تک نہیں رکھا کہ پورے پاکستان میں واپڈا اہلکار کتنی بڑی تعداد میں یونٹ استعمال کرتے ہیں اور ان کا بل کس کھاتے میں جاتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے یہ فری یونٹ کا سلسلہ بند کردیا جائے توسب سے پہلے تو بچارے غریب عوام پر بلوں کا بوچھ کچھ کم ہوجائے گا، توانائی بحران کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، سب سے اہم بات تو یہ کہ واپڈ اہلکاروں کے بل ادا کرنے سے واپڈا کی اپنی آمدن میں اضافہ ہوگا اور وہ خود بھی کنجوسی سے بجلی استعمال کریں گے۔

 

صرف اربوں روپے کے انرجی سیور اور سولر لیمپ عوام میں تقسیم کرنے سے ملک کے اندھیرے ختم نہیں ہوسکتے۔ حکو مت اگر واقعی ملک کی ترقی اور قوم کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ماتحت محکموں کو نوازنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ میں جانتا ہوں صرف واپڈا اہلکاروں کو بل ادا کرنے کے احکامات جاری کرنے سے کچھ حاصل نہیں گا ۔ لیکن قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔

 

 

نوٹ: چارسده . نٹ اور اسکی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق هونا ضروری نهیں
اگر آپ بهی همارے بلاگ سیکشن میں لکهنا چارهتے هیں، تو قلم اٹهائے اور ۵۰۰ سے ۸۰۰ الفاظ پر مشتمل مضمون لکهکر اپنی مکمل تعارف، تازه تصویر، ای میل ایڈریس ، فون نمبر کیساته اس ای میل پر روانه کردیں

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. ..

Published in بلاگ

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement