A+ R A-
20 اکتوبر 2017
RSS Facebook Twitter Linkedin Digg Yahoo Delicious

Ads1

خواتین کا عالمی دن

Written by 
Rate this item
(0 votes)

تحریر: نگہت کمال (دروش)

آج 8مارچ ہے اور آج کا دن دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن مختلف ورکشاپ، آگاہی پروگرامات ، سیمینار وغیرہ منعقد

کرائے جاتے ہیں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں، گذشتہ سالوں میں ہونیوالے اہم واقعات کا احاطہ کیا جاتا ہے، خواتین پر ہونے والے مظالم ، خواتین کے مشکلات اور مسائل کو اجاگر کرنے کی باتیں ہوتی ہیں اور شامل ڈھلے سب کچھ ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ بہر حال 8مارچ کو عالمی سطح پر خواتین کے ساتھ منسوب کرکے شائد اقوام عالم نے معاشرے میں خواتین کے کردار اور اہمیت کو تسلیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ شاید کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ اس سلسلے میں دنیا کے ایک معقول طبقے کو تحفظات بھی ہیں اور شکایات بھی ہیں۔ آج جو لو گ خواتین کے حقوق اور خواتین کے مسائل کے بارے میں گلے پھاڑ پھاڑ کر چیختے ہیں اگر انہی کے معاشرے کی طرف دیکھا جائے تو وہاں خواتین کی جتنی تضحیک ، استحصال اور حقوق کی پامالی ہوتی ہے وہ مہذب معاشرے کے گال پر تھپڑ سے ہر گز کم نہیں۔
خواتین معاشرے کا اہم اور لازمی حصہ ہیں اور انہیں اہمیت آج سے پندرہ سو سال قبل ہادی بر حق حضور سرور کونین ؐ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قانون کے تحت مل چکی ہیں۔ عورت جسے معاشرے میں ہر قسم کے ظلم، زیادتی اور نا انصافی کا شکار بنایا جاتا رہا، صنف نازک جوہر وقت زیر عتاب رہتی رہی۔ اسلام سے پہلے عورتوں کا حال بہت خراب تھا۔ دنیا میں عورتوں کی کوئی عزت اور وقعت نہیں تھی۔ آمد مصطفیؐ اور شریعت محمدی ؐنے خواتین کو اذیت، بے اعتناعی اور بے رحمی کی زندگی سے چھٹکارا دلائی۔ عورت جسے حقیر سمجھی جاتی تھی اور پیدا ہوتے ہی زندہ دفنائی جاتی۔۔۔ اسلام نے اسے ماں کا درجہ دیکر جنت اسکے قدموں تلے رکھدی، بیٹی کا رتبہ دیکر اسے رحمت خداوندی قرار دیا اور بہو کی حیثیت سے قابل احترام اور خاندان کی عظمت قرار دیا۔ انہی تعلیمات کی روشنی میں مسلمان خواتین نے ہر وقت معاشرے کی تعمیر اور اصلاح میں مردوں کے شانہ بشانہ اپنا مثبت اور جاندار کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ مکہ مکرمہ میں ایک جگہ ہے جسے زندہ قبرستان کہا جاتا ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں پر زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفنایا جاتا تھا۔ اسلام میں مرد اور عورت کے حقوق برابر قرار پائے ہیں۔آج کا مغرب انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کے تحت عورتوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔
اس کرم کا کروں شکر کیسے ادا جو کرم مجھ پہ میرے نبی ؐ کردیا
جب ہمارے نبی پاک ؐ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دین اسلام لے کر تشریف لائے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی اور روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند و بالا ہو گیا کہ عبادات و معاملا ت بلکہ زندگی اور موت کے ہر مرحلے اور ہر موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں اور مردوں کی برابری کے درجہ پر پہنچ گئیں۔ مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر ہو گئے، اسلامی شریعت نے عورتوں کے حقوق کی ضمانت فراہم کی اور انکے حقوق کی حفاظت کیلئے اسلامی قانون کی ماتحتی میں عدالتیں قائم ہوگئیں۔ عورتوں کو مالکانہ حقوق حا صل ہو گئے چنانچہ عورتیں اپنے مہر کی رقموں، اپنی تجارتوں، اپنی جائیدادوں کی مالک بنا دی گئیں اور اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اولاد اور شوہر کی میراث کی بھی حقدار قرار دی گئیں۔ غرض وہ عورتیں جو مردوں کی جوتیوں سے بھی زیادہ ذلیل و خوار اور انتہائی مجبور و لاچار تھیں آمد اسلام کے بعد مردوں کے دلوں کا سکون اور انکے گھروں کی ملکہ بن گئیں۔ آج خواتین کے حقوق اور ترقی کے نام پر کام کرنے والے ادارے یہ سب بھول کر یا دانستہ طور پر پس پشت ڈال کر اسلام کو خواتین کی پسماندگی کا ذمہ دار قرار دیتے نہیں تھکتے۔ اسلام کے عادلانہ اور با عزت نظام حیات کو دوقیانوسی قرار دینے والے مغرب زدہ افراد یا ادارے یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو ایک با عزت مقام دیکر گھروں کی ملکہ بنایا لیکن جدت پسند معاشرہ ترقی کے نام پر عورت کی تذلیل کو آج بھی قبل از اسلام کے اقوام کی طرح جاری رکھنے کے درپے ہے اور عورتوں کو تشہیر کا آلہ اور ذریعہ بنا کر تحقیر کی حدوں کو پار کیا جا رہا ہے۔ یہ عجیب منطق ہے کہ ایک عورت اپنی دل بخوشی پردہ کرے تو اس پر قدغن لگائی جاتی ہے لیکن مخلوط میراتھن ریس، مخلوط رہن سہن کی حوصلہ افزائی کرکے ترقی کا خود ساختہ نام دیا جاتاہے۔ عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنیوالوں کو اس جانب توجہ دینی چاہئیے کہ ایسی خواتین کی نفسیاتی حیثیت کیسے رہتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایسے خواتین نفسیاتی امراض اور مایوسی کا شکار رہتی ہیں۔ عورت کوصرف کمائی کا ذریعہ بنانا یا اسکو موقع فراہم کرنے سے اسے اسکا حق نہیں ملتا بلکہ عورت کا حق اسے اسکے ضمیر اور نفسیات کیمطابق اسکی عزت و توقیر کی فراہمی سے اسکا حق دوبالا ہو تا ہے۔مقصد یہ ہے کہ صرف ایک دن کو عورت کے نام سے منسوب کرکے عورتوں کے حقوق اور ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر عورتوں کو حقیقی معنی میں خوشحال کرنا مقصود ہے تو اسکے لئے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفی ؐ نے آ ج سے پندرہ سو سال پہلے لائحہ عمل فراہم کی ہے جو کہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری نسل انسانی کیلئے مشعل راہ ہے اسی سے رجوع کرکے معاشرے میں خواتین کی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے اور خواتین پر ہونیوالے ہر قسم کے ظلم و زیادتی کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔
بڑے بڑے ہوٹلوں میں سیمینار ، ورکشاپ منعقد کرنے سے تھر کے صحرا میں بھوک اور فاقے سے مرنے والی خواتین کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔

Read 3528 times
Login to post comments

چارسده فیس بک پر لائک کریں

چارسده فوٹو گیلری

Advertisement