A+ R A-
27 جون 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

ایڈمن

ایڈمن

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارلحکومت میں قلعہ گجرسنگھ پولیس لائنز  اور سکول کے قریب ہوٹل کے باہر دھماکے سے 8افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ پولیس لائنز کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔پولیس نے شبہ ظاہر کیاکہ یہ خود کش حملہ ہوسکتاہے ، دہشتگرد نے پولیس لائنز کے اندر داخلے میں ناکامی پر خود کو باہر پارکنگ میں ہی اُڑالیا ، مبینہ حملہ آور ریلوے سٹیشن کی طرف سے آیا اور ہوٹل کے باہر خود کو اُڑا لیا تاہم حتمی طورپر نوعیت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔دوسری طرف سی سی پی او لاہور کاکہناتھاکہ یہ نصب شدہ بم کا دھماکہ تھا۔


 عینی شاہدین کے مطابق ایک گاڑی میں بارودی مواد نصب کیاگیاتھا جس کے دھماکے کے بعد دھویں کے کالے بادل اُٹھتے کھائی دیئے جبکہ چارلاشیں ایک ہی گاڑی سے نکالی گئیں۔بتایاگیاہے کہ دھماکے کے فوری بعد پولیس لائنز کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں جبکہ کم ازکم چارگاڑیوں میں آگ لگ گئی،دیگر کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، موٹرسائیکلوں کو بھی نقصان پہنچاجبکہ شہیدوزخمی ہونیوالوں میں کوئی پولیس اہلکار شامل نہیں ۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق ایک شخص گاڑی سے اُترااوراُس کے ساتھ ہی دھماکہ ہوگیا جس کے بعد دھماکے کے علاقے میں پولیس نے شامیانے لگادیئے اور میڈیا کا داخلہ بھی بند کردیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے دھماکے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے جبکہ پولیس لائنز کے اندر سے بھی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں ۔
 دھماکے کے بعد ایمبولینسیں اور پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی اور سیکیورٹی فورسز نے آمدورفت کے لیے سڑکیں بند کرکے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔دھماکے کے بعد لاہوربھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ۔

میو ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اُنہوں نے ریڈ الرٹ جاری کرکے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

دھماکے کے اطلاع ملتے ہی قریبی سکول میں زیرتعلیم بچوں کے ورثاء کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئیں ، خواتین روتی چلاتی موقع پر پہنچیں لیکن  سکول کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں ۔

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارلحکومت میں قلعہ گجرسنگھ پولیس لائنز  اور سکول کے قریب ہوٹل کے باہر دھماکے سے 8افراد شہید اور کئی زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیاگیا اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جبکہ پولیس لائنز کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔پولیس نے شبہ ظاہر کیاکہ یہ خود کش حملہ ہوسکتاہے ، دہشتگرد نے پولیس لائنز کے اندر داخلے میں ناکامی پر خود کو باہر پارکنگ میں ہی اُڑالیا ، مبینہ حملہ آور ریلوے سٹیشن کی طرف سے آیا اور ہوٹل کے باہر خود کو اُڑا لیا تاہم حتمی طورپر نوعیت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔دوسری طرف سی سی پی او لاہور کاکہناتھاکہ یہ نصب شدہ بم کا دھماکہ تھا۔


 عینی شاہدین کے مطابق ایک گاڑی میں بارودی مواد نصب کیاگیاتھا جس کے دھماکے کے بعد دھویں کے کالے بادل اُٹھتے کھائی دیئے جبکہ چارلاشیں ایک ہی گاڑی سے نکالی گئیں۔بتایاگیاہے کہ دھماکے کے فوری بعد پولیس لائنز کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں جبکہ کم ازکم چارگاڑیوں میں آگ لگ گئی،دیگر کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، موٹرسائیکلوں کو بھی نقصان پہنچاجبکہ شہیدوزخمی ہونیوالوں میں کوئی پولیس اہلکار شامل نہیں ۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق ایک شخص گاڑی سے اُترااوراُس کے ساتھ ہی دھماکہ ہوگیا جس کے بعد دھماکے کے علاقے میں پولیس نے شامیانے لگادیئے اور میڈیا کا داخلہ بھی بند کردیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے دھماکے میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے جبکہ پولیس لائنز کے اندر سے بھی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں ۔
 دھماکے کے بعد ایمبولینسیں اور پولیس کی بھاری نفری طلب کرلی گئی اور سیکیورٹی فورسز نے آمدورفت کے لیے سڑکیں بند کرکے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔دھماکے کے بعد لاہوربھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ۔

میو ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اُنہوں نے ریڈ الرٹ جاری کرکے انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔

دھماکے کے اطلاع ملتے ہی قریبی سکول میں زیرتعلیم بچوں کے ورثاء کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئیں ، خواتین روتی چلاتی موقع پر پہنچیں لیکن  سکول کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں ۔

چارسدہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔6فروری 2015ء)چارسدہ تھانہ سرڈھیری کے علاقہ منی خیل میں نجی سکول و کالج کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک طالبہ زخمی ہوگئی ۔ مقامی پولیس کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ مذکورہ گاڑی کے ڈرائیور علی خان کی ذاتی دشمنی تھی جس کے بناء پر تاک میں بیٹھے ملزمان نے ڈرائیور پر فائرنگ کی لیکن غلطی سے گولی گاڑی میں بیٹھی ہوئی چودھویں جماعت کی طالبہ سنبل کو جا کے لگی اور طالبہ سنبل ہاتھ پر گولی لگنے سے زخمی ہوگئی ۔ زخمی طالبہ کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ منتقل کر دیا گیا ۔ مقامی پولیس کے مطابق انہوں نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔

چارسدہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12فروری 2015ء )سٹی پولیس کی کاروائی، سردریاب چیک پوسٹ پر گاڑی سے 4من چرس برآمد،ملزم گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق سٹی تھانہ چارسدہ کے ایس ایچ او انسپکٹر اعجاز خان آبازئی نے خفیہ اطلاع پر سردریاب چیک پوسٹ کے قریب ناکہ بندی کر رکھی تھی اس دوران پشاور سے چارسدہ آنے والی گاڑی کو روک کر تلاشی لی اور گاڑی سے چار من چرس برآمد کر کے ملزم عمر خطاب ولد نجم الدین ساکن مردان کو گرفتار کرکے ان سے مزید تفتیش شروع کر دی ۔

چارسدہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11فروری 2015ء ) تاجروں کی تنظیم تاجر اتحادنے بجلی کے ناروا لوڈ شیڈنگ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب بے جا جرمانوں کے خلا ف سے فاروق اعظم چوک میں روزانہ کی بنیاد پر صبح نو بجے سے شام چار بجے تک غیر معینہ مدت کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ۔حتجاجی کیمپ میں کثیر تعداد می دوکاندارواور سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔اس موقع پر تاجر اتحادکے صدر صلاح الدین شاکر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آئے روز دکانداروں پر بھاری بھرکم جرمانے عائد کی جاتے ہیں جس سے بازار کے دکاندار عاجز آگئے ہیں اوران بے جا جرمانوں سے نہ صر ف دکانداروں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں بلکہ دکانداروں کے گھر وں میں فاقوں کی نوبت بھی پہنچ چکی ہے ۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے شہری علاقوں میں پندرہ پندرہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جس سے بھی روز گار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ دکانداروں کے مالکان کی جانب سے بھی آئے روز تنگ کیا جاتا ہے جس کے خلا ف تاجر اتحاد نے غیر معینہ مد ت کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا ہے ۔اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بے جا جر مانوں کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا اور محکمہ واپڈ اکی جانب سے شہری علاقوں میں لو د شیڈنگ کا دورانیہ کم نہیں کیا جاتا اس وقت تک دکانداروں کی جانب سے بھوک ہرتالی کیمپ قائم رہے گا۔

ہفتہ, 14 فروری 2015 20:46

کچن سے کاروبار تک

موجودہ دور میں انسانی ضروریات کا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تحقیق و جْستجْوبھی میدان ِترقی میں ہوتی جاری ہیں۔ 1942ء میں فرانس کے ایک نوجوان نے ایک ایسی مشین ایجاد کی جو ہزاروں لاکھوں چیزوں کو جمع کرسکتی تھی، اس نوجوان کا نام بلیس پاسکل تھا اور اس کی ایجاد کردہ مشین کا نام کیلکولیٹر تھا۔ 1671ء میں جرمنی کے ایک ریاضی دان ولیم لایئنز نے پاسکل سے زیادہ جمع کرنی والی مشین ایجاد کرلی۔ اسی طرح چارلز بیبج دنیا میں”دنیائے کمپیوٹر“ کا اعزاز رکھتے ہیں۔آج کے ترقی یافتہ دور میں جدید ترین اور تیز تر ٹیکنالوجی دیکھنے میں آتی ہیں۔ میڈیا ٹیکنالوجی میں سوشل (معاشرتی) میڈیا کو تیز ترین کہا جاتا ہے اور یہ بھی بہت تیزی سے ترقی کر تا جا رہا ہے مگرہمیں جاننا ضروری ہوگا کہ سوشل میڈیا آخر ہے کیا۔اگریہ کہا جائے کہ معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی بات کو دوسروں تک پھیلانا کو سوشل میڈیا کہتے ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ سوشل میڈیا معاشرے کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کا مطلب نہیں بلکہ یہ اک انقلابی آلہ کی مانند ہے جس کے ذریعے ہم معاشرے میں بہترین تبدیلی لاسکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا مستقبل نامعلوم ہے لیکن یہ بات تو واضع ہے کہ یہ ایک بڑا اور مزید بہتر سے بہتر نیٹ ورک بنتا چلا جارہا ہے۔حال ہی میں پاکستان میں فیس بک کے صارفین کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ سے بڑھ گئی جو پاکستان کی کل آبادی کا سات فیصد کے قریب بنتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس تعداد میں زیادہ اضافہ سنہ 2013 کے دوران ہوا۔ دوسری مقبول ویب سائٹس میں ٹوئٹر، لنکڈ ان، پن ٹرسٹ، بلاگز، یوٹیوب اور ویمیو جیسی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹس شامل تھیں۔پاکستان کے سوشل میڈیا کے صارفین کا تعلق زیادہ تر شہری علاقوں سے ہے جن میں نوجوانوں کی اکثریت ہے۔تاہم سنہ 2013 کے دوران اس پر سیاست دانوں، اہم شخصیات کی موجودگی میں اضافہ ہوا جس نے اس کو ایک نیا مقام دیا۔اگلی نسل کے سیاست دانوں جیسا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری اگر سوشل میڈیا کو اپنا آلہ بنا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سوشل میڈیا پاکستان میں بہت آگے آیا ہے بلکہ روایتی میڈیا اسے استعمال کرتا ہے تو اس سے سنجیدگی بڑھی ہے۔دنیا کے جس گوشے تک تعلیم اور ٹیکنالوجی کی رسائی ہوچکی ہے وہاں سوشل میڈیا بھی موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی بزنس وومن خواتین کے بارے میں ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں جہاں خواتین مردوں کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی اپنا مقام بنارہی ہیں وہیں کاروبار بھی ایسا شعبہ ہے جہاں متعدد خواتین اپنی محنت اور کوشش سے کاروباری طبقے کا حصہ بن رہی ہیں۔ان کاروباری خواتین میں سے زیادہ تر خواتین اپنے ذاتی کاروبار سے وابستہ ہیں جنھوں نے چھوٹے پیمانے پر اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور اب اکثر خواتین آن لائن بزنس چلارہی ہیں۔مہوش جس نے حال ہی میں اپنا ایک بیوٹی پارلر کھولا ہے کے مطابق بیوٹی پارلر میں ویسے تو کئی خواتین گاہک آرہی ہیں مگر جب سے انھوں نے اپنے اس بیوٹی پارلر کا ایک فیس بک پیج تخلیق کیا ہے، ان کی گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں انہیں سوشل میڈیا پر اپنے بزنس کی پروموشن کا اچھا نتیجہ حاصل ہورہا ہے۔خواتین کا کہنا ہے کہ جہاں انھیں اپنے کاروباری کے فروغ میں کئی مسائل درپیش ہیں وہیں سوشل میڈیا پیجز پر موجود لوگوں کو موجودہ ایپلی کیشن کے بارے میں بتانا پڑتا ہے۔اگر کوئی فیس بک استعمال کررہا ہے تو وہ گوگل پیج سے واقف نہیں اور ایسے ہی کئی افراد ہیں جو انٹرنیٹ پر ہر ایپلی کیشن استعمال کرنا ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔ ایسے میں ان کو دوسری ایپلی کیشن جوائن کروانے میں کافی محنت لگتی ہے۔گوگل' بزنس گروپ، 'وومن کراچی' کے مینجر امتیاز نورکی طرف سے موصولہ ایک ای میل کے مطابق اکثر خواتین اپنے کاروباری معاملات زیر بحث نہیں لاتی ہیں جس کیلئے ایسی آگاہی ورکشاپ اور کانفرنس معاون ثابت ہوتی ہیں جب خواتین ایک ساتھ مل کر بیٹھ کر معاملات اور اپنے کاروباری مسائل کے حل زیر بحث لائیں تو کوئی شک نہیں کہ کاروباری خواتین کے مسائل کافی حد تک حل ہوسکیں۔مرد حضرات تو اپنے مسائل کھل کر شیئر کرتے ہیں جبکہ خواتین کو ہی کاروباری خواتین کے درمیان ان معاملات میں کافی خلا ہے جسے دور کرنیکی ضرورت ہے۔ اگر کوئی خاتون کوئی کاروبار شروع کرنا چاہ رہی ہیں اور کئی مسائل کے باعث نہیں کرپارہی ہیں تو انھیں چاہئے کہ اپنے مسائل کو پیشہ ورانہ کاروباری خواتین کے ساتھ ملکر بات کرکے حل کریں۔یقینا آن لائن طریقے سے بزنس کو پروموٹ کرنا آسان ہے وہاں آپ کو کئی ایسے افرادآن لائن ملتے ہیں جو کہ عملی زندگی میں نا مل پائیں اور اسکی جدید شکل اب موبائل فون ہے جہاں ہر ایپلی کیشن کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔ پچھلے دنوں مشہور سرچ انجن چلانے والی 'گوگل' کمپنی کی جانب سے خواتین کو انٹرنیٹ کے نئے طریقوں سے متعارف کرنے کیلئے ایک کانفرنس لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی جہاں چھوٹے پیمانے کا کاروبار کرنیوالی خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور انھوں نے اپنے تجربات پیش کئے اور کئی مفید مشورے بھی حاصل کئے۔سوشل میڈیا تجارتی ،پیشہ وارانہ،اور ذاتی برینڈ سازی کے لئے زبر دست امکانات رکھتا ہے،اگر معیار کو مزید بہتر بنایا جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ مثبت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں یہ معلومات کا ایک بہترین زریعہ ہے ایک سروے رپوٹ کے مطابق اس سے براہ راست آن لائن کاروبار اور آمدنی 70سے 80 فی صد تک اضافہ ممکن ہے ،سوشل میڈیا سے اردو زبان کی فروغ میں اضافہ ہوا ہے اگرچہ چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی اور پیشہ وارانہ تربیت کی کمی کی وجہ سے کتابت کی بہت سے غلطیاں یہاں بھی سرزد ہو رہی ہیں۔
سوشل میڈیا کی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی صلاحیت کی ایک اور مثال ’لبنانی خواتین کا حقِ قومیت اور مکمل شہریت‘ ہے جس نے لبنانی خواتین کو اپنی شہریت اپنے بچّوں کو منتقل کرنے کا حق دینے کی حمایت میں فیس بْک پر بیس ہزار سے زائد ارکان اکٹھے کر لئے ہیں۔ اس پلیٹ فارم نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے مِلنے اور یہ دریافت کرنے کے قابل بنایا ہے کہ دوسرے عقائد کے پیروکار بھی وہی سوچ سکتے ہیں، بلکہ سوچتے ہیں، جو ہم سوچتے ہیں۔اس قسم کی سرگرمیاں سماجی ہم آہنگی کے احساس کو مضبوط بناتی ہیں اور مختلف پس منظر رکھنے کے باوجود لوگوں کو ان چیزوں پر توجہ دینے میں مدد دیتی ہیں جو ان کے مابین مشترک ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لئے بھی ایک موٴثر وسیلہ جنہیں معاشرے کا کمزور طبقہ بنا دیا گیا تھا اور اب وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ اپنی پریشانیوں کے بارے میں آواز بلند کرکے سارے مْلک سے حمایت اکٹھی کر سکیں۔اسلام آباد میں دو روزہ سوشل میڈیا سمٹ جس کا مقصد سماجی تبدیلی میں سوشل میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالنا اور جس کا انعقاد 'پاکستان امریکہ المنائی نیٹ ورک' اور 'پروگریسو یوتھ فورم' نے کیا تھا اور، جس میں تین سو سے زائد صحافی، بلاگرز، سماجی کارکن، طلبا و طالبات اور امریکہ میں تعلیم پانے والے سابق طلبہ نے مختلف موضوعات پر اپنے تجربات اور خیالات کااظہار کیا جیسی کانفرنس کے پہلے روز ممتاز صحافیوں، سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کے ماہرین اور کاروباری افراد نے نوجوانوں کی سر گرمیوں میں سوشل میڈیا کے کردار کے ساتھ ساتھ فروغِ امن، خواتین کو با اختیار بنانے، کاروبار اور صحافت میں سوشل میڈیا کے استعمال اور اثرات پر بھی گفتگو کی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستانیوں کو سلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر انفرادی آوازیں اتنی طاقت ور کبھی بھی نہ تھیں اور یہ سفر جاری رہنا چاہئے۔دنیا کے چھے آباد براعظموں میں بسنے والی اقوام میں سے کون سی ایسی قوم ہوگی جس کے افراد کی ایک بڑی تعداد کسی نہ کسی سوشل ویب سائٹ سے وابستہ نہیں۔ حکم راں، سیاست داں، کھرب پتی سرمایہ دار، نام ور اداکار اور گلوکار، مذہبی شخصیات، شاعر، ادیب، مصور، غرض یہ کہ ہر پیشے اور شعبے کے معروف اور غیر معروف لوگ سوشل میڈیا سے تعلق جوڑے ہوئے ہیں۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے بکھرے ہوئے خاندانوں کے افراد اور بچھڑے ہوئے دوستوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کا بہت آسان ذریعہ فراہم کیا ہے اور دنیا کے ہر فرد کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود اپنے ہم خیال اور یکساں ذوق وشوق کے حامل افراد سے دوستی کرے اور رابطے میں رہتے ہوئے باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرے۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ”سوشل میڈیا کا عالمی دن“ بڑے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔سوشل میڈیا کے دن یا ”یوم سماجی میڈیا“ کی شروعات 2010 میں کچھ تقریبات سے ہوئی تھی، پھر رفتہ رفتہ یہ ایونٹ عالمی سطح کا دن بن گیا، جسے دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ امریکا کی ریاست ایریزونا وہ پہلی امریکی ریاست ہے جس نے سوشل میڈیا کا دن سرکاری طور پر منانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اب مزید دو امریکی ریاستیں نویڈا اور میسوری بھی ایریزونا کی پیروی کرتے ہوئے یہ دن مناتی ہیں۔سوشل میڈیا سے مراد ویب اور موبائل ٹیکنالوجی پر مبنی روابط کے ذرائع ہیں۔ اندریس کپلن اور مائیکل ہینلین نے اپنے طور پر سوشل میڈیا کی وضاحت کچھ اس طرح کی ہے کہ نظریاتی اور تکینکی بنیادوں پر صارف کی پیدا ہونے والے مواد کی تخلیق اور تبادلہ کی اجازت دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا سماجی مواصلات سے آگے ایک سْپر سیٹ کے طور پر سماجی تعلقات کے لیے میڈیا ہیں۔سوشل میڈیا تنظیموں کے معاشروں اور افراد کے درمیان ہر موجود اور قابل رسائی توسیع پذیر متعارف کرانے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ انٹرنیٹ فورم، ویب لاگ، سماجی بلاگز، مائکرو بلوگنگ، ویکیز، ویڈیو، تصاویر، درجہ بندی، سماجی بکْ مارکنگ سمیت کئی اقسام سوشل میڈیامیں شامل کی جاتی ہیں۔ میڈیا تحقیق کے میدان میں اصولْوں کا ایک مجموعہ لگانے سے سماجی موجودگی، میڈیا سماجی عمل (خود حضوری)، خود انکشاف کے حوالے سے کپلن اور ہینلین نے 2010ء میں اپنا ایک مضمون شائع کرایا جس میں مختلف سوشل میڈیا کی اقسام اور ان کے کاروبا ر کے افق کا دعویٰ کیا گیا۔
کپلن اور ہینلین کے مطابق سوشل میڈیا کی کْل چھ مختلف اقسام بتائی گئی ہیں۔ باہمی تعاون کے ساتھ ساتھ جیسے وکیپیڈیا، بلاگز اور مائکرو بلاگز مثلاََ ٹوئیٹر قناعت پسند سماج مثلاََ یوٹیوب، سوشل نیٹ ورکنگ ویب ئٹس جیسے کہ فیس بْک اور دنیاوی سماجی خیال مثلاََ سیکنڈ لائف… ان تمام منصوبوں میں یہ ٹیکنالوجیز شامل ہیں: بلاگز، تصویر شراکت، وی لوگز، وال پوسٹنگ، ای میل، فوری پیغام رسائی، موسیقی شراکت، کراڈ سورزنگی اور وائزاْور آئی پی وغیرہ استعمال ہوتی ہیں۔ ان تمام کی وجہ سے سوشل میڈیا کی خدمات کے ذریعے بہت سے لوگوں نے سوشل نیٹ ورک کے راستے پلیٹ فورمز کے استعمال سے لوگوں کو جمع کرکے ایک اجتماع قائم کرسکتے ہیں۔سوشل میڈیا کا استعمال بہت پہلے سے ہی شروع ہو گیا تھا مگر اْس کی ترقی اور مزید بہتری کے لیے محنت جاری رہی اور آخر صارف تک پہنچنے میں وقت درکا ر ہوامگراب اس کی واقفیت وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی چلی جارہی ہے۔سوشل میڈیا کے ساتھ معاشرے میں امن کی ضرورت بھی ہیں۔ احتسابی اعتبارسے ہمیں غیر ضروری باتوں سے گریز کرنا لازمی ہوگا جس سے ہم نیٹ ورک کے ساتھ معاشرے میں بھی امن کو مستحکم کرسکے۔اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کا استعمال اچھی اور بہتری کے مقصد کے لیے کرے اور وہ مقاصد ہماری سوچ پر زیادہ انحصار کرے۔میں یہ ذاتی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ تخلیقی صلاحیتوں کے لیے سوشل میڈیا ایک زبردست سہرا ہے جو کے لوگوں میں تخلیقت اور اْس کو دنیا میں اْجاگر کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا کے پلیٹ فورم میں شامل ہوتے جارہے ہیں۔ اگر ہم یوٹیوب ( جس کو آجکل پاکستان میں پابندی کا سامنا ہے )ویب سائٹ کے بارے میں بات کریں تو یہ وہ ویب سائٹ ہے جہاں پر ہم لوگ صارفین کی حیثیت سے ویڈیوز اپ لوڈ کرسکتے ہیں اور یہ ویڈیوز پوری دنیا کے لوگوں کے لئے فراہم کی جا سکتی ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی چیز کے پھیلنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند سال پہلے بنگلہ دیش کے امریکی شہری جن کا نام سلمان خان اور ان کا تعلق خان اکیڈمی سے ہے۔ انہوں نے یوٹیوب پر اپنے رشتہ دار کے لیے ریاضی، سائنس سے وابستہ ویڈیوز اپ لوڈ کی تھیں جو کہ دنیا میں لاکھوں لوگوں نے دیکھیں یہاں تک کہ دنیا کی سب سے بڑی سوفٹ وئیر کمپنی مائیکروسوفٹ کے بانی و چئیرمین بل گیٹس اور ان کے بچوں نے بھی دیکھیں۔ اسی طرح ورڈ پر یس بلوگ کے ذریعے ہم لکھنے اور تخلیقت کی نمائش کرسکتے ہیں، ہمارے پاس اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔سائنسی و ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے مرکز سے کچھ یا تمام سات کے سات فرائض کے ذریعے بلاگز کو تعمیر کیا جاسکتا ہیں۔ جیسے کہ (شناخت، شراکت، موجودگی، تعلقات، شہرت، جماعت بندگی اور گفتگو… ان تمام کی وجہ سے سوشل میڈیا سامعین کی مصروفیت، شغل کو سمجھنے کی اچھی خاصی مدد حاصل ہوجاتی اور اسی کے ذریعے اپنے بلاگز کو بہترین طریقے سے تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا کی مد د سے تجارت کر کے ملک کی معیشت کو بھی مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ ہم امید رکھ سکتے کہ آنے والی اگلی نسل انتہائی تخلیقی صلاحیت کی مالک ہوگی جوکہ دنیا میں علم حرکیات کو وجود میں لانے کے لیے کافی مدد دے کرسکتی ہیں جس کی بنیاد پر دنیا اور بھی دلچسپ لگنے لگے گی۔

اسمارٹ فونز اب ہم سب کی دسترس میں ہیں۔تصویر بنوانے فوٹو اسٹوڈیو جانے کی روایت دم توڑ رہی ہے کیونکہ ہمارے اسمارٹ فون کا کیمرا اب ہمیں یہ خدمات فراہم کر رہا ہے۔

حالیہ چند برسوں میں اپنی تصویر بنانے کا رواج بہت زور پکڑ چکا ہے ۔دفاتر،تعلیم گاہوں، پارکوں،تفریحی مقامات اور پارٹیوں میں اب  لوگ موبائل فون سے اکثر اپنی تصویریں بناتے نظر آتے ہیں۔اپنی تصویر یا سیلفی لے کر پوسٹ کرنا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مقبول عام تفریح بن چکی ہے ،لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ غیر محسوس طریقے سے نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا باعث بھی بن رہی ہے۔

پوری دنیا بالخصوص امریکا اور یورپ میں ماہرین نفسیات اور کلینیکل سائیکالوجی سے متعلق افراد سیلفی کو اپنی تحقیق کا موضوع بنا رہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ وہ مریض ہیں جنہیں سیلفیوں کے جنون نے ذہنی صحت کی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ اس پہلو پر بات کرنے سے قبل ذرا سیلفی کے تصور کا تاریخی جائزہ لیتے ہیں۔

جی ہاں!سیلفی سے مراد کسی بھی شخص کی ایسی تصویر جو وہ خود لیتا ہے۔یہ تصویر عام طور پر اسمارٹ فون یا ویب کیم کے ذریعے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کی غرض سے بنائی جاتی ہے۔ آکسفورڈ ڈکشنری نے لفظ ’’Selfie‘‘ کو 2013ء میں ’’Word of the year‘‘ قرار دیا۔عام خیال یہ ہے کہ سیلفی ابھی آج کل کی بات ہے لیکن درحقیقت ایسا نہیں ۔ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پر سولہویں صدی کی دوسری دہائی میں سیلفی کی ابتدائی شکل کا ذکر ملتا ہے۔ذاتی پورٹریٹس کا تصور فوٹو گرافی کے جدید آلات کی ایجاد سے بہت پہلے کا ہے۔

یونیورسٹی آف کولمبو کی اکتوبر 2014ء میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سیلفی کی سب سے پہلی شکل اس پورٹریٹ کو قرار دیا گیا جو1524ء میں ایک اطالوی آرٹسٹ پار مگیانینو (Parmigianino) نے بنائی تھی اور اسے ’’مجوف آئینے میں بنائی گئی ذاتی پورٹریٹ‘‘(Self portrait in Convex Mirror )کا نام دیا تھا۔اور پہلا باقاعدہ فوٹو گراف جسے سیلفی کہا گیا وہ تصویر تھی جو فلاڈلفیا کے شوقیہ فوٹو گرافررابرٹ کارنیلئیس نے 1839ء میں اپنی بنائی تھی۔وہ کیمرے کے عدسوں کا کور اتارنے کے بعد دوڑ کر فریم میں آیا اور اپنی تصویر بنا لی۔اور تصویر کی پشت پر یہ یاد گار الفاظ لکھے ’’The first light Picture ever taken. 1839‘‘۔

پھر 1900  میں ایک تیرہ سالہ روسی لڑکی اناستاسیانکولاوینا نے آئینے کی مدد سے اپنی تصویر خودلے کر اپنے دوست کو بھیجی اور ساتھ لکھا کہ ’’میں نے اپنی یہ تصویر شیشے کی جانب دیکھتے ہوئے بنائی ہے۔یہ بہت مشکل کام تھا کیونکہ میرے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے‘‘۔یہ تو تھیں دُور پیچھے کی باتیں،لیکن ماضی قریب میںسیلفی سال 2002ء میںایک آسٹریلین انٹر نیٹ فورم پر زیر بحث آئی۔سیلفی کے متعلق گفت و شنید میں تیزی سال2005ء کے بعد آئی کیونکہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک ،انسٹا گرام وغیرہ کی مقبولیت کا زمانہ تھا۔اس کے بعد تصویر کشی کا یہ طریقہ نوجوانوں میں بہت مقبول ہوا۔

سال 2012ء کے اخیر میں ٹائم میگزین نے لفظ سیلفی کو  “top 10 buzz words”میں شمار کیا۔2012ء کے ایک سروے کے مطابق آسٹریلیا کی 18 سے 35سال کی عمر کی دو تہائی خواتین سیلفیاں لیتی ہیں۔ جن کا مقصد  عام طورفیس بک پر پوسٹ کرنا ہوتا ہے۔سام سنگ کی جانب سے ایک مہم کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 18 سے 24 سال کے درمیان عمر کے افرادکی کل تصاویر کا تقریباً تیس فی صد سیلفیز پر مشتمل ہوتا ہے ۔سیلفی کلچر اب زمین تک محدود نہیں رہا۔ جدید دور کاانسان اسے زمین کی حدوں سے نکال کر دور خلاؤں میں بھی لے پہنچا۔ جی ہاں!پہلی خلائی سیلفی ایک خلاء نورد بزّ الڈرین( Buzz Aldrin)نے 1996ء میںجمنی 12مشن (Gemni 12 mission)  کے دوران لی تھی۔

سیلفی اب صرف سیلفی یعنی صرف ایک شخص کی تصویر نہیں رہی بلکہ گروپ سیلفیاں بھی آج کل کی معروف چیز ہیں ۔لوگ مختلف تقاریب،پارٹیوں اور مخصوص دنوں میں اکٹھی سیلفیاں لیتے ہیں۔ اس گروپ سیلفی کو اب ”Usie”بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مشہور شخصیات اداکار،گلوکار،ٹی وی پر تفریحی پروگرام کرنے والے لوگ،کھلاڑی، سیاست دان غرض مذہبی رہنما بھی اب سیلفی کلچر کا حصہ ہیں۔امریکی صدر باراک اوباما دسمبر 2013ء میں نیلسن منڈیلا کی آخری رسومات میں شرکت کے دوران ایک سیلفی ٹیکر کے طور پر رپورٹ کئے گئے۔ان کی لی ہوئی سیلفی اوباما سیلفی کے نام سے مشہور ہوئی اور مختلف حلقوں میں گپ شپ کا موضوع بنی۔اس کے بعد سیلفی کے عنوان سے کچھ میوزک ویڈیوز بھی بنیں۔

جنوری2014ء میں ایک امریکن DJ Due’’دی چین سموکر‘‘ نے میوزک ویڈیو ”Selfie”بنائی۔فروری2014ء میں نینا نسبٹ) (Nina Nesbittنے ایک اور میوزک ویڈیو بنائی ,جو ABCٹیلی وژن نیٹ ورک پر selfieکے نام سے چلی ۔یہ ویڈیوایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے شہرت چاہتی ہے۔اس کے علاوہ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں بھی یہ باتیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ وہ بھی سیلفی لینے کا ذوق رکھتے ہیں۔ادھر ہمارے بلاول بھٹو زرداری بھی بارہا جلسوں میں سیلفیاں لیتے پائے گئے۔

اب آتے ہیں سیلفی کلچر کے دوسرے پہلو کی جانب۔ نفسیاتی بیماریوں کے ماہرین نے شواہد کی بنا پر سیلفی کی عادت کے شکار افراد کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سائیکالوجسٹ جل ویبر(Jill Weber) کا کہنا ہے کہ یہاں خطرہ ہے اس بات کا کہ آپ کی خود اعتمادی یا (self esteem)اپنی سیلفی پر ملنے والے تبصروں اور لائیکس کے ساتھ جڑ جائے گی۔اور اس کی بنیاد آپ کی حقیقی شخصیت کی بجائے آپ کا ظاہری سراپا(یعنی آپ کیسا دِکھ رہے ہیں) ہوگا۔ڈاکٹر ویبر کا مزید کہنا ہے کہ ’’میرے تجربے کے مطابق جو لڑکیاں بار بار سیلفیاں پوسٹ کرتی ہیں وہ درحقیقت اپنی زوال پذیر خود اعتمادی کے ساتھ برسر پیکار ہوتی ہیں‘‘۔

امریکن اکیڈمی آف فیشل پلاسٹک اینڈ ری کنسٹرکٹو سرجری کے ایک سروے کے مطابق نوجوانوں میں پلاسٹک سرجری کروانے کی خواہش کے پیچھے سیلفیوں کا بہت کردار ہے۔اس سروے میں ایک آرگنائزیشن کے 2700 افراد کو منتخب کر کے ان کا جائزہ لیا گیا۔جس سے پتہ چلا کہ لوگوں کا سیلفیوں میں پرفیکٹ دکھائی دینے کا جنون سرجری کے کاروبار کو وسعت دے رہا ہے ۔اور یہ بھی ایک حیرت ناک حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال لوگوں میں اپنے جسم کی بابت عدم اطمینان کو فروغ دے رہا ہے۔

2011ء میں یونیورسٹی آف ہائفا میں 12 سے 19 سال کی 248لڑکیوں پر ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لڑکیاں زیادہ فیس بک استعمال کرتی ہیں۔وہ بلیمیا(Bulmia) (کھانے پینے میں بے اعتدالی)، ایناریکسیا (Anorexia) (بھوک کی کمی اور عدم اشتہا جو دُبلے پن کا باعث بنتی ہے)اور اپنے بارے میں منفی تأثر( Negative self-image) سمیت مختلف مسائل کا شکار رہتی ہیں۔وہ اپنے آپ کو وزن گھٹانے کی طرف بہت مائل خیال کرتی ہیں۔دوسری بات یہ کہ لوگ سیلفی کلچر کے نتیجے میں اپنی ذات کا اِرد گرد کے افراد اور فیس بک کے دوستوں سے موازنہ کرتے ہیں جو کہ کسی طور صحت مند عادت نہیں ہے۔

2013ء کی ایک تحقیق کے مطابق فیس بک کا مستقل استعمال کرنے والے اور سیلفیاں پوسٹ کرنے کے عادی  افراد سوشل سپورٹ کی کمی کا شکار ہوتے ہیں،وہ اپنے فیس بک دوستوں کے نسبتاً زیادہ قریب ہوتے ہیں۔مطالعے کا کہنا ہے کہ یہ عادت ان کے حقیقی رشتوں اور سماجی تعلقات کوبری طرح متاثر کر سکتی ہے۔سیلفیوں کی ایک اور قسم’’ سیلفی اولمپکس ‘‘یا ’’ٹرِک شُوٹ سیلفی‘‘ ہے ۔یہ غیر معمولی اور پرخطر حالات میں لی جاتی ہے۔2014ء کے شروع میں اس طرح کی سیلفیوں کے رجحان نے ٹویٹر پر زور پکڑا۔

یہ سیلفیاں کم عمروں اور نوجوانوں کوکرتب بازی( stunts)کی طرف راغب کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔وہ ایسی سیلفی جو سب کو حیرت میں ڈال دے،بنانے کے لئے جان لیوا حرکتیں کرنے سے باز نہیں رہتے۔فروری 2014ء میں ہانک کانک میرا تھن کے ذمہ داروں نے دوڑ کے دوران سیلفی لینے پر پابندی لگائی۔اس کا سبب 2013ء میراتھن میں پیش آنے والے وہ حادثات تھے جو لوگوں کو دوڑ کے دوران سیلفیاں بنانے کے باعث پیش آئے۔

ملائشیا میں تھائی فیشل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے سیلفی کلچر کو دماغی صحت کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ڈیپارٹمنٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر پان پیمول ویپلاکورن( Panpimol wipulakorn)کا کہنا ہے کہ سیلفی پر لائیکس تو ملتے ہیں لیکن کوئی شخص کم لائیکس سے خوش ہوجاتا ہے جبکہ بہت سے سیلفیوں کے جنون میں مبتلا لوگ زیادہ لائیکس کے متلاشی بن کر زیادہ پسند کئے جانے (Being liked)کی لت(Addiction ( میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اگر انھیں اپنی مرضی کے مطابق رد عمل نہ ملے تووہ اپنی خو د اعتمادی کی دولت کھو بیٹھتے ہیں اور خود سے خطرناک حد تک غیر مطمئن ہو جاتے ہیں جو کہ درست رجحان نہیں ہے۔کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر انجلی چابریا ( Dr Anjali Chhabria)کے مطابق لوگ سیلفیوں میں خود کو ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ وہ حقیقت میں ہوتے نہیں۔سو یہ درحقیقت ’’غلط تصویر‘‘(False- Image)ہے جو ذہنی بیماری کا شاخسانہ ہے۔

ان سب خدشات کا اظہار سیلفی کی عادت کے شکار افراد کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔سیلفی لینے کا شوق بعض اوقات خطرے میں بھی ڈال سکتا ہے۔جولائی 2014 ء میں فلپائن میں ایک چودہ سالہ لڑکی اپنے دوست کے ساتھ اسکول کے ایک بلند زینے پر اپنی سیلفی لیتے ہوئے گر پڑی اور جان کی بازی ہار گئی۔اسی طرح اگست 2015 ء میں ایک پندرہ سالہ لڑکے نے خود کو بری طرح زخمی کر لیا جبکہ وہ ایک بندوق اپنی ٹھوڑی سے لگا کر دوسرے ہاتھ سے سیلفی لے رہا تھا۔اسی طرح کا ایک واقعہ نومبر 2014 ء میں ایک پولستاتی عورت کے ساتھ پیش آیا، جو سپین میں چھٹیاں منا رہی تھی۔

اس نے ایک پل پر مشکل سیلفی لینے کی کوشش کی جس نے اس کی جان کا خاتمہ کر دیا۔ایسے بہت سے افراد بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اپنی دانست میں بہترین سیلفی لینے کی گھنٹوں کوشش کی ۔مگر مطلوبہ معیار کی سیلفی نہ بنا سکنے کی وجہ سے انہوں نے تنگ آ کر خود کشی کی کوشش کی۔اس کی مثال ہمارے سامنے مرر نیوز کی رپورٹ کردہ ایک خبر ہے جس کے مطابق ایک 19سالہ ڈینی بو مین(Danny Bowman ) نامی ایک برطانوی نوجوان ہے جو پندرہ سال کی عمر ہی سے سیلفی ایڈکشن کا شکار تھا۔یہ عادت اس کے اسکول چھوڑنے کا باعث بھی بنی۔

پھر اس نے ایک دن میں دو سو سے زائد مرتبہ اپنی تصاویر بنا ئیں ۔لیکن وہ سیلفی میں نظر آنے والے اپنے سراپے سے مطمئن نہیں تھا۔پھر بالآخراس نے خود کشی کی کوشش کی۔مذکورہ نوجوان کا علاج کرنے والے نفسیاتی معالج ڈاکٹر ڈیوڈ ویل(Dr. David Veale) کا کہنا ہے کہ ’’ یہ ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے ۔یہ ذہنی صحت کے لئے اتنا زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کہ انسان کوخودکشی کے اقدام تک لے جاتا ہے۔ڈاکٹر ڈیوڈنے ضرورت سے زیادہ اپنی تصاویر لینے کو ایڈکشن کے بجائے Body Dysmorphic Disorder (BDD) قرار دیا ہے اور بعض ماہرین نفسیات کا خیال ہے کہ سیلفیاں لینے کا رجحان شخصیت میں عدم اعتماد کی علامت ہے۔

ا ب سوال یہ ہے کہ سیلفی کی لت سے چھٹکارہ کیونکر حاصل کیا جا سکتا ہے؟یہاں یہ خیال رہے کہ کبھی کبھارضرورت یا پھر تفریح کے طور پر سیلفی لینے میں کوئی حرج نہیں۔بات خطرے کی حدود میں اس وقت داخل ہوتی ہے جب کوئی شخص سیلفی لینے کو عادت بنا کر اپنا وقت اور ذہنی صحت برباد کرنے لگتا ہے۔سیلفی ایڈکشن کابہترین متبادل دلچسپی کے موضوعات کی کتب کا مطالعہ ہے۔

اس کے علاوہ جسم کو متحرک رکھنے والے کھیل ،دوستوں، رشتہ داروں اور دیگر متعلق افرادسے ملاقات اور گپ شپ میں خود کو مصروف رکھنا بھی سیلفی لینے کی عادت سے بچا سکتا ہے۔یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے آپ کیسا نظر آ رہے ہیں یہ اہم ضرور ہے مگر اس سے بڑھ کر اہم آپ کی اصل شخصیت اور ذاتی مہارتیں ہیں۔اپنے کام کو وقت دیجیے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے پر توجہ دیجیے ۔اس طرح آپ اپنی ذات کے حوالے سے کافی حد تک مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں۔

دائیں جانب 1524ء میں پارمگیانینو کا بنایا ہوا پہلا سیلفی پورٹریٹ، درمیان میں 1839ء میں رابرٹ کارنیلئس کا بنایا گیا فوٹو گراف جسے پہلی فوٹو گرافک سیلفی قرا ر دیا گیا جبکہ دوسر ی جانب ’’کوڈیک برونائی باکس کیمرا‘‘ کی مدد سے1900ء میں ایک تیرہ سالہ روسی لڑکی اناستاسیا نکولاوینا کی آئینے کی مدد سے خود بنائی گئی تصویر ہے۔

سیلفی بنانے کی چھڑی

سیلفی سٹک ایک لاٹھی نما مونو پوڈ ہے جو سیلفی بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔اس کے ایک کنارے پر دستہ جبکہ دوسرے کنارے پر کیمرا یا موبائل فون فٹ کرنے کی جگہ ہوتی ہے۔کچھ سیلفی چھڑیاں ریموٹ سے کنٹرول ہوتی ہیں اور کچھ میں بلیو ٹوٹھ کنٹرول سسٹم ہوتا ہے۔ سال 2014ء میں جنو بی کوریا کی حکومت نے ان سیلفی سٹکس کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں پر 70 ہزار ڈالر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹائم میگزین نے سیلفی سٹک کو سال 2014ء کی بہترین ایجادات میں شمار کیا ہے ۔

باڈی ڈائس مارفک ڈِس آرڈر(BDD) کیا ہے؟

ڈائسمارفیا یاڈائسمارفک سینڈروم ایک ایسی ذہنی بیماری ہے جس میں متاثرہ شخص اپنی ظاہری ہیئت کے بارے میں بہت پریشان رہتا ہے۔یہ سیلفی ایڈکش میں مبتلا ایک برطانوی نوجوان جس نے بالآخر تنگ آ کر اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی،کے حوالے سے ڈاکٹروں نے تشخیص کی تھی ۔انہوں نے سیلفی ایڈکشن کو کنٹرول نہ کرنے کی صورت میں اسے دیگر منشیات اور الکوحل وغیرہ کی طرح خطرناک قرار دیا۔

جن افراد میں اس بیماری کی تشخیص کی گئی ان میں سے اکثر ایک دن میں اوسطاً تین گھنٹے ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے جو وہ خود میں سمجھتے تھے ۔حالانکہ یہ محض ان کا وہم تھا۔حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔یہ بیماری مرداور عورتوں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔ایک سے دو فی صد لوگ عموماً اس بیماری کا شکار رہتے ہیں۔اس کے علاج کے لئے کوگنیٹو بی ہیویئر تھراپی(CBT) کو موزوں خیال کیا جاتا ہے۔

 

 

ہفتہ, 14 فروری 2015 19:37

نفرت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا

نفرت، تعصب اور جہالت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا. یہ اُن روئیوں کا نام ہے جو جہاں بھی پائے جائیں ان کی کوکھ سے سڑانڈ اور تعفن ہی پیدا ہوتا ہے اور انسانی معاشرے اس کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ تینوں عناصر انسانی سوچ، عقل اور فکر کو سلب کرکے انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا دیتے ہیں۔

 

تھوڑا سا غور کریں تو آپ کو دنیا بھر میں جرائم کی شرح میں اضافے اور قتل و غارت کے پیچھے انہی عوامل کا ہاتھ نظر آئے گا۔ جس طرح گھروں کا کچرا پھینکنے کے لئے ہم کچرا گھر بناتے ہیں اسی طرح کیا ہم کوئی ایسا کچرا گھر نہیں بناسکتے جہاں ہم اپنی نفرتیں، عداوتیں، تعصب اور جہالت کو پھینک سکیں۔ کیا ہم ایسے کچرا گھر نہیں بناسکتے جہاں ہم اپنے ذہنوں میں بھری غلاضتں، نفرتیں، تعصب پھنیک کر معاشرے میں باہمی محبت، ایثار، برداشت، تحمل اور بھائی چارے کو فروغ دے کر انسانوں کے رہنے کے قابل بنا سکیں۔

گذشتہ روز امریکہ جیسے ’’مہذب‘‘ ملک جہاں انسانی آزادی، حقوق، سوچ اور احترامِ آدمیت جیسے اصولوں کی پاسداری نظرآتی ہے۔ وہیں کی ایک ریاست شمالی کیرولینا کے علاقے چیپل ہل میں نفرت اور تعصب سے بھرے ذہن کے حامل ایک شخص کریگ اسٹیون نے تین انسانوں (دو خواتین اور ایک مرد) کو قتل کردیا جو مذہباً مسلمان تھے۔ قتل کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی لیکن حالات و واقعات اور دستیاب شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اس قتل کے پیچھے نفرت کا جذبہ حاوی تھا ۔ ابھی تک اِس حادثے کا معمہ تو حل نہیں ہوسکا مگر قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کریگ اسٹیون کو عدالت میں پیش کیا گیا جس نے عدالت کے سامنے صحت جرم سے انکار کردیا، جبکہ گرفتار ملزم کی اہلیہ نے کریگ سے طلاق لینے کا اعلان کردیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایسے ذہنی مریض کے ساتھ  نہیں رہ سکتی جو انسانیت کا قاتل ہو۔

دوسری جانب مقتول خواتین کے والد محمد ابوصالحہ نے اسے نفرت پر مبنی قتل کی واردات قرار دیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق محمد ابو صلحہ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی بیٹیوں اور داماد کو مذہب سے نفرت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے امریکی شہریوں پر بار بار اسلامی دہشت گردی کے لفظ کی یلغار کرکے انہیں ہم سے خوفزدہ کردیا ہے، وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب تینوں طلبہ کی یاد میں امریکی ریاست کیرولینا میں یونیورسٹی کے سینکڑوں طلبہ اکٹھے ہوئے اور مقتولین کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے شمعیں روشن کیں جبکہ ان تینوں نوجوان مسلمانوں کے قتل کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ان تینوں کی یاد میں فیس بْک پر ’ہمارے تین فاتح‘ کے نام سے ایک صفحہ بنا دیا گیا ہے۔ اس صفحے پر پوسٹ کی گئی ایک تحریرمیں لکھا ہے؛

 

’’مہربانی فرما کر ایک دوسرے پر اعتماد کریں۔ ان تینوں خوبصورت روحوں کو اپنے نیک جذبات اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔ ان کا عقیدہ ان کے لیے بہت کچھ تھا‘‘

 

ساتھ ہی ٹویٹر پر ’مسلم لائیوزمیٹر‘ کے نام سے ہیش ٹیگ بنایا گیا ہے۔

 

کسی بھی معاشرے کا حسن توازن دیکھنا ہو تو وہاں کے نظامِ انصاف و قا نون کو دیکھنا چاہیے۔ تین مسلمان طلباء کے قتل کے بعد اس قاتل کو کسی نے ہیرو نہیں بنایا اور نہ ہی قانون نے امریکی ہونے کے ناطے اس کے ساتھ کوئی رعایت کی۔ اُس کی بیوی نے بھی اسے انسانیت کا مجرم قرار دیتے ہوئے اس سے علیحدگی کا اظہار کردیا جبکہ عدالت اسے اُس کے جرم کے مطابق قرار واقعی سزا دے گی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نہ ہی اسے مذہبی رنگ دے کرسڑکیں بلاک کی گئیں اور نہ قاتل کی حمایت میں جلوس نکالے گئے بلکہ پورا امریکی معاشرہ اس کے اس مکروہ فعل پر اس سے نفرت کا اظہار کرتا نظرآرہا ہے۔

کراچی: سینئر اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے کہا ہے کہ ٹیلی ویژن ڈرامہ پروڈکشن نے  معیاری اور اچھے ڈرامے پیش کرکے جو مثال قائم کی ہے اس کی وجہ سے آج پاکستانی ڈرامہ ناظرین میں بے حد مقبول ہے

.

ان کا کہنا تھا کہ  تمام نجی چینلز سے پیش کیے جانے والے معیار ڈرامے معیار کے اعتبار سے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کررہے ہیں مقابلہ کی اسی فضا نے ڈرامے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جہاں تک پاکستان میں بننے والی فلموں کا تعلق ہے، خوشی کی بات ہے ایک طویل عرصہ سے فلم انڈسٹری پر طاری جمود کا خاتمہ ہوگیا ہے اور نوجوان نسل  نے آگے بڑھ کر باگ ڈور سنبھال  لی ہے جو خوش آئند ہے۔ ضرورت بھی اس بات کی ہے کہ نئی سوچ اور نئے آئیڈیاز کے ساتھ کام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جدید ٹکنالوجی اہمیت اختیار کرگئی ہے،فلم بنانے کے لیے یہ وقت آئیڈیل ہے فلموں میں ہونے والی سرمایہ سے فلم انڈسٹری کا مستقبل روشن نظر آرہا ہے،انھوں نے کہا میں نے دو فلمیں بنانے کی منصوبہ بندی ہے  لیکن اس میں وقت درکار ہے میری کوشش ہوگی کہ فلم کی کہانی عمدہ اور بہترین ہو، روایتی کہانیوں کو دور اب ختم ہوچکا ہے دور جدید کے تقاضوں کو کو مد نظر رکھ کر کام کرنا ہوگا

صفحہ 1 کا 12

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement