A+ R A-
30 مارچ 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

رانا محمد ذیشان

 

ہائے بجلی سستی ہوگئی۔ وہ بھی پورے 1روپے 48 پیسے سستی ۔

 

یہ خبر سن کر مجھے افسوس ہوا کہ حکمراں بھی کیسے کیسے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں ۔کبھی بجلی سستی تو کبھی پٹرول مہنگا۔ میرے خیال میں بجلی تو کبھی وقت پر آتی ہی نہیں ہے اس لئے عوام کو بجلی مہنگی یا سستی ہونے سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا ہوگا۔

 

یہ خبریں صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہی تو ہیں۔ بجلی ہو یا نہ ہو غریب عوام روز اول سے بل بھرتے چلے آرہے ہیں اور یقینی طور پر آئندہ بھی ایسے کرتے رہیں گے۔ ہر نئی آنے والی حکومت وعدہ کرتی ہے کہ بجلی کی قیمت بڑھا کر غریب عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اور پھر چند روز بعد بجلی مہنگی ہونے کی خوشخبری سنا دیتی ہے۔ بچارے صارفین کے پاس سوائے اتنی مہنگی بجلی استعمال کرنے کے کوئی چارا بھی تو نہیں بچا۔ احتجاج کا لفظ تو بھول ہی جایئے ہم اور آپ آئے روز اخبارات میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجوں کی خبریں سنتے اور دیکھتے ہیں لیکن کیا حکومت یا ایوانوں میں بیٹھے لوگوں پر کبھی اس احتجاج کا ثر ہوا ہے؟ نہیں۔

 

ایک بات مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جو ملک توانائی کے بدترین بحران سے گزر رہا ہے اور  لوگ 10 سے 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں وہاں واپڈا اہلکاروں کی پوری فوج کو کس خوشی میں بھاری بھرکم تنخواؤں کے علاوہ مفت بجلی کے یونٹ فراہم کئے جارہے ہیں؟ ۔ یہ لوگ خود تو مفت بجلی کے مزے اڑاتے ہیں لیکن ان کے بل کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے آج تک اس بات کا حساب کتاب تک نہیں رکھا کہ پورے پاکستان میں واپڈا اہلکار کتنی بڑی تعداد میں یونٹ استعمال کرتے ہیں اور ان کا بل کس کھاتے میں جاتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے یہ فری یونٹ کا سلسلہ بند کردیا جائے توسب سے پہلے تو بچارے غریب عوام پر بلوں کا بوچھ کچھ کم ہوجائے گا، توانائی بحران کم کرنے میں بھی مدد ملے گی، سب سے اہم بات تو یہ کہ واپڈ اہلکاروں کے بل ادا کرنے سے واپڈا کی اپنی آمدن میں اضافہ ہوگا اور وہ خود بھی کنجوسی سے بجلی استعمال کریں گے۔

 

صرف اربوں روپے کے انرجی سیور اور سولر لیمپ عوام میں تقسیم کرنے سے ملک کے اندھیرے ختم نہیں ہوسکتے۔ حکو مت اگر واقعی ملک کی ترقی اور قوم کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ماتحت محکموں کو نوازنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔ میں جانتا ہوں صرف واپڈا اہلکاروں کو بل ادا کرنے کے احکامات جاری کرنے سے کچھ حاصل نہیں گا ۔ لیکن قطرہ قطرہ ہی دریا بنتا ہے۔

 

 

نوٹ: چارسده . نٹ اور اسکی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق هونا ضروری نهیں
اگر آپ بهی همارے بلاگ سیکشن میں لکهنا چارهتے هیں، تو قلم اٹهائے اور ۵۰۰ سے ۸۰۰ الفاظ پر مشتمل مضمون لکهکر اپنی مکمل تعارف، تازه تصویر، ای میل ایڈریس ، فون نمبر کیساته اس ای میل پر روانه کردیں

This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it. ..

Published in بلاگ

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement