A+ R A-
22 اگست 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

طاؤس ورباب تاریخی مغالطہ

Written by 
Rate this item
(0 votes)

 

 

 

ونسٹن چرچل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ جدید مصوری کی ایک نمائش میں وزیر اعظم برطانیہ کے طورپر مدعو ہوا‘ ایک صحافی نے پوچھاکہ سر…کیا آپ کو اس جدید مصوری کی سمجھ آتی ہے تو اس نے کہاکہ میں زندگی میں ایک نتیجے پر پہنچا ہوں او وہ یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ آپ ہر چیز یا نظریئے کو سمجھ سکیں…تو میں بھی سمجھ نہیں سکا لیکن سمجھنا چاہتا ہوں کہ کیوں صرف ہم پاکستانی ہیں جو‘شمشیر و سناں اول‘ طاؤس و رباب آخر کے تاریخی مغالطے کے فریب بھی مبتلا ہیں کہ دنیا میں جتنی بھی عظیم اور شاندار تہذیبوں نے جنم لیا ان سب میں شمشیر وسناں اور طاؤس ورباب ساتھ ساتھ چلے…

چلئے ہم کفار اوربے دین لوگوں کی تہذیبوں‘ رومن‘ فراغنہ کے مصر‘ بابل‘ نینوا‘ یونان‘ چین یا ہندوستان کی بات نہیں کرتے مسلمانوں کی عظمت کے دنوں میں جھانکتے ہیں…میں بہرطور ایک ادیب ہوں‘ دانشور یا محقق نہیں ہوں…جن دنوں یعنی آج سے تقریباً چالیس برس پیشتر کا قصہ ہے میں اپنے سفرنامے’’ اندلس میں اجنبی‘‘ کے لئے تاریخی مواد کی جستجو میں تقریباً ایک برس ہر دوپہر سے شام تک پنجاب پبلک لائبریری کے تہہ خانے میں براجمان ہو کر قدیم مخطوطوں اور بوسیدہ کتابوں کی ورق گردانی کیا کرتا تھا اور میں نے اندلس کی تاریخ‘ ثقافت اور تمدن کے جو حوالے نقل کئے وہ تقریباً ایک ہزار صفحوں پرمحیط ہوگئے‘ تب میں نے سوچا کہ ایک سفرنامے کی بجائے میں کیوں نہ اندلس کے بارے میں ایک تحقیقی اور تاریخی دستاویز تحریر کروں کہ میرے پاس مواد کی کثرت تھی اور پھر اس ارادے سے اس لئے باز آیا کہ محقق ایک نہایت کٹھور دل ناک کی سیدھ میں صرف حقائق کے حوالے دینے والا شخص ہوتا ہے…

 

وہ مسجد قرطبہ کی تاریخ‘ مختلف ادوار میں اس میں رونما ہونیوالی تبدیلیاں اور سلطانوں کے نام تو درج کرسکتا ہے لیکن اس میں جذبات نام کو نہیں ہوتے اور میں ایک آوارہ گرد جذباتی اوررومانوی خصلت کا مالک شخص تھا‘ میں مسجد قرطبہ و شام کے صحراؤں میں اک ہجوم نخیل…جس طور مجھ پر وارد ہوئی‘ لبنانی لڑکی ناژلاسعد کے سنگ میں نے اسکی ہر محراب کواپنے پپوٹوں سے محسوس کیا اس کے’’ صحن غارنجتان‘‘ کی نارنگیوں کی زردکھٹی خوشبو سے وجد میں آیا…میں نے تو اسے ان جذبات سے مغلوب ہو کر بیان کرنا تھا…چنانچہ میں نے اندلس کے بارے میں ایک تحقیقی دستاویز مرتب کرنے سے اجتناب کیا…

 

آپ ذرا اس حقیقت کو پرکھئے کہ علامہ اقبال اگر جذباتی اور رومانوی نہ ہوتے‘ صرف ایک محقق ہوتے تو کیا وہ’’ مسجد قرطبہ‘‘ ایسی شاہکار نظم تخلیق کر سکتے … بہرطور اندلس کا عہد جسے مسلمانوں کا سب سے زریں زمانہ گردانا جاتاہے اس تحقیق کے دوران آشکار ہوا کہ وہاں طاؤس و رباب کی کیسی قدرومنزلت تھی…وہاں کے گلوکار اور موسیقار ایسے تھے کہ پسماندہ یورپ کے لوگ ان کی پیروی کرتے تھے اور اس درخشاں دور کا سب سے درخشاں شخص موسیقار زریاب تھا…یہ زریاب ایک استاد گلوکار اور موسیقار ابن اسحاق کا شاگرد تھا‘ بغداد کے عباسی خلیفہ کے دربارمیں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا تھا…

 

کہا جاتا ہے کہ ایک روز گلوکاری میں وہ ایسی بلندیوں پر
پہنچ گیا کہ ابن اسحاق کو ماند کر دیا…تب زریاب کو اپنی جان کی فکر مندی ہوئی کہ کہیں میرا استاد طیش میں آکر مجھے قتل نہ کروا دے کہ ان زمانوں میں بھی یہی دستور تھا…زریاب اپنے چند ساتھیوں سمیت بغداد سے روپوش ہوا اور قرطبہ میں جاظاہر ہوا… قرطبہ کے سلطان کو اس کی آمد کی خبر ملی تو وہ اس کے استقبال کیلئے اپنے شاہی قصر سے باہر آگیا…زریاب سے کہا کہ جب تک آپ کے شایان شان رہائش کا بندوبست نہیں ہوتا آپ میرے محل میں قیام کرینگے اور میں اس دوران کہیں اور منتقل ہو جاؤں گا‘ زریاب نے قرطبہ کی زندگی میں ایک انقلاب برپا کر دیا…وہ محض موسیقار نہ تھا…

 

وہ پہلا شخص تھا جس نے چمڑے کا پوش ایجاد کیا کہ خوراک کو ننگی میز پر کھانا ذوق جمال کے منافی ہے…یورپ بھر کے حکمران ان زمانوں میں نہایت بدذوقی سے لکڑی کی میزوں پر دھری کچی پکی بکرے کی رانیں نگلا کرتے تھے اور حیرت درحیرت‘ کھانے کے دوران چھری کانٹے کا استعمال اس نے رائج کیا جسے ہم آج انگریزوں کی اختراع سمجھ بیٹھے ہیں اور انگلیاں چاٹنے کو ثواب گردانتے ہیں…زریاب ایک ڈریس ڈایزائنر بھی تھا…اس کے اختراع کردہ ملبوسات ماڈل زیب تن کر کے’’ کیٹ واک‘‘ کرتے… موسم سرما‘ گرما اور خزاں کے لباس وہ ڈیزائن کرتا اور انکی پیروی پورا یورپ کرتا جو ابھی تک جانوروں کی کھالوں میں ملبوس تھا۔ہم مسلمانوں کو دوخطے زیر کرنے کے بعد کچھ نفسیاتی مسائل نے آلیا‘ ایک ایران کی قدیم اور شاندار تہذیب تھی اور پھر ہندوستان کی ہزاروں برس پرانی عملی‘ ادبی اور روحانی ثقافت تھی…

 

ایران کا تذکرہ پھر کبھی سہی لیکن ہندوستان میں ہم نے اپنے آپ کو مکمل طورپر جدا کرنے کی خاطر ہر اس شے کو حرام قرار دے دیا جو یہاں کے باشندوںکی ثقافتی پہچان تھی اور اس میں شادی بیاہ اور موت کی رسوم‘ موسیقی اوررقص وغیرہ سرفہرست تھے…دنیا بھر میں جتنے بھی مسلمان خطے تھے وہاں موسیقی اور رقص کو کچھ پرابلم نہ تھی‘ صرف ہمارے ہاں تھی اور اب بھی ہے…لیکن ہم ان سے پیچھا نہ چھڑا سکے…برصغیر کے عظیم ترین کلاسیکی گلوکار سازندے اورموسیقار مسلمان تھے اور ہیں…البتہ ہم نے ایک اہتمام کیا۔

 

ہم نے قوالی کی صورت میں موسیقی کو متشرع کرلیا اور چونکہ بت پرستی ہماری سرشت میں تھی‘ ہم اس پر لعنت بھیجتے تھے لیکن ہم نے بتوں کی بجائے قبروں کو پوجنا شروع کر دیا…ان کی پرستش شروع کر دی… میری ساس صاحبہ…زینت بیگم…جن کے خاوند چوہدری عبدالرحمن شیرانوالا کے صوفی بزرگ مولانا احمد علی کے خلیفہ تھے جب کبھی مجھے اور اپنی بیٹی میمونہ کو ملنے کیلئے آتیں توہمیشہ شکایت کرتیں…اور وہ ہمیشہ ایک صوفیانہ صاف ستھرے لباس میں‘ دل نشیں ناک نقشے والی گڑیا سی بڑھیا ساس شکایت کرتیں کہ…مستنصر تمہارے گھرمیں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں میں نماز پڑھ سکوں…

 

ہر دیوار پر تصویریں ہیں اور مجسمے سجے ہیں‘ تو میں ان سے لاڈ کرتا ہوا کہتا‘ امی جی اگر آپ یہاں سجدے میں جاتی ہیں تو کیا مہاتمابدھ کا یہ قدیم گندھارا مجسمہ آپ سے شکایت کرتاہے کہ آپ ادھر کیوں سجدہ کرتی ہو…مجھے کیوں نہیں کرتیں…یقین کیجئے کہ جب کبھی میں نماز پڑھتا ہوں تو یہ مجسمہ مجھے کچھ نہیں کہتا…یہ میرے لئے محض ایک پتھر ہے…تو بجا طور پر وہ مجھ سے عارضی طورپر خفا ہو جاتیں۔
تو کیا ابھی تک ہماری آستینوں میں بت ہیں اور ہم حجالت اورشرمندگی میں طاؤس ورباب کو حرام قرار دیئے جاتے ہیں

 

 

 

Read 1582 times
Login to post comments

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement