A+ R A-
27 جون 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

حامد میر پر حملہ اور ایک قومی ادارے پر الزام

Written by 
Rate this item
(0 votes)

تحریر: کمال عبد الجمیل

معروف صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ کیا گیا جسمیں وہ زخمی ہو گئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حامد میر پر حملے کے فوراً بعد انکے بھائی عامر میر اور انکے ادارے جیو کی طرف سے ملک کے اہم ترین ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس پر براہ راست الزام لگایا گیا نہ صرف ادارے بلکہ اس اہم قومی ادارے کے سربراہ حاضر سروس تھری سٹار جنرل146146 ظہیرالاسلام 145145کا نام لیا گیا۔ یہ سب کچھ بھونچال سے ہر گز کم نہیں کیونکہ آئی ایس آئی ایک ایسا ادارہ ہے جس سے ہر محب وطن پاکستانی کو نہایت ہی جذباتی لگاؤ اور محبت ہے۔ یہ محبت اور عقیدت اور بھی زیادہ ہوتی ہے جب اس ادارے کے خلاف مختلف عالمی طاقتیں اور ادارے بات کرتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے خواہشمند عالمی طاقتوں کی اولین خواہش اور کوشش یہی ہے کہ اس ہم قومی ادارے کو بدنام کیا جائے اور عوام کو اس سے متنفر کیا جائے تاہم ایسے حالات میں اس ادارے سے لگاؤ رکھنے والے پاکستانیوں کی بھی کمی نہیں جو ایسے پراپیگنڈوں اور ایسے کوششوں کا مختلف فورم پر جواب دیتے رہتے ہیں۔
حامد میر بھی اس ملک کے شہری ہیں اور ایک اہم نشریاتی ادارے میں کلیدی پوزیشن پر فائز ہیں، انکی اہمیت ، انکی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انکے خلاف بھی مختلف محاذوں پر باتیں ہوتی رہی ہیں، ان پر مختلف الزامات لگتے رہے ہیں۔ آزادی اظہار رائے کو استعمال کرتے ہوئے میر صاحب کے مختلف خیالات اور پروگرامات کو نا پسند بھی کیا جاتا رہا ہے ، مجھے بذات خود میر صاحب کے کئی ایک پروگرامات اور مندرجات سے اختلاف رہا ہے بالخصوص انہوں نے ملالہ یوسفزئی کو جسطرح ہائی لائٹ کرنے کی کوشش کی جو آگے چل کر پاکستان کے لئے کلنک بن گئی۔ کسی زمانے میں اس ناچیز کی بھی میر صاحب کیساتھ کافی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب میر صاحب روزنامہ اوصاف کے ساتھ منسلک تھے اور یہ ناچیز بھی اسلام آباد کے ایک اخبار اور پشاور کے ایک ہفتے روزہ کے لئے رپورٹنگ کرتا تھا۔ ان ملاقاتوں میں ان سے کافی معلومات ملیں، نصیحتیں، راہنمائی اور مشورے بھی ملے۔ غرض انہوں نے کافی تعاون بھی کیا۔ پھر میر صاحب سے رابطے ختم ہو گئے اور کوشش بسیار کے باوجود میر صاحب سے ملنا ممکن نہ ہوا۔ تب جا کے پتہ چلا کہ میر صاحب بھی اس ملک میں 146146 اہم ترین145145 شخصیت بن گئے ہیں۔
مکرر یہ عرض کرتا ہوں کہ حامد میر صاحب بھی اس ملک کے ایسے ہی شہری ہیں جیسے جنرل ظہیرالاسلام صاحب ہیں ۔ہم دونوں کو اس ملک کا اثااتھ ہر لحاظ سے ہمدردی ہے مگر بغیر کسی تردد کے اس امر کا اقرار بھی ایمان کا حصہ سمجھتا ہوں کہ ملک کے اہم ترین ادارے اور ادارے کے سربراہ کیخلاف براہ راست الزام لگانا مناسب نہیں کیونکہ اسوجہ سے کئی اور مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ جیو نیوز کے انتظامیہ کو نہایت محتاط انداز اپنانا چاہئے تھا اور عدالتی کمیشن کے انکوائری اور اسکے رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے تھا ۔ اس سارے عمل میں ملک بھر کے صحافی ، اخبارات، سول سوسائٹی، سیاستدان یعنی سب انکے ساتھ کھڑے رہتے مگر ملک کے اہم ترین ادارے اور اسکے سربراہ پر ابتدائی الزام تراشی کے بعد مسلسل اس کے تکرار نے صحافتی اداروں اور تنظیمات کو بھی تقسیم کرکے رکھدیا ہے۔ گو کہ حامد میر صاحب پر حملے اور اس کے غیر جانبدارانہ انکوائری کے حوالے سے تمام مکتبہ فکر ایک ہی صفحے پر ہیں مگر آئی ایس آئی اور اسکے سربراہ کو اس میں ملوث کرنے اور کسی انکوائری سے قبل بار بار اس چیز کو ہائی لائٹ کرنے سے ایک نئے مسئلے نے جنم لیا ہے۔
میرے خیال میں اب آئی ایس آئی سمیت دیگر اہم قومی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سارے سازش کو بے نقاب کریں کہ کن لوگوں نے حامد میر پر حملہ کیا اور اسکے پیچھے کیا عوامل تھے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ اس سلسلے میں کسی سے بھی رعایت نہ برتی جائے۔

Read 1280 times
Login to post comments

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement