A+ R A-
30 اپریل 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

اسلام آباد: فیڈل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں موبائل فون سیٹ کی درآمد پر 150 سے 500روپے سیلز ٹیکس کے علاوہ موبائل ٹیلی فون کی رجسٹریشن کے موقع پرانٹرنیشنل موبائل ایکویپمنٹ شناخت نمبر(آئی ایم ای آئی) پر بھی ڈھائی سو روپے سیلز ٹیکس عائد کردیا ہے۔

 

 

جبکہ سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ٹیلی کمیونی کیشن سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کے بجائے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری اور بلوچستان میں ٹیلی کمیونی کشن سروسز پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح19.5فیصد سے کم کرکے 18.5فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

 

ایف بی آرکے سینئر افسر نے بتایا کہ موبائل فون سیٹ کی درآمد اور آئی ایم ای نمبر پر سیلز ٹیکس کے نفاذ کو فنانس بل کے ذریعے قانونی تحفظ دینے کیلیے نویں شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، یہ بھی تجویز ہے کہ جو سیلولر موبائل فون آپریٹرز اپنے سسٹم میں آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹر کریں گے وہ آئی ایم ای آئی رجسٹریشن پر 150سے 250 روپے سیلز ٹیکس وصول کریں گے تاہم کسی کوان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ نہیں دی جائیگی۔

Published in بزنس

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال2014-15 کے بجٹ میں سبزی، دال، زندہ جانور، سی این جی بس، ایل پی جی بس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت200سے زائد اشیا کی درآمد پر ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی ہے۔

 

 

اس ضمن میں پاکستان کسٹمز ٹیرف میں ترامیم کردی گئی ہیں جس سے قدرتی گیس، سبزیوں اور پٹرولیم مصنوعات سمیت 200 سے زائد اشیا مہنگی ہوجائیں گی۔

 

ایک سینئر افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ جن 200سے زائد اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ان میں گائے، بھینس، بکرے، بھیڑیں، دنبے اور دیگر زندہ جانور، بغیر ہڈی کا گوشت، بکرے کا گوشت، کھمبیاں، مچھلی کے انڈے، تازہ اور فرٹیلائزر پر مشتمل کیمیکلز، پوٹاشیم سلفیٹ، یوریا، پرنٹنگ گم، پگمنٹ تھکنر، ووڈ فلور،جیوٹ ویسٹ، اسٹین لیس اسٹیل، ٹینڈ آئرن اور اسٹیل اسکریپ، لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، نوٹ بکس، ملٹی میڈیا کٹس، مائیکرو کمپیوٹر، پرسنل کمپیوٹر، کی بورڈز، ماؤس اور دیگر پوائنٹنگ ڈیوائسز، اسکینرز، فلاپی ڈسک ڈرائیوز، ہارڈ ڈسک ڈرائیوز، ٹیپ ڈرائیوز، سی ڈی روم ڈرائیو، ڈیجیٹل وڈیو ڈسک ڈرائیو، ریمووایبل اینڈ ایکسچینج ایبل ڈسک ڈرائیوز، کنٹرول یونٹ، کمپیوٹر کیسنگز، موڈیم، انرجی سیونگ لیمپ، انرجی سیونگ ٹیوب، سی این جی بسوں اور ایل پی جی بسوں، ڈریگرز اور نیٹ ورکنگ ایکوپمنٹ سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔

 

بجٹ میں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹیلی کمیونیکیشن سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کے بجائے وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری اور بلوچستان میں ٹیلی کمیونیکشن سروسز پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح ساڑھے19 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 18فیصد کرنے کی تجویزدی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئندہ مالی سال 2014-15 کے وفاقی بجٹ میں او جی ڈی سی ایل کو پاور جنریشن کمپنیوں کوگیس کی فروخت پر300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس عائد کرنے کی تجویز دیدی ہے۔

Published in بزنس

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2014-15کے بجٹ میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے مختلف شعبوں کے ذریعے دی جانے والی زراعانت (سبسڈی) میں 37 ارب روپے کمی کردی ہے۔

 

بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2013-14کے لیے سبسڈی کا ہدف 240ارب 43کروڑ روپے مقرر کیا گیا تاہم عوام کو سستی بجلی کی فراہمی کے لیے واپڈا، کیپکو اور کے الیکٹرک (سابق کے ای ایس سی) کے ذریعے سبسڈی میں غیرمعمولی اضافے کے سبب 2013-14 میں سبسڈی کی مالیت 323ارب روپے تک پہنچ گئی، حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے سبسڈی کا ہدف گزشتہ سال کے ابتدائی تخمینے کے مقابلے میں37 ارب روپے کم کرکے 203 ارب 24کروڑ روپے مقرر کیا ہے جو جی ڈی پی کے 0.7فیصد کے برابر ہے

۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران حکومت بجلی پر 185ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے گی، مالی سال 2013-14کے دوران بجلی پر 309.4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی جبکہ بجٹ میں220ارب رکھے گئے تھے، آئندہ مالی سال واپڈا اور پیپکو کے ذریعے 156.10ارب روپے اور کے الیکٹرک کے ذریعے 29ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی، سال 2013-14 کے لیے کے الیکٹرک کے ذریعے سبسڈی کا ابتدائی تخمینہ 55ارب روپے لگایا گیا تھا تاہم 64.31ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، اسی طرح واپڈ اور کیپکو کے لیے ابتدائی تخمینہ 165ارب روپے تھا جو سال 2013-14کے دوران بڑھ کر 245.10 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

 

حکومت نے رمضان پیکیج اور سستی چینی کی فراہمی کے لیے سبسڈی کی مالیت 1 ارب روپے کے اضافے سے 7ارب روپے مقرر کی ہے جس میں سے 3 ارب روپے رمضان پیکیج اور 4ارب روپے سستی چینی کی فراہمی کے لیے شوگر ملز کو دی جائیں گے، سال 2013-14کے دوران رمضان پیکیج پر2 ارب روپے اور سستی چینی پر 4ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، عوام کو سستی گندم کی فراہمی کیلیے سبسڈی کی مالیت 1ارب روپے کمی سے 8ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔

 

یہ سبسڈی پاسکو کے ذریعے دی جائیگی، مالی سال 2013-14کے لیے سستی گندم کی فراہمی پر سبسڈی کا تخمینہ 9ارب روپے لگایا گیا جو 8ارب روپے تک محدود رہا، آئل ریفائنریز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے عوام کو 2ارب روپے کی سبسڈی دی جائیگی، فاٹا میں سستی گندم کیلیے 29کروڑ 30لاکھ روپے، گلگت بلتستان میں سستی گندم کیلیے 85کروڑ روپے جبکہ گلگت بلتستان میں ہی نمک پر 50 لاکھ روپے کی سبسڈی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

Published in بزنس

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement